رمضان جنھیں نصیب ہوا، ان کی خدمت میں چند ہدایات

تحریر: ظفر احمد خان
جب ہم تخلیق انسانی کے وجود اور اس كے اسباب پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اس لیے ہمیں سب سے زیادہ اپنے مقصد تخلیق یعنی اللہ کی عبادت پر توجہ دینا چاہئے اور دنیاوی امور میں اس قدر منہمک نہ ہونا چاہیے کہ ہم اس مقصد سے غافل ہو جائیں کیونکہ یہ دنیا فانی ہے، باقی نہیں ہے یہ ایک گزرگاہ مستقل قیام گاہ نہیں، لہذا اب جب ہم اللہ کی رحمت سے رمضان المبارک میں داخل ہو چکے ہیں ہمیں مندرجہ ذیل امور کا اہتمام کرنا چاہیے. 
         شکر کی ادائیگی:دنیا میں بھیجنے کے بعد اللہ نے ہم پر بےشمار احسانات کیے اور عظیم نعمتوں سے نوازا، جن کا شمار ہمارے لئے ناممکن ہے اللہ تعالی نے فرمایا اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے، اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا جبکہ اس کرہ ارض پر اللہ تعالی نے بہت سے لوگوں کو توحید اور رسالت کی گواہی سے محروم رکھا یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے مزید یہ کہ اللہ تعالی نے اسلام کے نعمت سے مالا مال کرنے کے بعد ہم سب کو ہدایت پر قائم رکھا لہذا اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو ظاہری اور باطنی طور پر اسلامی تعلیمات کی مخالفت کرتے ہیں فرائض اور واجبات میں افراط و تفریط کرتے ہیں  معاصی اور گناہوں کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہم مامون وطن رزق میں کشادگی اور جسمانی صحت جیسی اللہ کے عظیم نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس لیے  لازم ہے کہ اللہ کے احکام کی پیروی اور منہیات سے اجتناب کرکے ہم اس کا شکر ادا کریں کیونکہ شکر کی ادائیگی نعمت کے دوام اور اس میں اضافے کا سبب ہے جیسا کہ سورۃ ابراہیم آیت نمبر آٹھ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَئِنْ شَكَـرْتُـمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا، اور شکر کی ادائیگی کی توفیق بھی اللہ سے طلب کرنی چاہئے، سورۃ النمل آیت نمبر بیس میں اللہ تعالیٰ نے شکر ادا کرنے کی دُعا بھی سکھلادی جو ان الفاظ میں ہے، رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰٮہُ وَ اَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ، ترجمہ: اے میرے ربّ! مجھے توفیق بخش کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کی اور میرے ماں باپ پر کی اور ایسے نیک اعمال بجالاؤں جو تجھے پسند ہوں۔ اور تُو مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیکو کار بندوں میں داخل فرما۔
           نعمتوں کی قدر: یہ بھی ایک عظیم نعمت ہے کہ اللہ نےرمضان المبارک جیسا مبارک مہینہ ہمیں عطا فرمایا جو ایک عظیم نعمت ہے، اور اللہ نے اس ماہ کو گناہوں کی مغفرت، جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلے کا سبب بنایا ہے، اوراللہ نے قرآن کو جو پوری انسانیت کے لئے ہدایت نامہ اور حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والی کتاب ہے اسی مقدس اور بابرکت مہینے میں نازل کیا ، اس ماہ میں روزہ رکھنے کی صورت میں بھوک اور پیاس کے احساس پر کھانے پینے کی نعمتوں کی صحیح قدر معلوم ہوتی ہے، اور اس بات پر بھی شکر کی ادائیگی کہ اللہ رمضان میں اپنے بندوں کو عبادات اور نیکیوں کی توفیق دیتا ہے، کتنے ہی لوگ ایسے تھے جو رمضان المبارک کو پانے کی تمنا کرتے تھے لیکن قضائے الہی سے موت نے ان کو اپنی آغوش میں لے لیا بہت سارے لوگوں نے گزشتہ رمضان