أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِرُسُلِهِمۡ لَـنُخۡرِجَنَّكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا‌ ؕ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ لَــنُهۡلِكَنَّ الظّٰلِمِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو ضرور اپنے ملک سے نکال دیں گے ورنہ تم ہمارے دین میں داخل ہوجاؤ پس ان کے رب نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دین گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو ضرور اپنے ملک سے نکال دیں گے ورنہ تم ہمارے دین میں داخل ہوجاؤ، پس ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کردیں گے۔ (ابراھیم : 13) 

اس وہم کا ازالہ کہ انبیاء پہلے کافروں کے دین پر تھے : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ انبیاء (علیہم السلام) نے کفار کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کو کافی قرار دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی حفاظت پر اعتماد ہے جب انبیاء (علیہم السلام) نے یہ کہا تھا تو کافروں نے اور جہالت اور خباثت کا مظاہرہ کیا اور کہا ہم تم کو ضرور اپنے ملک سے نکال دیں گے ورنہ تم ہمارے دین میں داخل ہوجاؤ قرآن مجید میں اس طرح ذکر ہے : اولتعو دن فی ملتنا : اس کا معنی ہے ورنہ تم ہمارے دین میں لوٹ جاؤ اور اس سے بظاہر یہ وہم ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) پہلے ان کے دین میں تھے پھر ان کے دین سے نکل کر موحد ہوگئے اس لیے اب کافروں نے کہا تم دوبارہ ہمارے دین میں داخل ہوجاؤ حالا ن کہ انبیا (علیہم السلام) کبھی بھی کافروں کا دین اختیار نہیں کرسکتے اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں۔

(1) انبیاء (علیہم السلام) کافروں کا ملکے میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے وہیں نشونما پائی تھی، ان کا تعلق ان ہی قبیلوں سے تھا، اور ابتداء میں انہوں نے کافروں کے دین کی مخالفت نہیں کی تھی اس لیے کافروں نے یہ گمان کیا کہ وہ بت پرست میں ان کے موافق ہیں اور منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد جب انہوں نے بت پرستی سے منع کیا تو کافروں نے یہ سمجھا کہ وہ ان کے دین سے نکل گئے اس لیے انہوں نے کہا ہم تم کو ضرور اپنے ملک سے نکال دیں گے ورنہ تم ہمارے دین میں لوٹ آؤ۔

(2) اس آیت میں کافروں کے قول کو نقل فرمایا ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کا قول صحیح ہو۔ 

(3) اس آیت میں بہ ظاہر رسولوں سے خطاب ہے لیکن درحقیقت یہ رسولوں کے پیروکاروں سے کہا ہم تم کو اپنے ملک سے نکال دیں گے ورنہ تم دوبارہ ہمارے دین میں لوٹ آؤ۔

(4) اس آیت میں عود صیرورت کے معنی میں ہے یعنی انہوں نے رسولوں سے کہا ہم تم کو ضرور اپنے ملک سے نکال دیں گے تم ہمارے دین میں داخل ہوجاؤ ہم نے اس اعتبار سے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے۔ 

(5) اس آیت کا یہ معنی ہوسکتا ہے کہ جس طرح تم پہلے ہمارے دین میں کی مخالفت نہیں کرتے تھے اور بت پرستی کی مذمت نہیں کرتے تھے اسی طریقہ پر لوٹ جاؤ۔ 

جن کافر نے انبیاء (علیہم السلام) کو یہ دھمکی دی تو اللہ تعال نے انبیاء (علیہم السلام) کو مطمئن کرنے کے لیے یہ وھی فرمائی کہ ہم ان ظالموں کر ضرور ہلاک کردیں گے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص ظالم سے اپنا بدلہ نہ لے اور اس کے ظلم پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے بدلہ لیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو ان کے صبر کی جزا دینے کے لیے ان کو یہ نوید سنائی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 13