(۳) ان جابر بن عبدالله الأنصاري قال خرج علينا رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم يوما فقال : . .انما مثلك ومثل امتك كمثل ملك اتخذ داراثم بنى فيها بيتا ثم جعل فيها مائدة ثم بعث رسولايدعو الناس الى طعامه فمنهم من اجاب الرسول ومنهم من تركه فالله هو الملك والدار الاسلام والبيت الجنة وانت يا محمد رسول فمن اجابك دخل الاسلام ومن دخل الاسلام دخل الجنة ومن دخل الجنة اكل ما فيها ». .. ..

قال ابو عيسى هذا حديث مرسل (ترمزی، الامثال رقم ۲۸۶۰ ص ۱۹۳۸ ، بخاری الاعتصام رقم ۷۲۸۱ ص ۶۰۶)

ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی الله تعالى عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ همارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا کہ: :

آپ کی اور آپ کی امت کی مثال اس طرح ہے کہ بادشاہ نے ایک بڑا مکان بنایا۔ پھر اس میں ایک گھر بنایا پھر وہاں ایک دسترخوان لگا کر ایک قاصد کو بھیجا کہ لوگوں کو کھانے کی دعوت دے چنانچہب عض نے دعوت قبول کی اور بعض نے قبول نہیں کی۔ یعنی الله تعالی بادشاہ ہے، وہ بڑا مکان اسلام ہے، اور اس کے اندر والا گھر جنت ہے اور آپ اے محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم ! رسول ہیں ۔ جس نے آپ کی دعوت قبول کی اسلام میں داخل ہوا۔ جواسلام میں داخل ہوا وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جو جنت میں داخل ہو گیا اس نے اس میں موجود چیزیں کھالیں۔

مسائل ونصائح: . . .

ہر چیز کاحقیقی مالک الله تعالی ہے۔

انبیا کرام علیهم السلام کی بعثت کا مقصد الله تعالی کی طرف بلانا ہے۔ “

اس دنیا کے علاوہ اور بھی جہان ہیں۔

نجات کی راہ دین اسلام ہے۔

جنت کا ہونا برحق ہے۔

*جنت رب تعالی کی نعتوں کی جگہ ہے۔ ::. :

جو جنت میں جانا چاہتا ہے اس کے لئے دین اسلام پرعمل پیرا ہونالازمی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۱۶ ص ۵۰۶)