ہمارے ساتھ روزہ رکھا عید منائیں لیکن اب وہ ہمارے درمیان نہیں ہے لہذا جو عمر ملی ہے اس کو اللہ کی بندگی کے لئے غنیمت سمجھنا چاہیے اور نیک اعمال کے ذریعے تقرب الی اللہ کا ذریعہ بنانا چاہیے مسلمان کا اصل سرمایہ اس کی عمر ہے لہذا زندگی کا ایک ایک پل ضائع ہونے سے بچانا چاہیے، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا، “اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هِرَمِكَ ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ ، وَغِنَاءَكَ قَبْلَ فَقْرِكَ ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ” (رواه الحاكم)، پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے”، ان نبوی نصائح پر کرنے کے ساتھ ہمیں اس جماعت میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مَنْ طَالَ عُمُرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ. یعنی: جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہوں۔(سنن ترمذی)، اور اس جماعت میں شامل کئے جانے سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے جس کے متعلق فرمایا:مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ..یعنی:جس کی عمر لمبی ہو اور عمل بُرے ہوں۔(سنن ترمذی)
چنانچہ لمبی عمروالاہرروز نیک عمل اختیار کیے رہتا ہے وہ اپنے آپ کو جہنم سے آزاد کرانے کے مشن پرقائم رہتا ہے،اس کی عمر کی لمبائی اس کیلئے جنت میں درجاتِ عُلیٰ کا باعث بنتی ہے۔ لیکن 
وہ شخص جو طویل العمر تو ہے مگر روزافزوں برائیوں پرمصرہے، روزانہ جہنم کا سوداکرنے میں مشغول ہے،اس کی عمر کی لمبائی اس کیلئے جہنم میں مزید اسفل السافلین میں دھکیلنے کا سبب بنے گی۔
      اخلاص نیت: یعنی دل میں یہ ارادہ ہو کہ جو بھی عبادت اس ماہ مقدس میں اور اس کے بعد کرنی ہے وہ صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے کرنا ہے ریا اور دکھاوے کے علاوہ ہر ایسے کام سے بچنے کی کوشش کرنا جو اعمال کو ضائع کر دینے والے ہو  جس طرح ہم اپنی برائیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح نیک اعمال کو بھی چھپانے کی کوشش کرنا چاہیے  جیسے فرائض کے علاوہ نفل اور تہجد نمازیں رات کی تاریکی میں بہنے والے آنسو لوگوں کو دیا جانے والا صدقہ جو صرف اللہ کے لئے کیا جاتے ہیں تقوی کی بنیاد پر انہیں لوگوں کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کرنا، اللہ تعالی نے فرمایا :إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلۡمُتَّقِينَ
 اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے(المائدہ:27)،
        اعمال کی قبولیت میں اخلاص کس قدر ضروری ہے اس کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ”وما امروا الا لیعبدواللہ مخلصین لہ الدین۔”انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اسی کے لیے دین کو خالص رکھیں۔(البینة:5)، اور رسول اللہ ؐ نے فرمایا:’انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ ما نوی”تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزاء ملے گی۔(بخاری و مسلم) ، مذکورہ آیت و حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ عمل چاہے کتنا ہی اچھا او ر افضل ہو لیکن اگر نیت خالص نہیں تو وہ عمل ضائع ہو جائے گا،  جیسا کہ صحیح مسلم کی مشہور حدیث جس میں تین آدمیوں (بہترین قرآن پڑھنے والے ،اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور خوب سخاوت کرنے والے)کو عذاب ملنے کی وجہ صرف اخلاص نیت کا نہ ہونا ہے.
