رمضان المبارک میں چند توجہ طلب امور

محمد خلیل الرحمان صاحب

یہ رمضان المبارک وبا کے دنوں میں آیا ہے اس لئے اس کے معمولات کئی اعتبارات سے مختلف ہوں گے ۔چند امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں ۔

١۔ اس ماہ مبارک میں بتقاضاء حالات ہمارا زیادہ وقت گھروں میں گذر رہا ہے ، لہذا اہل خانہ کے ساتھ مل کر اجتماعی عبادات کا ماحول پیدا کیجئے ۔ ہو سکتا ہے کہ بہت سے احباب کے لئے یہ ایک نیا تجربہ ہو لیکن اس کی برکات آپ کو صاف نظر آئیں گی ۔ پورے گھر میں عبودیت کی فضا دکھائی دے گی ۔ اجتماعی عبادات میں محافل ذکر الہی اور درود پاک کا اہتمام کیجئے ، ہو سکے تو ایک وقت میں سب مل بیٹھ کر تلاوت قرآن حکیم کریں اور صلواة التسبیح و نوافل کیلئے بھی وقت نکالیں ۔ اگر آپ مسجد میں نماز پنجگانہ اور تراویح ادا کرنے سے معذور ہیں تو یہ اہتمام بھی اجتماعی صورت میں گھر پر کیجئے ۔

٢۔ رمضان المبارک میں مختصر وقت میں اپنے اہل خانہ کو کوئی اصلاحی پیغام دیجئے ۔ اگر آپ میں یہ صلاحیت نہیں تو اہل خانہ میں سے با صلاحیت فرد کو موقع دیجئے یا یو ٹیوب سے اپنے پسندیدہ عالم کا موُثر اصلاحی کلپ تلاش کیجئے اور پھر اسے اہل خانہ کے ہمراہ سنیں ۔ کلپ مختصر اور موُثر ہو ۔ اسی طرح مفید تحریریں بھی پڑھ کر سنائی جا سکتی ہیں ۔

٣۔ اس دفعہ بازاری افطاریوں سے اجتناب کیجئے ، پکوڑے ، سموسے اور تلی ہوئی اشیاء خواہ گھر کی بھی ہوں ان سے حتی المقدور گریز کریں ، اگر طبیعت بہت مچلے تو سرسوں کے تیل میں پکوڑے وغیرہ بنائیں ۔ کھانے میں فروٹ شامل کریں ۔ ہو سکے تو سحری میں پراٹھوں سے بھی گریز کریں . ایسا کرنے سے آپ کی صحت بہتر ہو گی ، قوت مدافعت بڑھے گی اور عبادت کے ذوق و شوق میں اضافہ ہو گا ۔

۴۔ اجتماعی افطاریوں اور سحریوں سے گریز کریں اور اس رقم سے مستحقین کی مدد کریں یا کھانا پکا کر حسب توفیق ان میں افطار و سحر کے موقع پر تقسیم کر دیں ۔

۵۔ رمضان المبارک میں آنے والے ختمات کے مواقع پر بھی یہی طریقہ اختیار کریں ۔ کھانا بنائیں ، ختم شریف پڑھیں اور مستحقین میں تقسیم کر دیں ۔

٦۔ اس دفعہ یاد رات کو مروجہ طریقوں کی بجائے ان شرعی تقاضوں کے مطابق منانے کا عہد کریں ۔ چاند رات یعنی لیلة الجائزہ کی اہمیت اہل علم کے مطابق شب قدر کی طرح یے ۔ اس میں کثرت سے استغفار کریں اور نوافل پڑھیں ۔

٧۔ اس دفعہ عید سادگی سے منانے کا عہد کریں ۔ عید کے موقع پر بڑے اور بزرگ حضرات بالخصوص پرانے لباس پر اکتفا کریں ۔ اپنے زائد از ضرورت لباس ضرورت مندوں کو دیدیں ۔ صاف ظاہر ہے کہ لباس میں جوتے بھی شامل ہیں ۔

٩۔ جن کو اللہ نے زیادہ توفیق دی ہے وہ اپنی حیثیت کے مطابق صدقہ فطر ادا کریں اور کوشش کریں کہ عید سے پہلے مستحقین تک پہنچ جائے ۔

١٠۔ اہل ثروت حضرات زکواة ادا کرتے ہوئے دینی مدارس کو بھی یاد رکھیں کیونکہ انکو آئندہ سال شدید مالی مشکلات کا سامنا رہے گا ۔