أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ جَمِيۡعًا فَقَالَ الضُّعَفٰۤؤُا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا كُنَّا لَـكُمۡ تَبَعًا فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّغۡـنُوۡنَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ‌ؕ قَالُوۡا لَوۡ هَدٰٮنَا اللّٰهُ لَهَدَيۡنٰكُمۡ‌ؕ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَجَزِعۡنَاۤ اَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَــنَا مِنۡ مَّحِيۡصٍ۞

ترجمہ:

اور آخرت میں سب اللہ کے سامنے پیش ہوئے تو کمزور لوگوں نے بڑوں سے کہا ہم (دنیا میں) تمہاری پیروی کرتے تھے پس کیا تم ہم سے اللہ کے عذاب کو کچھ کم کرسکتے ہو ؟ انہوں نے کہا اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تم کو ضرور ہدایت دیتے ! ہمارے لیے برابر ہے کہ ہم فریاد کریں یا صبر کریں ہمارے لیے (عذاب سے) بالکل چھٹکارا نہیں ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آخرت میں سب اللہ کے کے سامنے پیش ہوئے تو رکمزور لوگوں نے بڑوں سے کہا ہم دنیا میں تمہاری پیروی کرتے تھے پس کیا تم ہم سے اللہ کے عذاب کو کچھ کم کرسکتے ہو ؟ انہوں نے کہا اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تم کو ضرور ہدایت دیتے ! ہمارے لیے برابر ہے کہ ہم فریاد کریں یا صبر کریں ہمارے لیے عذاب سے با لکل چھٹکارا نہیں ہے، (ابراھیم : 21) 

برزوا کامعنی : 

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : برز، بروز سے بنا ہے براز کھلے میدان کو کہتے ہیں بروز کا معنی ظہور ہے یا تو کوئی چیز از خود ظاہر ہوجائے جیسے قرآن مجید میں ہے : 

وَتَرَى الأرْضَ بَارِزَةً (الکھف :47) آپ دیکھیں گے کہ زمین کھلا ہو میدان ہے۔ 

اس آیت میں زمین کا صاف طور پر کھلا ہوا ہونا مراد ہے کیونکہ اس دن زمین کی تمام عمارتیں پر رہنے والے تمام لوگ فان ہو ہوچکے ہوں گے اور اس کے بعد حشر شروع ہوگا بروز کے معنی یہ بھی شامل ہے کہ جو چیز پہلے چھپی ہوئی ہو وہ ظاہر ہوجائے اسی وجہ سے جو شخص میدان جنگ میں صف سے نکل کر دشمن کو مقابلہ کے لیے للکارا اس کو مبارز کہتے ہیں قرآن مجید میں ہے : 

لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ (آل عمران :154) جن لوگوں کا قتل ہونا مقدر کردیا گیا ہے وہ اپنے مقتل کی طرف ضرور ظاہر ہوں گے۔ 

جس جگہ قضاء حاجت کی جاتی ہے اس جگہ کو بھی براز کہتے ہیں اور جو چیز قضاء حاجت کے وقت نکلتی ہے اس کو بھی براز اس لیے کہتے ہیں کہ ایک چھپی ہوئی چیز ظاہر ہوجاتی ہے۔ (المفردات ج 1 ص 55 ۔ 54، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ 1418 ھ) 

بروز کے معنی پر ایک اعتراض کا جواب : 

اگر چہ سب لوگ حشر کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے لیکن چونکہ ایسا ہونا یقینی ہے اس لیے ماضی کے صیغہ سے فرمایا اور آخرت میں سب لوگ پیش ہوئے نیز جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ جو چیز پہلے چھپی ہوئی ہو اور وہ پھر ظاہر ہوجائے تو اس کو بروز کہتے ہیں حشر کے دن جو کفار اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے اس کو بروز فرمایا ہے اب اس پر یہ اعتراض ہے کہ کفار اللہ تعال سے تو چھپے ہوئے نہ تھے تو پھر ان کے پیش ہونے کو بروز کیون فرمایا اس کا جواب یہ ہے کہ کفار فحش اور بےحیائی کے کام لوگوں سے چھپ کر کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ان یہ کام اللہ سے بھی مخفی ہیں لیکن قیامت کے دن ان پر یہ منکشف ہوگا کہ وہ خود اللہ تعالیٰ سے مخفی نہ تھے نہ ان کا کوئی کام اللہ تعالیٰ سے مخفی تھا خلاصہ یہ ہے کہ وہ فی نفسہ مخفی نہ تھے بلکہ اپنے زعم میں مخفی تھے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوئے دوسرا جواب یہ ہے کہ وہ پہلے قبروں میں چھپے ہوئے تھے پھر قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوئے اس کی نظیر یہ آیت ہے : 

يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ (٩) فَمَا لَهُ مِنْ قُوَّةٍ وَلا نَاصِرٍ (الطارق :9 ۔ 10) جس دن سینوں کی چھپی ہوئی باتیں ظاہر کردی جائیں گی، اور اس دن اس کی کوئی طاقت نہ ہوگی نہ کوئی مددگار ہوگا۔ 

اس دن لوگوں کا باطن دوسروں پر ظاہر ہوجائے گا اور ان کے جو افعال اور احوال مخفی تھے وہ سب پر منکشف ہوجائیں گے جو انسان نیکیوں میں سے ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی پاکیزہ صفات روشن چہرے اور صاف روح کے ساتھ پیش ہوگا اور اس کے لیے نور جلال کی تجلیات ظاہر ہوں گی اور اس کی عظمت کو واضع کیا جائے گا اور جو انسان بدکاروں میں سے ہوگا وہ انتہائی شرمندگی روسیاہی اور رسوائی کے ساتھ پیش ہوگا اور اس دن عام بت پرست اپنے سرداروں سے کہیں گے کیا تم ہم سے اللہ کے عذاب میں کچھ کمی کر اسکتے ہو یا اس عذاب سے دور کرسکتے ہو ہم تو تمہاری اتباع اور پیروی میں بتوں کی پرستش کرتے تھے، پھر ان کے سردار انتہائی عجز، ذلت اور رسوائی کے ساتھ کہیں گے خواہ ہم روئیں یا صبر کریں ہماری عذاب س نجات نہیں ہوسکتی اور بت پرستوں کا اپنی عاجزی کا اعتراف کرنا ان کی ذلت اور رسوائ کا ظاہر کرے گا اور اس آیت سے مقصود ان کی ندامت شرمندگی اور رسوائی کو ظاہر کرنا ہے اور دیگر جسمانی عذاب کے علاہ یہ ان کے لیے نفسیاتی اور روحانی عذاب ہوگا۔ 

امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہی کہ بعض سے کہیں گے کہ جنتی لوگ اللہ کی بارگاہ میں رونے اور فریاد کرنے کی وجہ سے جنت میں پہنچے ہیں آؤ ہم مل کر روئیں اور فریاد کریں شاید ہمیں جنت مل جائے وہ روتے اور فریاد کرتے رہیں گے پھر جب وہ دیکھیں گے کہ ان کے رونے سے کچھ فائدہ نہیں ہوا تو وہ کہیں گے جنتی لوگ مصائب پر صبر کرنے کی وجہ سے جنت میں پہنچے ہیں آؤہم صبر کرتے ہیں پھر وہ صبر کریں گے لیکن اس پر بھی کوئی ثمرہ مرتب نہیں ہوگا پھر وہ کہیں گے کہ خواہ ہم روئیں یا صبر کریں ہم کو عذاب سے نجات ملے گی۔ ( جامع البیان رقم الحدیث :15638، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ) 

اس اعتراض کا جواب کہ جب اللہ نے کافروں کو ہدایت نہیں دی تو کفر میں ان کا کیا قصور ہے ؟

اس آیت میں ذکر ہے کہ کافر کے سردار کہیں گے کہ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تم کو ضرور ہدایت دیتے ! اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کافروں نے بت پرستی کی تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ہی ہدایت نہیں دی تھی ! اس کا جواب یہ ہے کہ ہدایت اور گمراہی کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس چیز ککو پیدا کرتا ہے جس کا بندہ ارادہ کرتا ہے جو ہدایت کا ارادہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہدایت پیدا کر یتا ہے اور جو گمراہی کا ارادہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے گمراہی پیدا کردیتا ہے، یہ ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے پیدا نہیں کی لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہدایت کے حصول کا راداہ نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے انبیاء رسل بھیجے، معجزات نازل کیے کتابیں اور صحائف اتارے کائنات کے چپہ چپہ میں اپنی الوہیت کی نشانیاں رکھیں اس باوجود انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کی آیات کا نکار کیا سو اللہ ان کو ہدایت دینے کے اسباب مہیا کیے تھے لیکن وہ خود ہی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو قبول کرنے والے نہ تھے پھر اللہ تعالیٰ کی شکایت کرنے کا کیا جواز ہے ! اس آیت کی یہ تاویل بھی کی گئی ہے جب عام کفار اپنے سرداروں سے کہیں گے کیا تم ہمارے عذاب میں کمی کرسکتے ہو یا ہمیں عذاب سے نجات دلواسکتے ہو تو وہ کہیں گے کہ اگر اللہ ہمیں جنت کی طرف ہدایت دے گا تو ہم تمہیں بھی جنت کی طرف ہدایت دیں گے یا اگر اللہ ہمیں عذاب سے نجات دے گا تو ہم تمہیں بھی عذاب سے نجات دے دیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 21