أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبَّنَاۤ اِنِّىۡۤ اَسۡكَنۡتُ مِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ بِوَادٍ غَيۡرِ ذِىۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَيۡتِكَ الۡمُحَرَّمِۙ رَبَّنَا لِيُقِيۡمُوۡا الصَّلٰوةَ فَاجۡعَلۡ اَ فۡـئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهۡوِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ وَارۡزُقۡهُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اے ہمارے رب ! میں اپنی بعض اولاد کو بےآب وگیا، وادی میں ٹھر ادیا ہے تیرے حرمت والے گھر کے نزدیک، اے ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز کو قائم رکھیں تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ایسا کردے کہ وہ ان کی طرف مائل رہیں اور ان کو پھلوں سے روزی دے تاکہ وہ شکر ادا کریں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے دعا کی اے ہمارے رب میں نے اپنی بعض اولاد کو بےآب وگیاہ وادی میں ٹھر ادیا تیرے حرمت والے گھر کے نزدیک اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں تو کچھ لوگوں کے دلوں کی ایسا کردے کہ کہ وہ ان کی طرف مائل رہیں اور ان کو پھولوں سے روزی دے تاکہ وہ شکراد کریں۔ اے ہمارے رب ! بیشک تو ان باتوں کو جانتا ہے جن کو ہم چھپاتے ہیں اور جن کو ہم ظاہر کرتے ہیں اور اللہ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ تمام تعریفیں الہ کے لیے ہیں جس نے مجھے پڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے، بیشک میرا رب ضرور دعا سننے والا ہے۔ (ابراھیم : 37، 39) 

حضرت ابراھیم کا غیر آباد میں اپنے اہل کو چھوڑنے کا پس منظر اور درپیش منظر :

حافظ عمادالدین اسماعیل بن عمر بن مشقی شافعی متوفی 774 ھ لکھتے ہیں : 

اہل کتاب نے بیان کیا ہے جب حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو بیت المقدر کے شہروں میں رہتے ہوئے بیس سال ہوگئے تو حضرت سارہ نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) سے کہا : بیشک مجھے میرے رب نے اولاد سے محروم رکھا ہے آپ میری باندی سے عمل تولید کیجئے شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے اولاد عطا فرمائے۔ جب حضرت سارہ نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو حضرت ہاجرہ ہبہ کردی اور حضرت ابراھیم نے ان کے ساتھ شب بسر کی تو حضرت ہاجرہ ان سے حاملہ ہوگئیں جب سے ان کو حمل ہوا تھا وہ حضرت سارہ پر فخر کرنے لگی تھی۔ حضرت سارہ کو ان پر رشک آتا تھا، انہوں نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) سے ان کی شکایت کی حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرمایا تم اس کے ساتھ جو چاہو سلوک کرو حضرت ہاجر، حضرت سارہ سے ڈر کر وہاں سے فرار ہوگئیں وہ ایک چشمہ کے پاس پہنچیں تو ایک فرشتہ نے کہا تم ڈرومت اللہ تعالیٰ تم سے جو بچہ پیدا کرنے والا ہے اس میں بہت خیر ہے اور ان کو واپس جانے کا حکم دیا اور ان کو یہ بشارت کہ ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا اور تم ان کا نام اسماعیل رکھنا۔ وہ لوگوں سے فتنے دور کریں گے ان کا تمام لوگوں پر ہاتھ ہوگا اور تمام لوگ ان کی مدد کریں گے وہ اپنے بھائیوں کے ملکوں کے مالک ہوں گے حضرت ہاجر نے اس پر شکرا دا کیا اور یہ بشارت حضرت ابراھیم کے بٹیے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پوری ہوئی کیونکہ آپ ہی تمام بلاو عرب کے سردار تھے، اور اشرق اور غرب کے تمام ممالک میں آپ کا دین پھیل گیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس قدر زیاہ علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے کہ پچھلی امتوں میں سے کسی کو اتنے علوم اور اعمال صالحہ عطا نہیں کیے تھے اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ کو تمام رسولوں پر فضیلت حاصل ہے اور آپ کی رسالت میں کمال اور برکت ہے اور آپ کی نبوت تمام روئے زمین کے لیے ہے جب حضرت ہاجر واپس گئیں اور حضرت اسماعیل پیدا ہوگئے اس وقت حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی عمر چھاسی سال تھی اور وہ حضرت اسحاق کی پیدائش سے تیرہ سال پہلے پیدا ہوئے۔ امام ابن سعد نے روایت کیا ہے کہ اس وقت حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی عمر 90 سال تھی اور اس کے تیس سال بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے۔ (الطبقات الکبری ج 1 ص 41) 

