وَ لَىٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُۚ-اِنَّهٗ لَیَـٴُـوْسٌ كَفُوْرٌ(۹)

اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں (ف۲۲) پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے (ف۲۳)

(ف22)

صحت و امن کا یا وسعتِ رزق دولت کا ۔

(ف23)

کہ دوبارہ اس نعمت کے پانے سے مایوس ہو جاتا ہے اور اللہ کے فضل سے اپنی امید قطع کر لیتا ہے اور صبر و رضا پر ثابت نہیں رہتا اور گزشتہ نعمت کی ناشکری کرتا ہے ۔

وَ لَىٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْؕ-اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ(۱۰)

اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوئیں بےشک وہ خوش ہونے والا بڑائی مارنے والا ہے (ف۲۴)

(ف24)

بجائے شکر گزار ہونے اور حقِ نعمت ادا کرنے کے ۔

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱)

مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے (ف۲۵) ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے

(ف25)

مصیبت پر صابر اور نعمت پر شاکر رہے ۔

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآىٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌؕ-اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ(۱۲)

تو کیا جو وحی تمہاری طرف ہوتی ہے اس میں سے کچھ تم چھوڑ دو گے اور اس پر دل تنگ ہوگے (ف۲۶) اس بنا پر کہ وہ کہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ اترا یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا تم تو ڈر سنانے والے ہو (ف۲۷) اور اللہ ہر چیز پر محافظ ہے

(ف26)

ترمذی نے کہا کہ استِفہام نہی کے معنی میں ہے یعنی آپ کی طرف جو وحی ہوتی ہے وہ سب آپ انہیں پہنچائیں اور دل تنگ نہ ہوں ، یہ تبلیغِ رسالت کی تاکید ہے باوجود یکہ اللہ تعالٰی جانتا ہے کہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادائے رسالت میں کمی کرنے والے نہیں اور اس نے ان کو اس سے معصوم فرمایا ہے ۔ اس تاکید میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکینِ خاطر بھی ہے اور کُفّار کی مایوسی بھی کہ ان کا استہزاء تبلیغ کے کام میں مُخِل نہیں ہو سکتا ۔

شان نُزول : عبداللہ بن اُمیہ مخزومی نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ سچّے رسول ہیں اور آپ کا خدا ہر چیز پر قادِر ہے تو اس نے آپ پر خزانہ کیوں نہیں اتارا یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جو آپ کی رسالت کی گواہی دیتا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔

(ف27)

تمہیں کیا پروا اگر کُفّار نہ مانیں یا تَمسخُرکریں ۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۳)

کیا (ف۲۸) یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے جی سے بنالیا تم فرماؤ کہ تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ (ف۲۹) اور اللہ کے سوا جو مِل سکیں (ف۳۰) سب کو بلالو اگر سچے ہو (ف۳۱)

(ف28)

کُفّارِمکّہ قرآنِ کریم کی نسبت ۔

(ف29)

کیونکہ انسان اگر ایسا کلام بنا سکتا ہے تو اس کے مثل بنانا تمہارے مقدور سے باہر نہ ہوگا تم بھی عرب ہو ، فصیح و بلیغ ہو کوشش کرو ۔

(ف30)

اپنی مدد کے لئے ۔

(ف31)

اس میں کہ یہ کلام انسان کا بنایا ہوا ہے ۔

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۴)

تو اے مسلمانواگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لو کہ وہ اللہ کے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچامعبود نہیں تو کیا اب تم مانو گے (ف۳۲)

(ف32)

اور یقین رکھو گے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے یعنی اعجازِ قرآن دیکھ لینے کے بعد ایمان و اسلام پر ثابت رہو ۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵)

جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو (ف۳۳) ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے (ف۳۴) اور اس میں کمی نہ دیں

(ف33)

اور اپنی دُون ہمّتی سے آخرت پر نظر نہ رکھتا ہو ۔

(ف34)

اور جو اعمال انہوں نے طلبِ دنیا کے لئے کئے ہیں اس کا اجر ، صحت و دولت ، وسعتِ رزق ، کثرتِ اولاد وغیرہ سے دنیا ہی میں پورا کر دیں گے ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۶)

یہ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آ گ اور اَکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود(برباد) ہوئے جو ان کے عمل تھے (ف۳۵)

(ف35)

شانِ نُزول : ضحاک نے کہا کہ یہ آیت مشرکین کے حق میں ہے کہ وہ اگر صِلۂ رحمی کریں یا محتاجوں کو دیں یا کسی پریشان حال کی مددکریں یا اسطرح کہ کوئی اور نیکی کریں تو اللہ تعالٰی وسعتِ رزق وغیرہ سے انکے عمل کی جزاء دنیا ہی میں دے دیتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے حق میں نازِل ہوئی جو ثوابِ آخرت کے تو معتقد نہ تھے اور جہادوں میں مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لئے شامل ہوتے تھے ۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةًؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗۚ-فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُۗ-اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۷)

تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳۶) اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے (ف۳۷) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (ف۳۸) پیشوا اور رحمت وہ اس پر(ف۳۹) ایمان لاتے ہیں اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں (ف۴۰) تو آگ اس کا وعدہ ہے تو اے سننے والے تجھے کچھ اس میں شک نہ ہو بےشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن بہت آدمی ایمان نہیں رکھتے

(ف36)

وہ اس کی مثل ہوسکتا ہے جو دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتا ہو ایسا نہیں ، ان دونوں میں عظیم فرق ہے ۔ روشن دلیل سے وہ دلیلِ عقلی مراد ہے جو اسلام کی حقانیت پر دلالت کرے اور اس شخص سے جو اپنے ربّ کی طرف سے روشن دلیل پر ہو وہ یہود مراد ہیں جو اسلام سے مشرف ہوئے جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ۔

(ف37)

اور اس کی صحت کی گواہی دے یہ گواہ قرآنِ مجید ہے ۔

(ف38)

یعنی توریت ۔

(ف39)

یعنی قرآن پر ۔

(ف40)

خواہ کوئی بھی ہوں ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے اس اُمّت میں جو کوئی بھی ہے یہودی ہو یا نصرانی جس کو بھی میری خبر پہنچے اور وہ میرے دین پر ایمان لائے بغیر مر جائے وہ ضرور جہنّمی ہے ۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ-اُولٰٓىٕكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْۚ-اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۸)

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۴۱) وہ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے (ف۴۲) اور گواہ کہیں گے یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا ارے ظالموں پر خدا کی لعنت (ف۴۳)

(ف41)

اور اس کے لئے شریک و اولاد بتائے ۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی پر جھوٹ بولنا بدترین ظلم ہے ۔

(ف42)

روزِ قیامت اور ان سے ان کے اعمال دریافت کئے جائیں گے اور انبیاء و ملائکہ ان پر گواہی دیں گے ۔

(ف43)

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ روزِ قیامت کُفّار اور منافقین کو تمام خَلق کے سامنے کہا جائے گا کہ یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ بولا ، ظالموں پر خدا کی لعنت اس طرح وہ تمام خَلق کے سامنے رسوا کئے جائیں گے ۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًاؕ-وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ(۱۹)

جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہی آخرت کے منکر ہیں

اُولٰٓىٕكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَۘ-یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُؕ-مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ(۲۰)

وہ تھکانے والے نہیں زمین میں (ف۴۴) اور نہ اللہ سے جدا ان کے کوئی حمایتی (ف۴۵) انہیں عذاب پر عذاب ہوگا (ف۴۶) وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے (ف۴۷)

(ف44)

اللہ کو ، اگر وہ ان پر عذاب کرنا چاہے کیونکہ وہ اس کے قبضہ اور اس کی مِلک میں ہیں نہ اس سے بھاگ سکتے ہیں نہ بچ سکتے ہیں ۔

(ف45)

کہ ان کی مدد کریں اور انہیں اس کے عذاب سے بچائیں ۔

(ف46)

کیونکہ انہوں نے لوگوں کو راہِ خدا سے روکا اور مرنے کے بعد اٹھنے کا انکار کیا ۔

(ف47)

قتادہ نے کہا کہ وہ حق سننے سے بہرے ہو گئے تو کوئی خیر کی بات سن کر نفع نہیں اٹھاتے اور نہ وہ آیاتِ قدرت کو دیکھ کر فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۲۱)

وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی اور ان سے کھوئی گئیں جو باتیں جوڑتے تھے

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ(۲۲)

خواہ نخوا ہ(یقیناً) وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہیں (ف۴۸)

(ف48)

کہ انہوں نے بجائے جنّت کے جہنّم کو اختیار کیا ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْۙ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۳)

بےشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اپنے رب کی طرف رجوع لائے وہ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِؕ-هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًاؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠(۲۴)

دونوں فریق (ف۴۹) کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا (ف۵۰) کیا ان دونو ں کا حال ایک سا ہے(ف۵۱)تو کیا تم دھیان نہیں کرتے

(ف49)

یعنی کافِر اور مومن ۔

(ف50)

کافِر اس کی مثل ہے جو نہ دیکھے نہ سنے یہ ناقِص ہے اور مومن اس کی مثل ہے جو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے وہ کامل ہے حق و باطل میں امتیاز رکھتا ہے ۔

(ف51)

ہرگز نہیں ۔