أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَثَلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ‌ اَعۡمَالُهُمۡ كَرَمَادِ ۨاشۡتَدَّتۡ بِهِ الرِّيۡحُ فِىۡ يَوۡمٍ عَاصِفٍ‌ؕ لَا يَقۡدِرُوۡنَ مِمَّا كَسَبُوۡا عَلٰى شَىۡءٍ‌ؕ ذٰ لِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ ۞

ترجمہ:

جن لوگوں نے اپنے رب کا کفر کی ان کے اعمال کی مثال راکھ کی طرح ہے جس پر سخت آندھی کے دن ہوا کا تیز جھونکا آئے گا، انہوں نے جو کچھ بھی عمل کیا ہے وہ اس پر بالکل قادرنہ ہو سکیں گے یہی بہت دور کی گمراہی ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں نے اپنے رب کا کفر کیا ان کے اعمال کی مثال راکھ کی طرح ہے جس پر سخت آندھی کے دن ہواکا تیز جھونکا آئے انہوں نے جو کچھ بھی عمل کیا ہے وہ اس پر بالکل قادر نہ ہو سکیں گے یہی بہت دور کی گمراہی ہے۔ (اے مخاطب) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ اگر چاہے تو تم سب کو فنا کردے اور نئی مخلوق لے آئے۔ اور یہ اللہ پر کوئی مشکل نہیں ہے۔ (ابراھیم :18 ۔ 20) 

کفار کے اعمال کی راکھ کے ساتھ وجہ مشابہت : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعال نے آخرت میں کفار کے انواع اقسام کے عذاب کا ذکر فرمایا تھا اور اس آیت میں بتایا کہ ان کے تمام اعمال ضائع ہوچکے ہیں اور وہ اخرت میں ان سے کوئی نفع حاصل نہیں کرسکیں گے اور اس وقت ان کا مکمل نقصان ظاہر ہوجائے گا کیونکہ دنیا میں انہوں نے اپنے خیال میں جو کچھ بھی نیک اعمال کیے تھے وہ آخرت میں باطل ہوچکے ہوں گے اور یہ مکمل نقصان ہے۔ 

کفار کے اعمال اور اس مثال میں درجہ مشابہت یہ ہے کہ جس طرح تیز آندھی راکھ کو اڑاکر لے جاتی ہے اور اس راکھ کے اجزاء اور ذرات متفرق اور منتشرہو جاتے ہیں اور اس راکھ کا کوئی اثر اور کوئی نشان اور اس کی کوئی خبر باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح ان کے کفر نے ان کے تمام اعمال کو باطل کردیا اور ان کے کسی عمل کا کوئی اثر اور نشان باقی نہ رہا۔

ان کے اعمال سے مراد ہے وہ اعمال جو انہوں نے اپنے زعم میں نیکی کی نیت سے کیے تھے مثلا صدقہ خیرات رشتہ داروں سے حسن سلوک اور بھوکوں کو کھانا کھلایا غلامو‏ کو آزاد کرنا اور مہمانوں اور مسافروں کی تعظیم و توقیر کرنا ان کے کفر کی وجہ سے تمام اعمال باطل ہوگئے اور اگر انہوں نے کفر نہ کیا ہوتا تو وہ ان اعمال سے فائدہ اٹھاتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان اعمال سے مراد ہو ان کا بتوں کی عبادت کرانا اور انہوں نے نجات کی توقع پر جو سخت مشقت والے کام کیے تھے اور ان کے نقصان کی وجہ یہ ہے کہ ہے کہ انہوں نے بڑعرصہ تک یہ مشقت والے کام کیے تاکہ آخرت میں ان کا نفع حاصل ہو لیکن انجام کار ان کے لیے یہ کام باعث عذاب بن گئے۔

تمام مخلوق کی پیداش مبنی بر حکمت ہے : 

اس مثال کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں یہ بتایا ہے کہ ان کے اعمال ضائع ہوئے ہیں تو اس آیت میں یہ بتایا کہ اس بطلان اور ضیاع کی وجہ سے ان کا کفر ہے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا اور اور اس کی عبادت سے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ مخلصین کے اعمال ضائع نہیں فرماتا اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے اور اس نے اس جہان میں ہر چیز حکمت کے موافق پیدا فرمائی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے یعنی اس نے کسی چیز کو باطل اور بےفائدہ نہیں پیدا فرمایا ہر چیز کی خلقت کسی حکمت بالغہ پر مبنی ہے اور اس کا یہ معنی بھی ہے کہ آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت اور اس کی وحدانیت اور اس کے استحقاق عبادت پر دلالت کرتے ہیں۔ 

پھر فرمایا اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے یعنی جو آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ اس بات پر بہ طریق اولی قادر ہے کہ وہ ایک قوم کو فنا کر دے اور اس کی جگہ دوسری قوم کو پیدا کر دے کیونکہ جو کسی مشکل اور سخت چیز کے پیدا کرنے پر قادر ہو وہ سہل اور آسمان چیز کے پیدا کرنے پر بہ ددرجہ اولی قادر ہوگا حضرت ابن عباس (رض) عنما فرمایا اس آیت میں کفار مکہ کے ساتھ خطاب ہے کہ اے کفار کی جماعت ! میں تم کو مار کر تمہاری جگہ اور مخلوق پیدا کردوں گا جو میری فرماں برادر اور اطاعت گزار ہوگی پھر فرمایا کہ یہ اللہ پر کچھ مشکل نہیں ہے کیونکہ جو آسمانوں اور زمینوں جیسی عظیم مخلوق پیدا کرچکا ہے اس کے لیے تمہیں مار کر تمہاری جگہ نئی مخلوق پیدا کرنا کی مشکل ہے !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 18