اور مقصود یہ ہے کہ جب حضرت ہاجر (علیہما السلام) کے ہاں حضرت اسماعیل پیدا ہوگئے تو حضرت ہاجر پر حضرت سارہ کی غیرت بہت زیادہ ہوگئی اور انہوں نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ حضرت ہاجر کو ان کی نگاہ سے دور کردیں پھر حضرت ابراھیم (علیہ السلام) حضرت ہاجر اور ان کے بیٹے سماعیل کو لے کر روانہ ہوئے اس وقت اسماعیل دودھ پیتے تھے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے ان کو لے جاکر اس جگہ چھوڑ دیا جس کو آج کل مکہ کہا جاتا ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج 1 ص 228، 229، مطبوعہ دارلفکر بیروت، 1415 ھ) 

حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو مکہ میں چھوڑ کر جانے کی پور تفصیل اس حدیث میں ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ عورتوں میں سے جس نے سب سے پہلے اپنی کمر پر پٹکا باندھا وہ حضرت اسماعیل کی والدہ تھیں انہوں نے یہ پٹکا اس لیے باندھا تھا کہ ان کے قدموں کے نشان مٹ جائیں اور حضرت سارہ کو پتا نہ چلے پھر حضرت ابراھیم (علیہ السلام) انہیں اور ان کے دودھ پیتے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو لے کر روانہ ہوئے اور جس جگہ بیت اللہ ہے وہاں ایک درخت کے پاس چھوڑ دیا جس جگہ پر آب زمزم کا کنواں ہے۔ اس وقت مکہ میں کوئی آبادی نہیں تھی اور نہ وہاں پانی تھا انہوں نے اس جگہ ان دونوں کو چھوڑ دیا ان کے پاس ایک تھیلا رکھ دیا جس میں کھجوریں ستو اور پانی تھا، حضرت ابراھیم (علیہ السلام) واپس جانے لگے تو حضرت اسماعیل کی والدہ ان کے پیچھے گئیں اور کہا : اے ابراھیم ! آپ کہا جارہے ہیں اور ہم کو اس غیر آباد اور بےآب وگیاہ وادی میں کیوں چھوڑ رہے ہیں ؟ وہ باربار جملے دہراتی رہیں اور حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے ان کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا پھر انہوں نے پوچھا : کی اللہ نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ؟ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے کہا ہاں ! حضرت ہاجر نے کہا پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا اور وہ مطمئن ہو ہوکرلوٹ آئیں پھر حضرت ابراھیم (علیہ السلام) واپس روانہ ہوئے حتی کہ جب وہ مقام ثنیہ پر پہنچے جہاں انہیں کوئی نہیں دیکھ رہا تھا تو انہوں نے اپنا منہ اس طرف کیا جس طرف اب بیت اللہ ہے پھر انہوں نے دونوں ہاتھ بلند اٹھاکر ان کلمات کے ساتھ دعا کی : اے ہمارے رب ! میں اپنی بعض اولاد کو بےاب وگیاہ وادی میں ٹھرادیا ہے تیرے حرمت والے گھر میں کے نزدیک اے ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں تو کچھ لوگوں کو ایسا کردے کہ وہ ان کی طرف مائل رہیں اور ان کو پھلوں سے روزی دے تاکہ وہ شکرادا کریں۔ (ابراھیم : 37) 

