أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الۤرٰ ۚ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡـكِتٰبِ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

الف لام را، یہ کتاب اور قرآن مبین کی آیتیں ہیں۔

تفسیر:

کتاب اور قرآن مبین کا معنی الراس کی تفسیر اس سورت کے تعارف میں اور سورت یونس کی ابتداء میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ کتاب اور قرآن مبین کی آیتیں ہیں۔ الحجر :1) تلک کا اشارہ اس سورت کی آیتوں کی طرف ہے اور کتاب اور قرآن مبین سے مراد وہ کتاب ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وعدہ کیا تھا اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ یہ آیتیں جو اس سورت میں مذکور ہیں اس کتاب کی آیتیں ہیں کو کتاب ہونے میں کامل ہے اور اس قرآن عظیم کی آیتیں ہیں جو مبدا اور معاد کے متعلق صحیح عقائد بیان کرتا ہے ماضی کی خبریں اور مستقبل کی پیس گوئیاں بیان کرتا ہے حلال و حرام کے احکام بیان کرتا ہے اور دنیا اور آخرت کی کامیابی کا صحیح راستہ بیان کرتا ہے۔ کتاب اور قرآن مبین میں تغایر۔ اس مقام پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مبین کا الکتاب پر عطف تغایر کو چاہتا ہے حالانکہ کتاب اور قرآن مبین سے ایک ہی چیز مراد ہے اس اعتراض کے حسب ذیل جواب ہیں

(1) کتاب اور قرآن کے مفہوم میں تغایر ہے۔ کتاب کا لغوی معنی ہے لکھی ہوئی چیز اور عرفی معنی ہے جو چیز متعدد مسائل اور مضامین کی جامع ہو یا جو چیز قصص، خبروں اور احکام کی جامع ہو اور قرآن کا لغوی معنی ہے جو چیز پڑھی جاتی ہو یا جس چیز کی عبارت باہم متصل ہو اور قران کا عرفی معنی ہے اللہ عزوجل کا وہ کلام جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لفظ نازل کیا گیا اور ہم تک ایسی نقل متواتر سے پہنچاجس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔

(2) الکتاب اصل کے اعتبار سے عام ہے اور غلبہ استعمال کے لحاظ سے اس خاص کتاب کے لیے علم (نام) ہوگیا اور قرآن اصل وضع کے اعتبار سے اس کتاب کے لیے علم ہے۔ الکتاب کو قرآن مبین پر مقدم کرنے کی وجوہ الکتاب کو قرآن مبین پر مقدم کیا ہے اس کی دو وجہیں ہیں : ایک یہ کہ اہل عرب میں الکتاب کا لفظ مانوس اور معروف تھا۔ وہ تورات زبور اور انجیل کو آسمانی کتابوں کے عنوان سے پہچانتے تھے اور یہودیوں اور عسائیوں کو اہل کتاب کہتے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جب وہ ضد بحث کرتے تھے تو وحی الہی کو کتاب کہتے تھے جیسا کہ اس آیت میں ہے : أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَى مِنْهُمْ (الانعام :157) یا یہ (نہ) کہو کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 1