أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمۡ‌ؕ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان ہی میں مبعوث کیا ہے تاکہ وہ ان کو بیان کے سکے، پھر جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے رسول کو اس کی قوم کی زبان میں مبعوث کیا ہے تاکہ وہ ان کو بیان کرسکے، پھر اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے وہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے۔ (ابراھیم :4) 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعث کا عموم : 

اللہ تعالیٰ کا ہر قوم پر یہ احسان ہے کہ اس نے ان میں وہ رسول بھیجے جو ان کی زبان بولتا تھا تاکہ افادہ اور استفادہ میں اور افہام اور تفہیم میں آسانی ہو اور قوم آسانی کے ساتھ رسول کی بات سمجھ سکے اور اس کے لیے شریعت کے اسرار اور حقائق کو سمجھنا آسان اور سہل ہوجائے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عربی زبان تھی اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کا پیغام صرف ان ہی لوگوں کے لیے حجت ہو جن کی زبان عربی ہو اور دوسری زبانیں بولتے ہیں ان کے لیے آپ کا پیغام حجت نہ ہو اس کا جواب یہ ہے کہ جب ان کی زبانوں میں قرآن مجید اور احادیث اور آثار کا ترجمہ کر کے ان تک پہنچادیا گیا تو آپ کا پیغام ان پر بھی حجت ہوگیا۔

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعث کے عموم پر قرآن مجید کی آیات : 

رہا یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت تک تمام انسانوں کے لیے رسول ہیں اس پر کیا دلیل ہے اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے : 

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ( الاعراف : ١٥٨) آپ کہیے اے لوگو ! بیشک میں تم تمام کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ 

بلکہ آپ صرف انسانوں کے نہیں بلکہ تمام جنات اور انسانوں کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الإنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا (بنو) اسرائیل :88) آپ کہیے اگر (تمام جن اور انس اس قرآن کی مثل لانے پر جمتمع ہوجائیں تو وہ اس قرآن کی مثل نہیں لاسکتے خو اس وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوجائیں۔ 

اس قرآن کی مثال لانے کا جنات کو بھی چلینج کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کے مکاف ہیں بلکہ آپ جن اور انسان کے علاوہ تمام جمعادات، نباتات، اور تمام حیوانات کے غرض پوریکائنات کے لیے رسول ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا ( الفرقان : ١) وہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے (مقدس) بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب نازل کی تاکہ وہ تمام جہانوں والوں کے لیے ڈرانے والے ہوں۔ 

سیدنا امحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے عموم پر احادیث : 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے عموم پر احادیث بھی دلالت کرتی ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بنان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں، ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب طاری کر کے میری مدد کی گئی ہے، تمام روئے زمین کو میرے لیے مسجد اور آلہ طہارت بنادیا گیا پس میری امت میں سے جو شخص بھی (جہاں) نماز کا وقت پائے وہ نماز پڑھ لے، اور میرے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا تھا اور (پہلے) ہر نبی صرف اپنی قوم کو طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :335، صحیح مسلم رقم الحدیث :521، سنن النسائی رقم الحدیث :736، 432) 

علامہ ابو لحسن علی بن خلف بابن بطال اندلسی متوفی 449 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ جس طرح آپ کو دیکھنا اور آپ کا کلام سننا لوگوں پر حجت تھا، اسی طرح بعد کے لوگوں پر آپ کی احادیث حجت ہیں، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ قرآن مجید ہے اور وہ ان احادیث کی تائید اور موافقت کرتا ہے اور آپ کا معجزہ یعنی قرآن مجید قیامت تک باقی رہے گا اور وہ تغیر وتبدل محفوظ رہے گا اور چونکہ آپ کی عوت قیامت کے لوگوں کے لیے باقی رہے گی اور قیامت تک آپ کی دعوت کا مننا ان پر واجب رہے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ خصوصیت عطا فرمائی کہ آپ کا معجزہ یعنی قرآان کریم قیامت کے باقی رہے گا۔ (شعرح صحیح البخاری ج 1 ص 470، مطبوعہ مکتبہ الرشید الریاض، 1420) 

امام مسلم متوفی ٢٦١ ھ کی روایت میں اس سے زیادہ عموم ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے انبیاء (سابقین) چھ وجوہ سے فضیلت عطا کی گئی ہے مجھے جو امعالکلم عطا کیے گئے، میری رعب سے مدد کی گئی، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں، اور میرے لیے تمام روئے زمین کو مسجد اور آلہ طہارت بنادیا گیا اور مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور تمام نبیوں کو مجھ پر ختم کیا گیا، (صحیح مسلم المسا جد : 5، (523) 1147، سنن للبیہق الترمذی رقم الحدیث :1553، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 567، مسند ابوعوانہ ج 1 ص 395 ۔ ، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2313، سنن کبری للبیہق ج 2 ص 433، ج 9 ص 5 دلائل النبوت ج 5 ص 472، شرح السنہ رقم الحدیث : 3617) 

