دینی تعلیم کی ضرورت

تحریر: سلمان کبیرنگری

مکرمی!علم انسان کے لئے زینت ہے مذہب اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ علم کے ساتھ چلتا ہے کیوں کہ اسلام میں علم حاصل کر نے کا حکم دیا گیا ہے، آج ایک غریب مسلمان بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے بہتر سے بہتر اسکول میں تعلیم حاصل کریں۔آج کے دور میں مسلمانوں نے تو دنیاوی تعلیم پر خر چ کر نا سیکھ لیا،مگر دینی تعلیم پر خرچ کرنے کامزاج ابھی تک نہیں بن سکا۔مسلم سماج میں موجودہ وقت میں صرف ۵۲فیصد مسلمان ایسے ملیں گے جن کے اندر دین کے نام پر خرچ کرنے کا جذبہ موجود ہے۔آج ہم اپنے بچوں کو ہزاروں روپے خرچ کر کے دنیا کی تعلیم تو دلا رہے ہیں،مگر چند روپے خرچ کرکے دینی تعلیم دلانا ہم کو گوارا نہیں ہے۔جس سے ہماری آخرت سنور سکتی ہے۔ہمارے دلوں سے نماز کی اور قرآن کی اور اللہ کے گھر کے موذن کی اورمدارس کے علماء اور پیش امام کی ا  ہمیت گھٹ گئی ہے۔جس کی بنا پر ہم ان کو اہمیت کے قابل ہی نہیں سمجھ رہے ہیں۔آج ہم نے انٹر نیٹ کی اہمیت کو تو سمجھ لیا،مگر دینی تعلیم کی اہمیت کو ہم چاہ کر ابھی سمجھ نے سے قاصر ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کچھ سال پہلے کچھ بھی نیاکام کرنا ہوتو اپنے محلے کے پیش امام یاکسی عالم دین سے رجوع ہوتے تھے۔موجودہ وقت میں ہم نے علماء کوصرف میت کے لئے دعائے خیر کرانے کا ذمہ دار سمجھ لیا ہے۔جب سے ہم نے ان کی قدر کرنا چھوڑ دیا ہے زمانے نے بھی ہماری قدر کرنا چھوڑ دی ہے۔، مسلمانوں نے جب علم کی طرف سے منھ موڑاتو وہ پچھڑ گئے آج دنیا میں جو فساد بر پا ہے وہ علم کی کمی کی وجہ سے ہے خاص طور پر اس علم کی طر ف توجہ کی ضرورت ہے جو کتاب اور تجربہ کار لو گوں سے حاصل ہو سب سے بڑھ کر وہ علم جو نبیوں سے ملا جو دین کا علم ہے تعلیم انسان کی تشکیل کا ذریعہ ہے اور یہ جو دنیا میں پھیلی ہو ئی درسگاہیں ہیں کارخانہ کی حیثیت رکھتی ہیں جس طرح کار خانے میں مختلف چیزیں بنتی ہیں اس طرح درسگاہوں میں مہذب انسان بنائے جاتے ہیں انسان بننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عادات بہتر سے بہتر ہوں اور عمدہ اوصاف کا حامل ہو، اللہ تعالی نے انسان کے اندر مختلف قسم کی صلاحتیں رکھی ہیں اگر انسان اس کو استعمال کر تا ہے تو انسان انسان بن سکتا ہے جن لو گوں نے اپنی صلا حیتوں کا صحیح استعمال کیا اور دنیا کی بھلائی کے لئے وہ کام کئے کہ آج دنیا انہیں رشک بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے آپ کن حالات میں سانس لے رہے ہیں یہ ہمیں سوچنا ہو گا، ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہے کہ ہم نے سب کچھ حاصل کر لیا، بلکہ ہمیں اپنے آپ کو بالکل ابتدائی درجہ کا طالب علم سمجھنا ہو گا اس وقت اپنی پوری توجہ اسی طر ف مر کوز کر نے کی ضرورت ہے اور یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کون سا مفید کام انجام دے سکتے ہیں۔دعاہے کہ اللہ ہم سب مسلمانوں کو صحیح سمجھ عطافر مائے۔آمین