        کثرت اذکار: ماہ مقدس میں ہر گھڑی ہر لمحہ اپنے نفس کو اللہ کے ذکر کا عادی بنائیں اور زبان کو ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رکھنے کی کوشش کریں مسنون اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کریں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا، وَسَبِّحُوْهُ بُكْـرَةً وَّاَصِيْلًا (الاحزاب:42،41)، اے ایمان والو ! اﷲ کو خوب کثرت سے یاد کیا کرو، اور اس کی صبح و شام پاکی بیان کرو، مراد یہ ہے کہ انسان ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کو یاد رکھے اور  اپنے روز مرہ معمولاتِ زندگی کے دوران بھی ہر گھڑی، ہر قدم پر اللہ کی یاد اس کے دل میں مستحضر رہے، عملی طور پر ذکر کثیر کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم مسنون دعاؤں کو یاد کر کے انہیں اپنے معمولات کا حصہ بنا لیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر کیفیت اور ہر موقع محل کے لیے دعائیں تعلیم فرمائی ہیں۔ کثرتِ اذکار کا نتیجہ بھی اللہ نے واضح فرما دیا ہے، وَٱلذَّـٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱلذَّـٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغۡفِرَةٗ وَأَجۡرًا عَظِيمٗا، اور بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے. (الاحزاب:35)، 
           ذکر و اذکار کے جہاں بہت سارے فائدے ہیں وہیں سب سے بڑا فائدہ سکون قلب ہے، آج سکون قلب حاصل کرنے کے لیے انسان نہ جانے کیا کچھ کر گزرتا ہے، ایسے لوگ جو حقیقی سکون کے متلاشی ہیں اُنہیں قرآن میں غوطہ زن ہونا ہوگا جہاں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(الرعد:28)   ’’جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔‘‘ (الرعد:28)، اس آیت مقدسہ میں ذکر اﷲ کا سب سے بڑا فائدہ بیان کیا گیا ہے کہ جو بھی اپنے رب کو یاد کرتا ہے، اس کو سکون قلب حاصل ہو تا ہے جو دنیا کی کسی بھی چیز میں نہیں ہے۔
          تلاوت اور تدبر قرآن : قرآن مجید رمضان المبارک کے با برکت مہینہ میں نازل ہوا اس لحاظ سے قرآن حکیم اور رمضان المبارک کا آپس میں گہرا تعلق ہے، رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا گویا اس تعلق کو مضبوط و مستحکم کرتاہے، چنانچہ رمضان المبارک میں اس کا نازل ہونا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا عمل زیادہ رکھنا، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا رمضان المبارک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کا دور کرانا، تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بزرگانِ دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، اس کے علاوہ تقوی، شفاعت اور قرب الٰہی جیسے اہم امور رمضان اور قرآن میں مشترک طور ہونا، یہ سب امور اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہیں کہ اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہیے۔ 
          اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید کی تلاوت، اس پڑھنا اور سننا دونوں کارِثواب ہے، اس کی ایک ایک آیت پر اجروثواب کا وعدہ ہے، اس میں غورو فکر، تدبر اوراس پر عمل نہایت ضروری ہے، اور یہی نزول قرآن کا مقصد اصلی ہے: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ’’یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو(اے نبی)ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غورکریں اورعقل وفکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔‘‘(صٓ29)۔
    نزول قرآن کا مقصد اس کے سوا اورکچھ نہیں کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اسکے بنائے ہوئے اصول وقوانین کے مطابق زندگی بسرکرے ، یہ جانے کہ کون سی چیزبری ہے اور کون سی چیز اچھی ہے، کس طرح اس کی اصلاح ہوگی اورکن اسباب سے اس میں فساد وبگاڑواقع ہوسکتاہے، ہم اس بات پر کبھی غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور ہمیشہ کام آنے والی مقدس کتاب جس میں نظام زندگی کا رازمضمرہے، اور جو دنیاکے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے ،وہ کن تعلیمات پر مشتمل ہے وہ کبھی اس کی زبان کو سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے اورنہ اس میں گہرائی یا گیرائی سے کام لیناچاہتے ہیں، توبھلاوہ کیسے فلاح وکامرانی پاسکتے ہیں، اور کس طرح دنیامیں چین وسکون اور آخرت میں نجات مل سکتی ہے۔
       بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کو سمجھنا صرف علماء کا کام ہے ،عام لوگوں کا نہیں مگریہ خیال بالکل غلط ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی تخصیص نہیں کی بلکہ صراحت کی ہے کہ قرآن تمام لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے، اگراسے سمجھ کرنہیں پڑھا گیااور غور وفکرنہیں کیاگیاتو اس پر عمل مشکل ہوجائے گا، پھریہ عام انسانوں کی رسوائی اورذلت کی بات ہوگی کہ ان کے پاس دین ودنیا کے تمام مسائل کا حل موجودہے ،پھر بھی وہ اس پر وہ عمل نہیں کرتے،  آئیے اس ماہ مقدس میں ہم پختہ عزم و ارادہ کریں کی قرآن کی تلاوت کے ساتھ اس کو سمجھنے کی بھی کوشش کریں گے تاکہ ہم اللہ کے احکامات اور پیغامات کو بخوبی جان سکیں اور اس پر عمل کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرسکیں. 