جمادات اور بناتات کے لیے سیدنا ‏‏محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت : 

سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمادات اور بناتات کے لیے رسول ہیں، اس پر اس حدیث میں واضح دلیل ہے : 

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ میں تھا، ہم مکہ کی طرف بعض اطراف میں گئے، آپ کے سامنے جو پہاڑ یا درخت آتا وہ کہتا تھا : السلام علیک یارسول اللہ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3626، سنن الدارمی الحدیث :21، دلائل النبوت للبیہق ج 2 ص 154، 153، شرح السنہ رقم الحدیث :3510) 

حیوانات کے لیے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت : 

سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حیوانات کے بھی رسول ہیں اس پر حسب ذیل احادیث میں دلیل ہے : 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار کے بعض گھروں والوں کے پاس ایک اونٹ تھا جس پر وہ پانی (کی مشکیں لاد کر) لاتے تھے، ان کا وہ اونٹ سرکش ہوگیا اور اس نے اپنے اوپر پانی لاد نے نہیں دیا وہ انصار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک اونٹ تھا جس پر پانی لاد کر لاتے تھے اب وہ سرکش ہوگیا ہے اور اب وہ ہم کو اپنی پشت پر پانی لادنے نہیں دیتا اور ہمارے کھیت اور ہمارے باغ سوکھے پڑے ہیں، وسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا چلو، آپ کے اصحاب اٹھے اور آپ باغ میں داخل ہوئے جس کے ایک گوشے میں وہ اونٹ کھڑاہو اتھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف جانے لگے، انصار نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ اونٹ اب کاٹنے والے پاگل کتے کی طرح ہوگیا ہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ وہ آپ پر حملہ کردے گا ؟ آپ نے فرمایا مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے جب وہ اونٹ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دیکھا تو وہ آپ کی طرف آیا اور آپ کے سامنے آکر سجدہ میں گرگیا ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پیشانی سے پکڑا تو وہ پہلے سے بہت زیادہ متواضع اور مطیع تھا، حتی کہ آپ نے اس کو کام میں لگا دیا، آپ کے اصحاب نے آپ سے کہا یہ بےعقل جانور آپ کو سجدہ کرتا ہے تو ہم عقل والے اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں، آپ نے فرمایا کسی بشر کے لیے دوسرے بشر کو سجدہ کرنا جا ئز نہیں ہے اور اگر کسی بشر کے لیے دوسرے بشر کو سجدہ کرنا جا ئز ہوتا تو عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، کیونکہ خاوند کا اپنی پر عظیم حق ہے۔ الحدیث) مسند احمد ج 3 ص 158، 159 مقدیم، مسند احمد رقم الحدیث :12641، عالم الکتب بیروت، مسند احمد رقم الحدیث :12551 دارالحدیث قہر ہ، حمزہ احمد زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، حافظ الہیثمی نے بھی کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مجمع الزوائد ج 9 ص 4، دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث :287، مسند البزار رقم الحدیث :2454، حافظ منذری نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے : اس حدیث کو امام نسائی نے اس کو مختصر روایت کیا ہے اور امام ابن حبان نے اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ سے مختصر روایت کر کیا ہے۔ الترغیب والتر ج 3 ص 55 مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، الترغیب والتر ہیب ج 2 ص 675 ۔ 674، رقم الحدیث 2893، مطبوعہ دارابن کثیر بیروت، صحیح ابن حبان رقمالحدیث :4162، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :9147) 

حافظ سلیمان بن احمد طبرانی متوفی 360 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا ہمارہ اونٹ غضب ہوگیا ہے اور وہ باغ میں ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس اونٹ کے پاس گئے اور فرمایا آؤ، وہ آپ کے پاس سر جکھائے ہوئے آیا حتی کہ آپ نے اس کے نکیل ڈال دی اور وہ اونت اس کے مالکوں کے حوالے کردیا۔ حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ ! گویا کہ اس کو علم تھا کہ آپ نبی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : 

مابین لابتیھا احد الا یعلم انی الا کفرت الجن والانس۔ مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان جو کوئی بھی ہے وہ یہ جانتا ہے کہ میں نبی ہوں سوا کافر جنوں اور انسانوں کے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :12744 حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں اور بعض میں کچھ ضعف ہے۔ مجمع الزوائد ج 9 ص 4، دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث : 279، دلا ئل النبوت للبیہقج 6 ص 30، مسند احمد ج 3 ص 310، قدیم، مسند احمد رقم الحدیث :14385، عالم الکتب، مسند احمد رقم الحدیث :14269، دارالحدیث قاہرہ، حمزہ احمد نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، مصنف ابن شیبہ ج 11 ص 473، ، سنن دارمی رقم الحدیث :1 مسند عبدبن حمید : رقم الحدیث : 11323، الخصائص الکبری ج 2 ص 94) 

