أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اَنۡ اَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ ۙ‌ وَذَكِّرۡهُمۡ بِاَيّٰٮمِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لّـِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کی اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لاؤ اور ان کو اللہ کے دنوں کی یاد دلاؤ، بیشک اس میں ہر بہت صبر کرنے والے بہت شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں میں سے روشنی کی طرف لاؤ اور ان کو اللہ کے دنوں کی یاد دلاؤ بیشک اس میں ہر بہت صبر کرنے والے شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔ (ابراھیم : 5) 

انبیاء کا سابقین کے ذکر کی حکمت : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجا ہے کہ آپ ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائیں، پھر اللہ تعالیٰ نے وہ انعامات ذکر کیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی قوم کو عطا فرمائے، اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ انبیاء سابقین کا ذکر فرمارہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی طرف پہچنے والی اذیتوں پر صبر آئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتایا جائے کہ انبیاء سابقین اور ان کی قوم کے درمیان کسی قسم کا معاملہ ہوا اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا۔ 

تمام انبیاء کی بعثت کا مقصد واحد ہے : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کی ساتھ بھیجا، حضرت موسیٰ علی السلام کو یہ نشانیاں دی گئیں تھیں (1) عصا (2) یدبیضاء (3) ٹڈیاں (4) جوئیں (5) خون (6) مینڈکوں کی بارش (7) سمندر کو چیرنا (8) پتھر سے چشمو ‏ں کا پھو ٹنا (9) پہاڑ کا سایہ کرنا (10) المن اور السلوی کا نازل کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم بنو اسرائیل کی طرف ان نشانیوں اور رات کے ساتھ بھیجا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ ان کے لیے دین اور شریعت کو بیان کریں، اور اللہ تعالیٰ نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا : 

كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ( ابراھیم : ١) ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔

اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : 

أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ( ابراھیم : ٥) کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ 

اس میں یہ بتانا ہے کہ تمام انبیاء کی بعثت کا مقصد واحد ہے کہ وہ اس بات کی پیہم سعی کریں کہ وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہی اور کفر کے اندھیروں سے ہدایت اور ایمان کی روشنی کی طرف لائیں۔ 

ایام اللہ کا معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو ایام اللہ (اللہ کے دنوں) کی یاد لاؤ۔ ایام اللہ سے مراد ہیں وہ ایام جن میں اہم واقعات رونما ہوئے یا جن ایام میں اللہ تعالیٰ نے منکروں اور کافروں کو سزا دینے کے لیے اور ان سے انتقام لینے کے لیے ان پر عبرت ناک عذاب نازل فرمایا، یا جن دنوں میں اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر خاص نعمتیں نازل فرمائیں۔ 

حضرت ابی بن کعب نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ ایام اللہ سے مراد اللہ کی نعمتیں ہیں، مجاہد، قتادہ اور ابن قتیبہ کا بھی یہی قول ہے، ابن زید، ابن السائب اور مقاتل نے کہا اس سے مراد پہلے امتوں کے اہم واقعات ہیں۔ زجاج نے کہا اس سے مراد وہ ایام ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے پچھلی قوموں پر عذاب نازل فرمایا جیسے حضرت نوح کی قوم کو قوم اور عاد اور ثمود پر۔ (زادالمسیر ج 4 ص 346، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ) 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں ایام اللہ وہ تھے جو سخت آزمائش اور مصائب کے ایام تھے، بنو اسرائیل فرعون کی غلامی میں زندگی بسر کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمن فرعون کو غرق کردیا اور انہیں ان کی زمینوں اور ان کے مکانوں کا مالک بنادیا اور انواع و اقسام کے انعامات سے ان کو نوازا میدان تیہ پر بال کا سایہ کیا اور ان پر المن اور السلوی نازل فرمایا۔ 

صبر اور شکر کے متعلق احادیث : 

اس کے بعد فرمایا بیشک اس میں بہت صبر کرنے والو اور بہت شکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں، جب بندہ پر کوئی مصبیت آئے تو اس کو صبر کرنا چاہیے اور اس کو جب کوئی نعمت دی نائے تو پھر اس کا شکر چاہیے۔ 

حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کے حال پر تعجب ہوتا ہے اس کے ہرحال میں خیر ہے اور یہ مومن کے علاوہ اور کسی کا حال نہیں ہے اگر اس کو خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے سو یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ (بھی) اس کے لیے خیر ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2999، الترغیب والتر ہیب ج 4 ص کنز العمال رقم الحدیث :710، مشکوت المصابیح رقم الحدیث :5297، مسند احمد ج 4 ص 333، 332، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2896) 

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا : اے عیسیٰ ! میں تمہارے بعد ایک امت کو بھیجنے والا ہوں، جب ان کو ان کی محبوب چیزیں ملیں گی تو وہ اللہ کی حمد کریں گے اور جب ان پر مکروہ چیزیں نازل ہوگی تو وہ ثواب کی امید رکھیں گے اور صبر کریں گے، اور ان کا ذاتی (خلق) حلم اور علم نہیں ہوگا، حضرت موسیٰ نے کہا یا رب ! یہ کیسے ہوگا ! فرمایا ان کو اپنا حلم اور علم عطا کروں گا۔ (المستدرک ج 1 ص 348، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبی نے اس کی موفقت کی، حلیتہ الاولیاء ج 1 ص 227، ج 5 ص 243) 

حضرت نجرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو کچھ دیا گیا تو اس نے شکر ادا کیا، اور اس پر مصیبت آئی تو اس نے صبر کیا، اس نے اپنی جان پر ظلم کی اس نے استغفار کیا۔ اس پر ظلم کیا گیا تو اس نے معاف کردیا، پھر آپ خاموش ہوگئے صحابہ کرام نے پوچھا یارسول اللہ ! اس کے لیے کیا اجر ہے ؟ فرمایا : 

أُولَئِكَ لَهُمُ الأمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ( الانعام : ٨٢) ان ہی کے لیے (عذاب سے) امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں (المعجم الکبیر رقم الحدیث :6613، حافظ الہثیمی نے کہا اس میں ایک راوی عوام بن جو یرہ ضعیف ہے، مجمع الزائد ج 10 ص 648) 

صبر اور شکر میں عبداللہ بن مبارک کا معیار اور اس پر کلام : 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

روایت ہے کہ ثقیق بن ابراھیم بلخی بھیس بدل کر عبداللہ بن مبارک کے پاس گئے، انہوں نے پوچھا آپ کہا سے آئے ہیں، ثقیق نے کہا بلخ سے، عبداللہ بن مبارک نے کہا ثقیق کو نانتے ہو ؟ کہا ہاں ؟ پوچھا ان کے اصحاب کا کیا طریقہ ہے، کہ جب ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا تو صبر کرتے ہیں اور جب انہیں کچھ دیا جاتا ہے تو شکر ادا کرتے ہیں، عبداللہ بن مبارک نے کہا یہ تو ہمارے ہاں کتوں کا طریقہ ہے، ثقیق نے پوچھا پھر کس طرح ہونا چاہیے ! عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ کاملین وہ ہوتے ہیں جنو کو جب کچھ نہ دیا جائے تو شکر کریں اور جب مل جائے تو وہ دوسروں کو دے دیں ! (تفسیر کبیرج 7 ص 36 مطبوعہ دارا حیاء العربی بیروت، 1415 ھ) 

عبداللہ بن مبارک نے جو کاملین کا طریقہ بیان کیا ہے یہ فقہی طور پر درست نہیں ہے، انسان پر لازم ہے کہ پہلے اپنی ضروریات پوری کرے اور جو اس کی ضروریات سے فا ضل ہو وہ دوسروں کو دے انسان اپنا تمام مال ومتاع خیرات کر کے خود بھوکا پیاسا رہے اور اپنی ضروریات میں دوسروں کا محتاج بن جائے یہ جا ئز نہیں ہے اور یہ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری اور اس کی نا شکری ہے۔ 

شکر کا معنی اور صابر اور شاکر کے ساتھ نشانیوں کی تخصیص کی تو جیہ : 

