اسلام کی بنیاد

حدیث پاک میں ہے ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اللہ کی وحدانیت اور رسول ا کی رسالت کا اقرار کرنا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، اور حج کرنا‘‘

میرے پیارے آقاکے پیارے دیوانو! زکوٰۃ سے متعلق ہمارے آقا و مولیٰ جناب محمد رسول اللہنے بھی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ حدیث پاک میں حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اِنَّ تَمَا مَ اِسْلَامِکُمْ اَنْ تُؤدُّوْا زَکوٰۃَ اَمْوَالِکُمْ۔ تمہارے اسلام کاپورا ہونا یہ ہے کہ تم اپنے مال کی زکوٰۃ اداکرو۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اللہ اور اس کے رسول ا پر ایمان لایا اس پر لازم ہے کہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے۔ (ترمذی، ابن ماجہ )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! ان دونوں احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی وحدانیت کا اقرار کرنے اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کے بعد مسلمان مالک نصاب پر اپنے ایمان کی تکمیل کے لئے زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے، جو مالک نصاب ہوتے ہوئے زکوٰۃ ادا نہیں کرتے وہ کامل مسلمان نہیں۔ زکوٰۃ ادا کرنے والوں کواللہ کے رسول ﷺ نے بڑی بشارتیں دی ہیں۔

چنانچہ طبرانی نے اوسط میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں : جو مجھ کو چھ چیزوں کی ضمانت دے، میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ وہ چھ چیزیں کیا ہیں؟ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : نماز، زکوٰۃ، امانت، شرمگاہ، شکم اور زبان۔