أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاُدۡخِلَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡ‌ؕ تَحِيَّتُهُمۡ فِيۡهَا سَلٰمٌ ۞

ترجمہ:

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے دریا بہتے ہیں وہ اپنے رب کے اذن سے ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ایک دوسرے سے ان کا کہنا ہوگا سلام ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ اپنے رب کے اذن سے ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ایک دوسرے سے ان کا کہنا ہوگا : سلام ہو۔ (ابراھیم : 23) 

جنت میں سلام کا معنی : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور بدکاروں کے احوال تفصیل سے بیان فرمائے، اور اب اس آیت سے مومنوں اور نیکوکاروں کے احوال بیان فرمارہا ہے سو اس آیت میں بیان فرمایا کہ اللہ اذن سے ان کو جنت کی دائمی نعمتیں عطا فرمائی جائیں گی اور اللہ کے اذن سے ان کو نعمتیں ملنا بھی ان کے حق میں ایک نوع کی تعظیم ہے اور وہ خود بھی ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہوئے ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور فرشتے بھی ان کی تعظیم کرتے ہوئے ان کو سلام کریں گے : 

وَالْمَلائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ (٢٣) سَلامٌ عَلَيْكُمْ (٢٤) اور فرشتے ہر دروازہ سے ان پر یہ کہتے ہوئے داخل ہوں گے رم پر سلام ہو۔ 

جنت میں سلام کا معنی یہ ہے کہ وہ دنیا کی آفات اور دنیا کی حسرتوں یا دنیا کی بیماریوں اور دردوں اور دنیا کے غموں اور پریشانیوں سے سلامت ہوگئے اور دنیا کے فانی جسموں سے نکل کر جنت کے دائمی جسموں میں منتقل ہوجانا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 23