اس آیت میں فرمایا ہے : اس میں بہت صبر کرنے والوں اور بہت شکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں، اس میں صبر اور شکر کرنے والوں سے مراد مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منع کرنے کی وجہ سے اپنے نفس کی مرغوبات اور لذئذ سے صبر کرتا ہے اور عبادت کرنے کی مشقت پر صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے اور سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی عبادت کرنے تو فیق ہے اور انسان کا سلیم الاعضاء سے منعم کی تعظیم بجا لانا، اور اللہ تعالیٰ نے جو نعمت جس مقصد کے لیے عطا کی ہے اس نعمت کو اس مقصد کے پورا کرنے کے لیے خرچ کرنا، اور اس نعت کو اس مقصد کے لیے خرچ نہ کرنا، ناشکری ہے، اور اس نعمت کو اس مقصد کے الٹ اور خلاف خرچ کر بہت بڑا گناہ اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرنے کی جسارت ہے، مثلا اللہ تعالیٰ نے شہوانی قوت عطاکی تاکہ حلال طریقہ سے اس شہوت کے تقاضوں کو پوراکرے یہ شکر ہے، اور انسان جنگل میں زندگی گزارے اور راہب بن جائے تو یہ ناشکری ہے اور حرام طریقہ سے اس شہوت کو پورا کرے زنا اور لواطت کرے تو یہ اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرنے جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بہت کم ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ ( سبا :13) اے آل داؤد ! تم شکر ادا کرو، اور میرے بندوں میں شکر ادا کرنے والے بہت کم ہیں۔ 

حکایت ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے اللہ ! میں تیرا شکر کس طرح ادا کروں کیوں کہ جس زبان سے تیرا شکر ادا کروں گا وہ بھی تیری دی ہوئی ہے، ہر سانس تیری نعمت ہے، ہر سانس میں تیری بیشمار نعمتیں ہیں، فرمایا : اے داؤد اب تم نے میرے شکرادا کردیا یعنی جب تم نے اپنے عجز کا اعتراف کرلیا تو میرا شکر ادا ہوگیا ! (الجامع لاحکام القرآن جز 9 ص 300) ۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا اور اس کی نعمتوں کو اسکی معصیت میں خرچ نہ کرنا اسکا شکر ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے دو بندوں کو شکر گزار قرار دیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : 

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا (بنو اسرائیل :3) اے ان لوگوں کی اولاد جنکو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا، بہت شکر گزار بندے تھے۔ 

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (١٢٠) شَاكِرًا لأنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ( النحل : ١٢١) ابرھیم (اپنی ذات میں) ایک امت تھے، اللہ کے مطیع، حق کی طرف مائل اور باطل سے مجتنب اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والے تھے اللہ نے ان کو منتخب کیا اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی۔ 

اور سید نا ‏محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اپنے متعلق فرمایا : 

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تہجد میں اس قدر قیام فرمایا کہ آپ کے پاؤں پر ورم آگیا، آپ سے کہا گیا کہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے ذنب (بظاہر خلاف اولی سب کاموں) کی مغفرت فرما دی ہے (پھر آپ اس قدر مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ ) آپ نے فرمایا : میں اللہ کا بہت شکر گزار بندہ کیوں نہ بنو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 4837، 4836، 1130، صحیح مسلم رقم الحدیث :2819، سنن الترمذی رقم الحدیث : 412، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1419، سنن النسائی رقم الحدیث : 1643، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث :4746، مسند الحمید رقم الحدیث :759، مسند احمد ج 4 ص 255، 251، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : 1234، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث :1182، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :311 السنن الکبری للبیہقی ج 3 ص 16، ج 7 ص 39، تاریخ بغداد ج 14 ص 306، شرح السنہ رقم الحدیث 931) 

نیز یہ جو فرمایا ہے اس میں صبر کرنے والوں اور بہت شکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں، یہ اس لیے فرمایا ہے کہ اگرچہ نشانیاں تو اس میں سب انسانوں کے لیے ہیں لیکن ان نشانیوں سے فائدہ صرف صابر اور شاکر ہی اٹھاتے ہیں اس لیے فرمایا اس میں بہت صبر کرنے والوں اور بہت شکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں جیسے فرمایا : ھدی للمتقین، قرآن مجید فی نفسہ ہدایت تو تمام انسانوں کے لیے ہے لیکن انجام کار اس سے فائدہ صرف متقین اٹھاتے ہیں اس لیے فرمایا یہ متقین کے لیے ہدایت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 5