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ حضرت اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں، اور اس پانی سے پیتی تھیں ؟ حتی کہ جب مشکیزہ کا پانی ختم ہوگیا تو وہ اور انکا بیٹا دونوں پیاسے تھے۔ وہ اپنے بیٹے کی طرف دیکھتیں جو پیاس سے تڑپ رہے تھے، جب وہ ان کو دیکھنے کی تاب نہ لاسکیں تو وہاں سے چل پڑیں، انہوں نے دیکھا اس زمین کے قریب صفا پہاڑ تھا، وہ اس پہاڑ پر کھڑی ہوگئیں کہ کوئی آتا ہوا دکھائی دے انہیں کوئی نطر نہیں آیا پھر وہ صفا سے اتریں اور وادی میں پہنچ گئیں انہوں نے اپنی قمیض کا دامن اٹھا دیا اور بہت تیز دوڑ کر اس وقدی کے پار گئیں پھر مروہ پہاڑ پر گئیں اور دیکھا کہ کوئی شخص دکھائی دے انہیں کوئی نظر نہیں آیا انہوں نے صفا مروہ کے درمیان اس طرح سات مرتبہ دوڑلگائی، پھر انہوں نے اپنے آپ کو مخاطب کر کے کہا اپ ٹھرو جاؤ پھر انہوں نے کان لگاکر سنا تو انہیں ایک آواز سنائی دی اور اس نے کہا اگر تمہارے پاس کوئی فریاد رس ہے تو تم نے اس کو اپنی آواز پہنچادی ہے اچانک دیکھا تو زمزم کے قرین ایک فرشتہ کھڑا تھا اس فرشتے نے اس گجہ اپنی ایڑی یا اپنے پر مارے حتی کہ پانی نکلنے لگا۔ حضرت ہاجرہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اس پانی کو حوض کی طرح اکٹھا کرنے لگیں۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اسماعیل کی ماں پر رحم فرمائے کاش وہ زمزم کو بہتا چھوڑ دیتیں یا فرمایا کاش وہ اس میں سے چلو نہ بھرتیں تو زمزم ایک بہتاہو چشمہ بن جاتا، پھر حضرت ہاجرہ نے خود پانی پیا اور اپنے بیٹے کو دودھ پلایا۔ فرشتہ نے ان سے کہا تم اپنے بچے کے متعلق فکرنہ کرو، اس جگہ بیت اللہ ہے جس کو یہ لڑکا اور اس کا باپ تعمیر کرے گا اور اللہ اسکے اہل کو ضائع نہیں کرے گا اور بیت اللہ کی زمین سے بلند تھی ان کے دائیں اور بائیں جانب سے سیلاب گزر جاتے تھے۔ 