کفار کے سوا  کائنات کی ہر چیز آپ کی رسالت کو جانتی ہے : 

نیز امام طبرانی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

عبداللہ بن یعلی بن مرہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تین چیزیں دیکھیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھیں، میں آپ کے ساتھ مکہ کے راستے میں جارہا تھا، آپ ایک عورت کے پاس سے گزرے جس کا بیٹا بہت سخت جنون میں مبتلا تھا، اس عورت نے کہا یا رسول اللہ آپ دیکھ رہے ہیں میرے بیٹے کا کیا حال ہے آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں اس کے لیے دعا کر دوں، آپ اس کے لیے دعا کی بھر آپ چلے گئے پھر آپ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جو اپنی گردن بڑبڑا رہا تھا آپ نے فرمایا اس اونٹ کے مالک کو بلاو جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا یہ اونٹ کہہ رہا ہے میں ان کے ہاں پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کام لینا شروع کردیا حتی کہ اب میں بو ڑھا ہوگیا تو یہ لوگ مجھ ذبح کرنا چاہتے ہیں، پھر آپ آگئے تو آپ نے دو الگ الگ درختوں کو دیکھا، آپ نے فرمایا جاو ان دونوں درختوں سے کہو وہ مل کر متصل ہوجائیں، جب وہ درخت مل گئے تو آپ نے ان کی اوٹ میں حاجت قضا کی اور فرمایا جاؤ ان سے کہو اب یہ الگ الگ ہوجائیں پھر آپ آگئے، جب واپس آئے تو اس بچہ کے پاس سے گزرے وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اس کی ماں کے پاس چھ مینڈھے تھے اس نے دو مینڈھے آپ کو ہدیہ کیے، اور کہنے لگی اس پر دوبارہ بالکل جنون طاری نہیں ہوا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : 

مامن شئی یعلم انی رسول اللہ کفر اوفسقہ الجن والا نسی ہر چیز جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں کافر یا فاسق جنوں و انسان کے۔ (المعجم الکبیر ج 22 ص 262 ۔ 261، رقم الحدیث : 672، دلائل النبوت للبیہقی ج 6 ص 23 مصنف ابن شیبہ ج 11 ص 493، امام حاکم اور ذہبی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، المستدرک ج 2 ص 618 ۔ 617 دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث مسند رقم الحدیث : 17489، دارالحدیث قاہرہ، حمزہ زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، البدایہ والنہایہ ج 4 ص 172) 

نوٹ : المعجم الکبیر، دلائل النبوت میں اور البدایہ والنہایہ میں یہ حدیث مکمل ہے اور باقی کتابوں میں اس کے مختلف اجزاء ہیں۔ 

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی 774 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انصار کے ساتھ ایک باغ میں داخل ہوئے، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور ایک انصاری تھا، اس باغ میں بکریاں تھیں انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، حضرت ابوبکر نے کہا یا رسو اللہ ! ان بکریوں کی بہ نسبت آپ کو سجدہ کرنے کے ہم زیادہ حقدار ہیں، آپ نے فرمایا کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے کو سجدہ کرے اور اگر کسی کے لیے یہ جا ئز ہوتا کہ وہ دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ (البدایہ ولنہایہ ج 4 ص 537، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418 ھ) 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جگہ سے گزرے تو وہاں ایک خیمہ میں ہرنی بندھی ہوئی تھی، اس کہا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے کھول دیجئے تاکہ میں اپنے بچوں کو دودھ پلاؤں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کھول دیا وہ تھوڑی دیر بعد واپس آگئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پھر باندھ دیا، جب وہ خیمہ والے آئے تو آپ نے ان سے اس ہرنی کو مانگ لیا اور اس کو کھول کر آزاد کردیا (دلائل النبوت للبیہقی ج 6 ص 34، مطبوعہ دارالکتب العلمی بیروت) 

