أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ مُوۡسٰٓى اِنۡ تَكۡفُرُوۡۤا اَنۡـتُمۡ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَـغَنِىٌّ حَمِيۡدٌ‏ ۞

ترجمہ:

اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور تمام روئے زمین کے لوگ مل کر ناشکری کرو تو بیشک اللہ بےپرواہ اور حمد کیا ہوا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور تمام روئے زمین کے لوگ مل کر ناشکری کرو تو بیشک اللہ بےپرواہ اور حمد کیا ہوا ہے۔ (ابرھیم : 8) 

اللہ کا شکر نہ کرنے سے اسے کوئی نقصان نہیں : 

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : اے میرے بندو ! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کرلیا اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کردیا ہے۔ سو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہو ماسوا اس کے جس کو میں ہدیت دوں سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تم کو ہدایت دوں گا، اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو ماسوا اس کے جس کو میں کھانا کھلاؤں سو تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھانا کھلاؤں گا، اے میرے تم سب بےلباس ہو ماسوا اس کے جس کو میں لباس پہناؤں۔ سو تم مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں لباس پہناؤں گا، اے میرے بندو ! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گنا ہوں کو بخشتا ہوں، سو تم مجھ سے بخشش طلب کرو میں تم کو بخش دوں گا۔ اے میرے بندو ! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچاسکو، اور تم کسی نفع کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نفع پہنچاسکو۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہوجائیں تو میرے ملک میں کچھ اضافہ نہیں کرسکتے اور اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہوجائیں تو میرے ملک سے کوئی چیز کم نہیں کرسکتے، اور میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سو ال کریں اور میں ہر فرد کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہوگا جس طرح سوئی سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے۔ اے میرے بندو ! یہ تمہارے اعمال ہیں جن کو میں تمہاے لیے جمع کر رہا ہوں پھر میں تم کو ان کی پوری پوری جزادوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جس کو خیر کو سوا کوئی اور چیز (مثلا آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔ (صحیح مسلم، البروالصلہ۔ 55 (2577) 6450، سنن الترمذی رقم الحدیث :2495، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 4257، کتاب الاسما والصفات للبیہقی 2663، مسند احمد 5 ص 154، الادب المفرد رقم الحدیث :490، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :619، حلیتہ الاولیاء ج 5 ص 126 ۔ 125، سنن کبری للبیہق ج 6 ص 93) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بستر سے گم پایا، میں نے اپ کو ڈھونڈا تو میرے ہاتھ آپ کی تلووں پر لگا اور آپ سجدہ میں تھے اور آپ کے دونوں پاؤں نصب تھے اور آپ یہ دعا کر رہے تھے : اے اللہ ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں میں تیری ایسی حمد وثنا نہیں کرسکا جیسی حمد وثنا تو خود اپنی فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :486، سنن ابو داؤد رقم الحدیث 879، سنن الترمذی رقم الحدیث :3493، سنن النسائی رقم الحدیث :1100، سنن ابن ماجہ : 3841، مسند احمد رقم الحدیث :24193، دارالحدیث قاہرہ، مسند احمد رقم الحدیث :26174، عالم الکتب بیروت، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث :655، صحیح ابن حبان رقم الحدیث 1930) 

اس حدیث کا معنی ` یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادانہ ہوسکنے پر آپ نے استغفار کیا کیونکہ انسان کی قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اس کی کسی ایک نعمت کا بھی شکر ادا کرسکے اور اس کی کماحقہ حمد وثنا کرسکے امام مالک نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ میں تیری تمام نعمتوں اور تیرے تمام احسانات کو شمار نہیں کرسکتا اور میں کوشش کروں پھر بھی تیری اس طرح حمد وثناء نہیں کرسکتا جس طرح تو خود اپنی حمد وثنا کرتا ہے اور اس میں یہ اعتراف ہے کہ انسان اللہ کی حمد وثنا کرنے سے عاجز ہے اور وہ اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا اس لیے آپ نے اللہ کی حمد کو اسی کے سپرد کردیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو محیط ہے، اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفات غیر متناہی ہیں اسی طرح اس کی حمد وثنا بھی غیر ممتناہی ہے، اور اس سے یہ واضع ہوگیا کہ لوگ الہ تعالیٰ کا شکر ادانی کریں یا اس کی حمد وثنا نہ کریں تو اس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ مخلوق کی حمدوثنا سے مستغنی ہے وہ اپنی حمد وثنا خود فرماتا ہے اور جیسی حمدوثنا اس کی شان کے لائق ہے ایسی حمد وثنا وہ خود ہی کرسکتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 8