اسی طرح وقت گزرتارہا حتی کہ جرم کے کچھ لوگ وہاں سے گزرے یا جرہم کے گھرانوں میں سے کو کچھ لوگ وہاں سے گزرے وہ مکہ کے نشیب میں اترے انہوں وہاں پرندوں کو منڈلاتے ہوئے دیکھا انہوں نے آپس میں کہا یہ پرندے پانی پر جا رہے رہیں ہم اس وادی اور اس میں جو پانی ہے اس کا ارادہ کرتے ہیں انہوں نے ایک یا دو آدمیوں کو بھیجا تو وہ پانی تک پہنچ گئے انہوں نے واپس جاکر ان کو خبر ید تو وہ سب وہاں پہنچ گئے وہاں حضرت اسماعیل کی والدہ تھیں۔ انہوں نے کا ہ کیا آپ ہم کو اس کی اجازت دیتی ہیں کہ ہم آپ کے پاس قیام کریں حضرت ہاجرہ نے کہا ہاں ! لیکن پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں ہوگا انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس چیز سے حضرت اسماعیل کی ماں ڈھارس بندھی اور وہ انس چاہتی تھیں۔ وہ لوگ وہاں ٹھر گئے اور انہوں نے اپنے اگھر والوں کو بھی بلالیا حتی کہ جب وہاں بہت سے گھر بن گئے اور ان کا بیٹا جوان ہوگیا اور اس نے ان سے عربی زبان سیکھ لی، جب حضرت اسماعیل جوان ہوئے تو وہ جرہم کے لوگوں کو اچھے لگے تو انہوں نے اپنی ایک عورت کا ان سے نکاح کردیا اور حضرت اسماعیل کی والدہ فوت ہوگئیں، حضرت اسماعیل کی شادی ہوجانے کے بعد حضرت براہیم (علیہ السلام) اپنے ہل و عیال کے احوال معلوم کرنے کے لیے آئے، انہوں نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو موجود پایا تو ان کی بیوی سے ان کے متعلق معلوم کیا اس نے کہا وہ ہمارے لیے کچھ چیزیں لینے گئے ہیں (دوسری روایت میں وہ شکار کرنے گئے ہیں) پھر حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے ان کے حالات اور گزراوقت کے متعلق ان سے پوچھا اس نے کہا ہم بہت برے حالات میں ہیں اور ہم بہت تنگی اور سختی میں ہیں اور ان سے شکایت کی حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے کہا کہ جب تمہارا خواند آئے تو تم اس سے میرا سلام کہنا اور اس سے کہنا کہ وہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ تبدیل کرلے، جب اسماعیل آئے تو ان کو کچھ تفیر محسوس ہوا انہوں نے پوچھا کی اتمہارے پاس کوئی آیا تھا بیوی نے کہا ہاں اس اس شکل کا ایک بوڑھا آیا تھا اس نے تمہارے متعلق پوچھا تو میں نے اس کو بتایا اس نے مجھ سے پوچھا تمہارے حالات کیسے ہیں ؟ تو میں نے اس کو بتایا ہم بہت جفاکشی اور سختی کے ایام گزار رہے ہی۔ حضرت اسماعیل نے پوچھا کی انہوں نے کسی چیز کی وصیت کی تھی ؟ اس نے کہا ہاں انہوں نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں آپ ان کا سلام کہوں اور وہ کہتے تھے کہ تم اپنے دروازے کی چوکھٹ تبدیل کرلو، حضرت سماعیل نے کہا وہ میرے والد تھے اور انہوں نے مجے حکم دیا ہے کہ میں تم سے علیحدہ ہوجاؤں تم اپنے والدیں کے گھر چلی جاؤ، انہوں نے اس کو طلاق دے دی اور ان لوگوں میں دوسری شادی کرلی اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا حضرت ابراھیم (علیہ السلام) ٹھرے رہے، پھر کچھ عرصہ بعد آئے تو حضرت اسماعیل نہیں ملے وہ ان کی بیوی کے پاس گئے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے متعلق سوال کیا، ان کی بیونے کہا وہ ہمارے واسطے کچھ لینے گئے ہیں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے ؟ اور ان کی گزار اوقات کے متعلق سوال کیا، ان کی بیوی نے کا ہم خیریت سے ہیں اور بہت خوش حال ہیں اور انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے پوچھا تم لوگ کیا کھاتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم گوشت کھاتے ہیں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے پوچھا اور تم لوگ کی پیتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم پانی پیتے ہیں۔ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے دعا کی : اے اللہ ان کے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس وقت ان لوگوں کے پاس اناج نہیں تھا ورنہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) ان کے لیے اس میں بھی برکت کی دعا کرتے پھر آپ نے فرمایا کہ صرف ان دہ چیزوں ( گوشت اور پانی) پر مکہ مکرمہ کے سوا اور کسی جگہ گزارہ نہیں ہوسکتا صرف دو چیزیں اور جگہوں پر مزاج کے موافق نہیں ہوگی حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرمایا جب تمہارا شوہر آئے تو اس کے میرا سلام کہنا اور اس کہنا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو قائم رکھے جب حضرت اسماعیل آئے تو پو چھا کوئی شخص تمہارے پاس آیا تھا۔ ان کی بیوی نے کہا ہاں !` ہمارے پاس اچھی شکل و صورت کا ایک بوڑھا آیا تھا اور انہوں نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی تعریف کی انہوں نے ہماری گزار اوقات اور حالات کے متعلق پوچھا میں نے ان کو بتایا کہ میں خیریت سے ہوں۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے پوچھا کی انہوں نے کوئی وصیت بھی کی تھی ؟ انہوں نے کہا ہاں ! انہوں نے آپ کو سلام کہا اور آپ کے متعلق یہ حکم دیا کہ آپ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو قائم رکھیں۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے والد تھے اور تم چوکھٹ ہو انہوں نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اپنے پاس بر قرار رکھوں۔ 

پھر جب تک اللہ نے چاہا حضرت ابراھیم (علیہ السلام) ٹھرے پھر اس کے بعد اس وقت حضرت اسماعیل زمزم کے قریب ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھے اپنا تیردرست کر رہے تھے جب انہوں نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور دونوں ایک دوسرے سے اس طرح ملے جیسے بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے ملتا ہے پھر حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے کہا اے اسماعیل مجھے اللہ ایک چیز کا حکم دیا ہے، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے کہا آپ وہی کیجئے جس کا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے پوچھا آیا تم میری مدد کرو گے ؟ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے کہا میں آپ کی مدد کروں گا حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس جگہ بیت اللہ تعمیر کروں اور انہوں نے اس ٹیلہ کی طرف اشارہ کیا جو اپنے اردگرد کی زمین سے کافی بلند تھا آپ نے فرمایا اس وقت ان دونوں نے بیت کی بنیادیں اٹھائیں، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے تھے اور حضرت ابراھیم (علیہ السلام) ان پتھروں کو جوڑ کر لگاتے تھے حتی کہ جب بنیادیں زیادہ بلند ہوگئیں تو حضرت اسما عیل (علیہ السلام) اس پتھر ( مقام ابراھیم) کو لائے اور اس دیوار کے ساتھ رکھ دیا، حضرت ابراھیم (علیہ السلام) اس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کرتے تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پتھر لاتے رہے اور وہ دونوں یہ دعا کرتے تھے : اے ہمارے رب ! ہم سے قبول فرما بیشک تو بہت سننے والا بہت جاننے والا ہے وہ دونوں بیت اللہ کی تعمیر کرتے رہے اور بیت اللہ کے گرد طواف کرے رہے اور یہ دعا کرتے رہتے تھے اے : اے ہمارے رب ! تو ہم سے قبول فرما بیشک تو بہت سننے والا بہت جاننے والا ہے۔ ) صحیح البخاری رقم الحدیث : 3364 مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : 9107، مسند رقم الحدیث : 2285، عالم الکتب) 

