أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاسۡتَفۡتَحُوۡا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍعَنِيۡدٍۙ ۞

ترجمہ:

اور رسولوں نے فتح کی دعا کی اور ہر ظالم ضدی ہلاک ہوگیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور رسولوں نے فتح کی دعا کی اور ہر ظالم ضدی ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد دوزخ ہے اور اس کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ وہ اسے ایک ایک گھونٹ بھر کے مشکل سے پیے گا اور اس کو حلق سے نہیں اتار سکے گا اور اس کو ہر جگہ سے موت گھیر لے گی اور وہ مرے گا نہیں اور اس کے بعد ایک اور سخت عذاب ہے۔ (ابراھیم :17 ۔ 15) 

جبار اور عنید کا معنی : 

رسولوں نے امتوں کے کافروں اور اپنے دشمنوں کے خلاف دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو کافروں کے خلاف فتح عطا فرمائے جیسا کہ اس آیت میں ہے : 

رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ ( الا عراف : ٨٩) اے ہمارے رب ! ہمارے مخالف لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمادے اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ 

اور جب کہ اس دعا کا نتیجہ یہ تھا کہ فتح اور نصرت انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کے لیے ہوا اور ناکامی، نامرادی نقصان اور ہلاکت کفار اور مشرکین کے لیے ہو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہر جبار اور عنید ناکام اور نامراد ہوگیا۔ 

جبار کا لفظ جبر سے بنا ہے اور یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جبر کا معنی ہے زبر دستی سے کسی چیز کی اصلاح کرنا انسانوں میں جبار اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی منصب کا اہل نہ ہو اور تکلف اور زبر دستی سے اس منصب پر قابض ہو اور دباؤ ہو جیسے قرآن مجید میں ہے : 

وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ (ق :45) آپ ان پر زبر دستی کرنے والے تو نہیں ہیں۔ 

جبار اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے بھی ہے اور یہاں جبار کا معنی ہے لوگوں کے نقصانات پورے کرنے والا اور ان کی اصلاح کرنے والا، جبار کا ایک اور معنی کے لحاظ سے جبار اللہ تعالیٰ کی اس لیے صفت ہے کہ اس نے اس نظام کا ئنات کو جبر سے اپنے تابع اور مسخر کیا ہوا ہے اور یہ تمام کائنات مجبورا اس کی اطاعت کر رہی ہے اور انسان بھی قضاء وقدر سے مجبور ہے، امور تشریعیہ میں انسان مختار ہے اور امور تکوینیہ میں انسان مجبور ہے، مثلا اپنے وقت پر پیدا ہونے میں اور اپنے وقت پر مرنے میں انسان مجبور ہے سورج، چاند، اور ستارے اپنے وقت پر طلوع اور غروب میں مجبور ہیں اور ہر چیز کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کام مقرر فرمادیا ہے سہ اس کام میں مجبور ہے اور جبر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے جبار کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے حمد ہے او انسانوں کے لیے جبار کا لفظ مذمت ہے جیسا کہ متکر اللہ کے لیے حمد ہے اور مخلوق کے لیے مذمت ہے۔ اس آیت میں جبار سے مراد وہ شکص ہے جو نیک اور شرافت انسانوں پر دھونس اور دباؤ ڈالے اور دھونس اور داباؤ ذریعہ حق سے انحراف کرے اور اللہ کی اطاعت کرنے والے اور انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لانے کو اپنی شان کے خلاف سمجھے۔

عنید کے معنی ہیں عناد رکھنے والا مخالف اور ضدشخص علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے ہے عنید وہ شخص ہے جو ان چیزوں پر اتراتا ہو جو اس کے پاس ہیں بعض علماء نے کہا ہے عنید وہ شخص ہے جو حق کو جاننے اور پہچاننے کے باوجود اس کا انکار کرتا ہو اور بعض نے کہا ہے کہ صراط مستقیم سے منحرف ہونے والے کو عنید کہتے ہیں اس آیت میں بھی عنید کا یہی معنی مراد ہے قرآن مجید میں ہے، 

أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ (٢٤) مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُرِيبٍ (٢٥) ہر بڑے ناشکرے، حق کے مخالف کو جہنم میں ڈالدو۔ جو نیکی سے بہت منع کرنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا ہے۔ 

وراء کا معنی : 

اس کے بعد فرمایا من ورئہ جھنم، وراء کا معنی پیچھے ہے لیکن مفسرین نے کہا یہاں اس کا معنی آگے ہے کیونکہ جو چیز ایک اعتبار سے پیچھے ہو وہ دوسرے اعتبار سے آگے ہوتی ہوتی ہے مثلا امام محراب مسجد کی دیوار کے پیچھے ہوتا ہے اور مقتدیوں کے آگے ہوتا ہے اس لیے آگے اور پیچھے ہونا ایک اضافی معنی ہے قرآن مجید میں وراء کا لفظ آگے کے لیے بھی مستعمل ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے : 

وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا ( الکھف : ٧٩) ان آگے ایک باشاہ تھا جو ہر (بےعیب کشتی کو زبر دستی چھین لیتا تھا۔ 

لہذا اس آیت کا معنی ہوگا اس ظالم کے آگے دوزخ علامہ قرطبی نے اس کا معنی بعد کیا ہے ہم نے بھی ان کی اتباع کی ہے یعنی اس کافر نے ہلاک ہونے کے بعد جہنم میں جانا ہے۔ 

دوزخ کے پانی کی کیفیت : 

اس کے بعد فرمایا : اور اس کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ یعنی دوزخ میں صرف پیپ کا پانی ہوگا اس سے مراد وہ پانی ہے جو اہل دوزخ کی کھالوں اور ان کے گوشت سے بہتا ہو انکلے گا وہ خون اور پیپ سے مخلوط ہوگا اور یہ سخت گرم اور کھولتا ہوا پانی ہوگا قرآن مجید میں ہے : 

ھذا فلیذوقوہ حمیم و غساق۔ ص : ٥٧) یہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ کہے اس کو چکھیں۔ 

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابراھیم : 16 کی تفسیر میں فرمایا : وہ پانی اس کے مونہہ کے قریب لایا جائے گا سو وہ اکو ناپسند کرے گا جب وہ اس کے زیادہ قرین کی جائے گا تو اس کا چہرہ جل جائے گا اور اس کے سر کی کھال گرجائے گی اور جب وہ اس کو پیئے گا تو وہ پانی اس کی انتڑیاں کاٹ دے گا حتی کہ اس انتڑیاں اس کی سرین سے نکل جائیں گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ ( محمد : ١٥) ان کو کھولتا ہو پانی پلا یا جائے گا تو وہ ان کی انٹریاں کاٹ دے گا۔ 

وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ ( الکھف : ٢٩) اور اگر وہ پیاس کی وجہ سے فریاد کریں تو اس پانی سے ان کی فردرسی کی جائے گی جو پگھلتے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو جلادے گا سو وہ کیسا برا پینا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2583، مسند احمد ج 5 ص 265، المعجم الکبیر رقم الحدیث :7460) 

دوزخیوں کے عذاب کی کیفیت اور ان پر موت کا نہ آنا : 

اس بعد فرمایا : اور اس ہر جگہ سے موت گھیرے گی اور وہ مرے گا نہیں۔ 

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد ` جوزی جنبلی متوفی 597 ھ نے لکھا ہے اس آیت کی تفسیر میں تین قول ہیں۔

(1) عطانے حضرت ابن عباس سے روایت کیا اس کے جسم کے ہر بال سے موت اس کو گھیر لے گی، سفیان ثوری نے کہا اس کی ہر رگ سے اس کو موت گھیر لے گی ابن جریج نے کہا اس کی روح اس کے نرخرہ پر پہنچ کر رک جائے گی اور اس کے منہ سے نہیں نکلے گی حتی کہ وہ مرجائے گا اور نہ واپس جائے گی تاکہ اس کو راحت ملے۔ 

(2) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ موت اس کو ہر جہت سے گھیر لے گی اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں سے آگے سے اور پیچھے سے۔ 

(3) اخفش نے کہا دوزخ میں کافر پر جو مصائب اور بلائیں آئیں گی ان کو موت سے تعبیر فرمایا ہے۔ (زادلمسیر ج 4 ص 354 ۔ 353، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، 1407 ھ) 

حضرت ابن عباس (رض) کے دوسرے قول کی تائید میں یہ آیت ہے : 

لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ( الزمر : ١٦) ان کے لیے ان کے اوپر آگ کے بادل ہوں گے اور ان کے نیچے (بھی) آگ کے بادل ہو گے۔ 

ابراھیم التیمی نے کہا ان کے جسم کے روئیں روئیں میں موت سرایت کر جائے گی کیونکہ ان کو جسم میں ہر جگہ شدید تکلیف ہورہی ہوگی ایک قول یہ ہے کہ ان کے ہر ہر عضو میں کسی نہ کسی قسم کا عذاب پہنچ رہاہو گا۔ اگر ایک لمحہ میں اس پر ستر مرتبہ بھی موت آجاتی تو یہ اس پر آسمان ہوتا اس کو سانپ بھنبھوڑ رہے ہوں گے بچھوڈنک لگا رہے ہو گے آگ جلاکر سیاہ کر رہی ہوگی پیروں میں بیڑیا ہوں گی گلے میں طوق ہوگا زنجیروں سے جکڑا ہوا ہوگا کھانے کے لیے زقوم کا درخت پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور ان گنت قسم کے عذاب ہو گے جب کافر دوزخ میں پانی مانگے گا تو پانی دیکھ کر ہی اس کو موت نظر آئے گی جب وہ پانی اس کے قریب ہوگا اور اس کی تپش سے وہ جلنے لگے گا اس کو پھر موت نظر آئے گی اور جب وہ اس پانی کو پئیے گا جس سے اس کا مونہہ جل جائے گا، انتڑیاں کٹ جائیں گی تو یہ اس کو ایک اور موت معلوم ہوگی اس لیے فرمایا ؛ اس کو ہر جانب سے موت گھیر لے گی لیکن وہ مرے گا نہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے جسم میں طرح طرح کے درد پیدا کرے گا جن میں سے ہر درد میں اس کو موت کا مزہ آئے گا لیکن وہ مرے گا نہیں اللہ تعال فرماتا ہے : 

وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا ( فاطر : ٣٦) کافروں کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ ان پر قضا آئے گی کہ وہ مرجائیں اور نہ ان کے عذاب کو کم کیا جائے گا۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل جنت سے کہا جائے گا ہمیشہ رہنا ہے موت نہیں ہے۔ اور دوزخ والوں سے کہا جائے گا اے دوزخ والو ! ہمیشہ رہنا، موت نہیں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث مسند احمد رقم الحدیث :8516، عالم الکتب، صحیح ابن حبان رقم الحدیث 7449) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب جنت والے جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخ والے دو خ میں چلے جائیں گے تو موت کا لایا جائے گا حتی کہ اسے جنت کے اور دوزخ کے درمیان میں رکھ دیا جائے گا پھر اس کو ذبح کردیا جائے گا پھر ایک منادی نداکرے گا اے جنت والو ! موت نہیں ہے اور اے دوزخ والو ! موت نہیں ہے پھر جنت والوں کو خوشی بہت بڑھ جائے گی اور دوزخ والوں کا غم بہت زیادہ ہوجائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6548، صحیح مسلم رقم الحدیث : 2850، مسند احمد رقم الحدیث 6138) 

عذاب غلیظ کا معنی : 

اس کے بعد فرمایا : اور اس کے بعد ایک اور سخت عذاب ہے قرآن مجید میں ہے ایک اور عذاب غلیظ ہے یعنی بہت شدید عذاب ہے جو مسلسل ہے ایک قسم کے درد کے بعد دوسرادرد اس کے متصل شروع ہوجاتا ہے اور ہو بہت سخت ہے۔ قرآن مجید کی حسب ذیل آیات سے اس عذاب غلیظ کی کچھ وضاحت ہوتی ہے : 

أَذَلِكَ خَيْرٌ نُزُلا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ (٦٢) إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِلظَّالِمِينَ (٦٣) إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ (٦٤) طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ (٦٥) فَإِنَّهُمْ لآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ (٦٦) ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ (٦٧) ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لإلَى الْجَحِيمِ (٦٨) کیا یہ جنت کی مہمانی بہتر ہے یا زقوم کا درخت۔ بیشک ہم نے اس زقوم کی ظالموں کے لیے عذاب بنایا ہے۔ بیشک وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی جڑ سے نکلتا ہے۔ اس کے شگوفے شیطانوں کے سروں کی طرح ہیں۔ پھر بیشک ان کے لیے اس پر پیپ کا ملا ہوا سخت گرم پانی ہوگا۔ پھر شک ان کا ضرور درزخ کی طرف لوٹنا ہوگا۔ 

بعض علماء نے کہا ہے کہ عذاب غلیظ کا معنی غیر منقطع اور غیر متناہی عذاب یا ایسا عذاب جو ہر بعد والی ساعت میں پہلی ساعت سے زیادہ ہوتا ہے جیسا کہ ان آیتوں سے ظاہر ہوتا ہے : 

إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ (٤٣ طَعَامُ الأثِيمِ (٤٤) كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ (٤٥) كَغَلْيِ الْحَمِيمِ (٤٦) خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ (٤٧) ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ (٤٨) ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ ( الدخان : ٤٩) بیشک زقوم کا درخت۔ گناہ گاروں کا کھانا۔ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹو میں جوش مارے گا۔ جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔ ساے پکڑو، پھر زور سے گھسیٹتے ہوئے جہنم کے وسط تک لے جاؤ۔ پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب ڈالو۔ لے چکھ ! بیشک تو بڑا معززمکرم ہے۔ 

وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ (٤١) فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ (٤٢) وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ (٤٣) لا َارِدٍ وَلا كَرِيمٍ (الواقعہ :41 ۔ 44) اور بائیں طرف والے، کیسے برے ہیں بائیں طرف والے۔ (دوزخ کی) جلانے والی آگ اور دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ جو نہ ٹھنڈاہو گا نہ سو دمند۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 15