            دعوت وارشاد اور اصلاح: قرآن و سنت کے نصوص سے ثابت ہے کہ دعوت دینا فرض ہے اور حسبِ استطاعت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، عصر حاضر میں دین حق کی دعوت کی اہمیت اس وجہ سے بہت بڑھ جاتی ہے کہ تمام گمراہیوں کی دعوت ہر طرف زوروں پر ہے، دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے۔  اور دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے، رمضان المبارک جیسا مقدس مہینہ دعوت وارشاد اور اصلاح کے لئے ایک قیمتی موقع ہے، لہذا اس ماہ مقدس میں اپنے رشتے داروں، پڑوسیوں اور دوست احباب کو براہ راست یا دعوتی کتب وعظ و نصیحت اور ویڈیوکلپس ارسال کرکے دعوت کا کام انجام دیا جاسکتا ہے اس طرح دیگر اعمال کے اجر و ثواب کے ساتھ انبیاءعلیہم السلام کے مشن میں شامل ہونے کا بھی اجر نصیب ہوگا، چونکہ اس مہینے میں لوگوں کے قلوب اللہ کی طرف زیادہ مائل اور عبادت و طاعت کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں اس لیے اس دعوت کے موثر ہونے کا زیادہ امکان ہے، اگر اللہ کے فضل سے آپ کے ذریعے کسی کو ہدایت مل جائے تو بہت بڑی بات ہے، جیسا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا، خداکی قسم اگر تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں ( کی دولت ) سے بہتر ہے ۔(بخاری) 
           وقت کی قدر : بیکار اور فارغ لوگوں کی صحبت سے دور رہیں چغلی غیبت اور بد گوئی سے زبان کی حفاظت کریں اور اللہ کو ناراض کر دینے والے قول و عمل سے احتراز کریں کریں ہمیشہ اچھی بھلی بات کرنے کی کوشش کریں زبان اکثر اللہ کے ذکر سے تر ہو کیونکہ یہ مہینہ نیکیوں کو جمع کرنے اور اپنے آپ کو عبادات کے لئے فارغ کرنے کا ہے عید یہ موقع بعد میں ملے نہ ملے مومن کے لیے ہر گھڑی ہر لمحہ ہر دن ہر مہینہ اور ہر سال غنیمت ہے، طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دور دراز کے دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ دونوں ایک ساتھ اسلام لائے تھے، ان میں ایک دوسرے کی نسبت بہت ہی محنتی تھا، تو محنتی نے جہاد کیا اور شہید ہو گیا، پھر دوسرا شخصاس کے ایک سال بعد تک زندہ رہا، اس کے بعد وہ بھی مر گیا، طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں، اتنے میں وہ دونوں شخص نظر آئے اور جنت کے اندر سے ایک شخص نکلا، اور اس شخص کو اندر جانے کی اجازت دی جس کا انتقال آخر میں ہوا تھا، پھر دوسری بار نکلا، اور اس کو اجازت دی جو شہید کر دیا گیا تھا، اس کے بعد اس شخص نے میرے پاس آ کر کہا: تم واپس چلے جاؤ، ابھی تمہارا وقت نہیں آیا، صبح اٹھ کر طلحہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے خواب بیان کرنے لگے تو لوگوں نے بڑی حیرت ظاہر کی، پھر خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی، اور لوگوں نے یہ سارا قصہ اور واقعہ آپ سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کس بات پر تعجب ہے“؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! پہلا شخص نہایت عبادت گزار تھا، پھر وہ شہید بھی کر دیا گیا، اور یہ دوسرا اس سے پہلے جنت میں داخل کیا گیا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ اس کے بعد ایک سال مزید زندہ نہیں رہا؟“، لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور زندہ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال میں تو اس نے رمضان کا مہینہ پایا، روزے رکھے، اور نماز بھی پڑھی اور اتنے سجدے کئے، کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ تو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسی وجہ سے ان دونوں (کے درجوں) میں زمین و آسمان کے فاصلہ سے بھی زیادہ دوری ہے“ (ابن ماجہ)، یعنی اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی عمل ضائع ہونے والا نہیں بشرطیکہ خلوص دل کے ساتھ اس کو راضی کرنے کے لیے کیا ہو، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تھوڑی عبادت کا درجہ بڑے عابد اور زاہد سے بڑھ جاتا ہے، خلوص اور محبت الہیٰ کے ساتھ تھوڑا عمل بھی سینکڑوں اعمال سے زیادہ ہے۔
        اپنی اور ماتحتوں کی تربیت: رمضان المبارک ایک مقدس اور بابرکت مہینہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تربیتی مہینہ بھی ہے لہذا اس میں سب سے پہلے اپنی پھر اہل و عیال اور بھائی بہنوں کی  تربیت کی فکر کرنی چاہیے، ان کو اس مہینے کی فضیلت اور اہمیت بتانے کے ساتھ ساتھ نماز کا پابند بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، کثرت تلاوت کا عادی بنانا چاہیے گھر کے اندر اپنے قول و فعل سے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ بھی انجام دینا چاہیے، اور یہ مہینہ ان لوگوں کے لیے بھی بہت غنیمت ہے جو روزہ نماز ذکرواذکار تلاوت اور اللہ کی یاد سے غافل ہیں انہیں بھی یہ سب چیزیں یاد دلانی چاہیے اسے جہاں ایک بہترین ماحول پیدا ہوگا وہی نیکیوں کی طرف رہنمائی کرنے والے کو بھی نیکیاں کرنے والے کے برابر اجر ملے گا، جیسا کہ حدیث میں ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے کسی اچھائی کی طرف رہنمائی کی، اسے اسی طرح کا اجر ملے گا، جس طرح کا اجر اس اچھائی کے کرنے والے کو ملے گا. (مسلم) ، ایک دوسری روایت میں ہے، ’’ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسول اللہ، میں سنگین حالت میں ہوں (اور مہم میں نہیں جا سکتا ہوں)، اس لیے مجھے کوئی سواری دے دیجیے (تاکہ میں آپ کے ساتھ جا سکوں)، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: میرے پاس ایسی کوئی شے نہیں جس پر میں تجھے سوار کرا سکوں، مگر تم فلاں شخص کے پاس جاؤ، شاید وہ تمھیں کوئی سواری دے دے۔ چنانچہ وہ اس فلاں شخص کے پاس گیا تو اس نے اسے سواری دے دی۔ پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی اچھائی کی طرف رہنمائی کی، اسے اسی طرح کا اجر ملے گا، جس طرح کا اجر اس اچھائی کے کرنے والے کو ملے گا۔‘‘ ابوداؤد
           لہذا اگر ہمارے نزدیک آخرت کا معاملہ زیادہ اہم ہے اور ہم نیک اعمال کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوتاہی اور تاخیر بلکل نہیں کرنی چاہیے، اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے توبہ کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے، اور یہ ارادہ کرتے ہوئے اپنے اعمال کو خوب سے خوب تر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ شاید یہ زندگی کا آخری رمضان ہو اور اس کے بعد رمضان نصیب نہ ہو، لہذا ہمیں جو بھی موقع ملے ہمیں ایک ایک نیکیاں جمع کرنا چاہیے، اللہ کی عظمت و کبریائی کا احساس کرنا چاہیےاور اس دن سے ڈرنا چاہیے جس دن بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور اللہ کی رحمت سے اس جنت کی امید بھی رکھنی چاہیے جس کی چوڑائی اور لمبائی زمین و آسمان کے برابر ہے اور وہ متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالی ہمیں اعمال پر استقامت اور مداومت، عبادات کی پابندی اور اپنی بندگی کی توفیق عطا فرمائیں گے انشاءاللہ، اللہ تعالی قبول فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین