نیک عورت کے لئے نبی کی دعا

جو عورت نیک اور دیندار ہوتی ہے اور اپنے شوہر سے سچی محبت کے ناطے نیک کاموں کا حکم دینے والی ہوتی ہے وہ بارگاہ خودا و رسول کی پسندیدہ عورت ہے نبی اکرم نور مجسم ﷺ نے اس کے لئے دعائے خیر و برکت فرمائی 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا رحم امراٗۃ قامت من اللیل فصلت و ایقظت زوجھا فصلیٰ فان ابیٰ نضحت فی وجھہ المآء، کو عورت رات کو بیدار ہو نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو جگائے کہ وہ نماز پڑھے اور اٹھنے سے انکار کر جائے تو اسکے منھ پر چھینٹا مارے تو ایسی عورت پر خدا کی رحمت ہو (ابو داوٗد ج۱ ص ۱۸۵)

ایک زمانہ تھا کہ مسلمانوں میں نماز اسلام کی علامت تھی،اسکا بالارادہ ترک کفر تھا جیسے سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا من ترک الصلوٰۃ متعمدا فقد کفر،جسنے قصدا نماز ترک کی اسنے کفر کیا،مگر رفتہ رفتہ جیسے زمانہٗ نبوی سے دوری ہوتی گئی لوگوں میں غفلت آتی گئی اور اس علامت میں فرق آیا اور ترک صلوٰۃ پر کفروالا فتویٰ اٹھا لیا گیا،اور اب تو لوگوں میں اس قدر غفلت آگئی کہ زیادہ تر لوگ نماز نہیں پڑھتے،اور جو پڑھتے ہیں وہ بھی فجر میں غفلت کے شکار ہیں،جو مسلمان نماز جیسے اہم فرض سے غافل ہوں ان سے اور کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ مرد حضرات تو بعض نمازیں بھی پڑھتے ہیں عورتوں میں تو نماز کی اس قدر غفلت ہے کہ خدا خیر کرے،عورتیں اپنا ماحول درست کرلیں تو انکی وجہ سے زیادہ نہیں تو انکے شوہر تو نمازی اور مذہبی بن جائیںگے؟ ہمارے پیارے آقانے اس عورت کے لئے دعائے خیر و برکت فرمائی جو دوسری نمازوں میں تو غفلت نہیں کرتی فجر جیسی نماز جو صبح سویرے اداکی جاتی ہے وہ پڑھتی ہے اور اپنے شوہر کو بھی اٹھا کرادا پڑھاتی ہے اور کبھی نہیں اٹھتا تو پانی کے چھینٹے دیکر اسے اٹھاتی ہے،اسے کتنا پیار ہے اپنے شوہر سے کہ خود کی نماز قضا نہیں کرتی اور شوہر کی نماز بھی قضا نہیں ہونے دیتی

نبی کی دعا میں شرکت اختیاری ہے

عورتوں کو نبی ﷺ کی دعا میں شرکت کرنی ہو تو یہ ان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ مذہبی بن جائیں اور اپنے گھر والوں کو مذھبی بنانے میں کوشاں ہو جائیں،نبی ﷺ کی دعا میں ان کی شرکت ہوجائے گی،حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سچی محبت یہ ہے دیندار بنا جائے اور گھروالوں کو بنایا جائے