گوہ کا کلمہ شہادت پڑھنا : 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بنو سلیم سے ایک اعرابی آیا وہ ایک گوہ کو شکار کر کے لایا تھا جو اس کی آستین میں تھی تاکہ اس کو اپنے گھر لے جائے اور پکاکر کھائے۔ اب اس نے ایک جماعت کو دیکھا تو پو چھا یہ کون لوگ ہیں ؟ اس کو بتایا کہ یہ نبی ہیں وہ لوگوں کو چیرتا ہوا آیا اور کہنے لگا لات اور عزی کی قسم ! میرے نزدیک آپ سے زیادہ مبغوض اور کوئی نہیں ہے، اور اگر میری قوم مجھے جلدی باز نہ کہتی تو میں اب تک آپ کو قتل کرچکا ہوتا اور ہر کالے گورے کو آپ کے قتل سے خوش کرچکا ہوتا، حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اٹھ کر اس کو قتل کر دوں ! آپ نے فرمایا : اے عمر ! کیا تم نہیں جانتے کہ بردبار شخص کو نبی بنایا جاتا ہے، پھر آپ اس اعرابی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تمہارے اس قول کا کیا مطلب ہے اور تم نے یہ ناحق بات کیوں کہی ہے ؟ تم نے میری مجلس میں میری تعظیم کی اور تم اللہ کے رسول سے تو ہیں آمیز کلام کرتے ہو ! اس نے کہا لات اور عزی کی قسم ! می‏ اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا حتی کہ یہ لوگ آپ پر ایمان لے آئے یہ کہہ کر اس نے اپنی آستین سے گوہ نکال کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پھینک دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے گوہ ! گوہ نے فصیح عربی میں کہا جس کو تمام حاضرین سن رہے تھے : لبیک وسعد یک ! آپ نے اے گوہ ! تم کس کی عبادت کرتی ہو ! اس نے کہا جس کا آسمان میں عرش ہے اور زمین میں اس کی سلطنت ہے، سمندر میں اس کا راستہ ہے جنت میں اس کی رحمت ہے، دوزخ میں اس کا عذاب ہے، آپ نے فرمایا اور میں کون ہوں اے گوہ ! اس نے کہا آپ رب لعا لمین کے رسول ہیں، خاتم النبین ہیں، جس نے آپ کی تصد یق کی وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے آپ تکذیب کی وہ ناکام ہوگیا، اس اعرابی نے کہا اب آنکھوں سے دیکھنے کے بعد میں کسی سنی سنائی بات پر یقین نہیں کروں گا، جس وقت میں آپ کے پاس آیا تھا اس وقت میرے نزدیک روئے زمین پر آپ سے زیادہ کوئی مبغوض کوئی نہیں تھا۔ اور اب میرے نزدیک روئے پر آپ میرے والد، میری آنکھوں اور میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور میں آپ سے اپنے اندر ورباہر اور اپنے ظاہر اور باطن سے محبت کرتا ہوں اور اور میں گوہی دیتا ہوں کہ اللہ سے زیادہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے لیے حمد ہے جس نے میری وجہ سے تم کو ہدایت دی، یہ دین غالب ہے۔ یہ دین مغلوب نہیں ہوگا۔ اور بےنماز کے بغیر یہ دین مقبول نہیں ہے اور نماز قرآن کے بغیر مقبول نہیں ہے، اس نے کہا آپ مجھے تعلیم دیں پھر آپ نے اس کو تعلیم دی، الحدیث۔ (دلائل النبوت للبیہقی ج 6 ص 38 ۔ 36، دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث :275 المعجم الصغیر رقم الحدیث : 948 المعجم الاوسط رقم الحدیث : 5993، حافظ الہثیمی نے کہا ہے کہ امام طبرانی نے اس حدیث کو معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے شیخ محمد بن علی بن الولید البصری سے روایت کیا ہے، امام بہیقی نے کہا اس حدیث کا بو جھ اسی پر ہے اور اس کے باقی راوی صحیح ہیں۔ مجمع الزوائد ج 8 ص 294، حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہ حدیث حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ سے مر ویہ ہے اور ہم نے جس سند کا ذکر کیا وہ زیادہ بہتر ہے اور وہ بھی ضعیف ہے اور اس کا بو جھ اسلی پر ہے۔ البدایہ ج 4 ص 546، حافظ جلالدین سیوطی نے لکھا ہے : یہ حدیث میں بھی اسانید سے مروی ہے، حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ سے، اور ابن وحیہ اور حافظ ذیبی کا یہ زعم ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے میں کہتا ہوں کہ حضرت عمر کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے جن میں محمد بن علی بن الولید نہیں ہے جس کو امام ابو نعیم نے روایت کیا ہے اور امام ابن عساکر نے اس حدیث کو حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے۔ الخصائص ج 2 ص 108) 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختلف زبانوں کے بولنے والے کلام کرتے تھے اور آپ ان  کی زبانوں کو جانتے تھے، فرشتے اور جنات آپ سے کلام کرتے تھے اور آپ ان کی زبانوں کو سمجھتے تھے، جانوروں کی بولیوں کو آپ جانتے تھے اور آپ ان گفتگو فرماتے تھے، آپ پوری کا ئنات کے رسول تھے اور پوری کا ئنات کی زبانوں کو جانتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 4