حضرت اسماعیل کے ذبیح ہونے پر دالائل : 

حافظ احمد بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابن التین نے کہا اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں کیونکہ جن کو ذبیح کرنے کا حکم دیا تھا اور اس وقت چلنے پھرنے اور دوڑنے کی عمر کو پہنچے تھے اور اس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو دودھ پیتا چھوڑ کر گئے تھے اور جب وہ ان کے پاس لوٹے تو وہ شادی شدہ تھے اگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کرنے کا حکم ہوتا تو اس حدیث میں یہ مذکور ہوتا ہے کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) ان کے دودھ پینے کے زمانہ اور شادی سے پہلے بھی ان کے پاس آئے تھے لیکن یہ استدال صحیح نہیں ہے کیونکہ اس حدیث میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بچپن کے زمانہ میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے آنے کی نفی نہیں ہے اس لیے ہوسکتا ہے کہ درمیانی زمانہ میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) آئے ہو اور اس وقت آپ کو حکم ہوا ہو کہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں اور اس کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے، علامہ ابن حجر فرماتے ہیں ہیں بلکہ میں کہتا ہوں کہ ایک حدیث میں ان دونوں زمانوں کے درمیان حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے آنے کا ذکر ہے کیونکہ بوجہم کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ سے ملنے کے لیے ہر ماہ صبح کو براق پر سوار ہو کر آتے تھے اور دوپہر کو واپس شام پہنچ جاتے تھے امام فاکہی نے بھی سند صحیح کے ساتھ حضرت علی (رض) سے اسی طرح روایت کیا ہے کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) براق پر سوار ہو کر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ سے ملنے کے لیے جاتے تھے اور اس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شادی شدہ ہونے کے بعد اس کا معنی یہ ہے کہ پہلے ان سے متعدد وبار ملاقات کرنے کے بعد اس وقت آئے جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شادی ہوچکی تھی۔ (فتح الباری ج 6 ص 404، مطبوعہ لاہور، 1401، ھ) 

اور ہم یہ کہتے ہیں کہ صحیح بخاری کی اس حدیث میں بھی اس پر واضح قرائن ہیں کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) اس سے پہلے بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ سے ملنے کے لیے آتے رہتے تھے۔ 

اول تو اس لیے کہ ایک عام انسان سے بھی یہ متصور نہیں ہے کہ وہ اپنے دودھ پیتے بچے کو کسی غیر آباد اور بےآب گیاہ زمین میں چھوڑ آئے اور سالہاسال تک ان کی خبر نہ لے، چہ جائے کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی کے متعلق یہ گمان کیا جائے۔ 

ثانیا اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جب پہلے اور دوسری بار شکار سے واپس ہو کر آئے اور گھر انہیں کچھ انس محسوس ہو اور انہوں نے پوچھا کہ کیا کوئی آیا تھا ؟ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) سے ملتے جلتے رہے ہوں اور وہ ان کے جسم کے خوشبو سے مانوس ہوں تو جب وہ گھر آئے اور گھر میں وہی مانوس خشبو بسی تھی تو انہوں نے دونوں مرتبہ بیوی سے پوچھا کہ کیا کوئی آیا تھا۔ 

ثالثا جب ان کی پہلی اور دوسری دونوں بیوں نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی سکل و صورت اور ان کا حلیہ بیان کیا تو ہو پہچان گئے اور کہا وہ میرے والد ہیں ورنہ اگر انہوں نے دودھ پینے کے زمانہ سے لے کر اب تک انہیں نہ دیکھا ہو تاتو صرف حلیہ سن کر کیسے پہچان لیتے کہ وہ میرے ہیں۔ 

رابعا اس حدیث میں مذکور ہے اسکے بعد جب حضرت ابراھیم (علیہ السلام) آئے تو حضرت اسما عیل درخت کے نیچے بیٹھے تھے اپنے تیر درست کررہے تھے وہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو دیکھ کر فورا کھڑے ہوگئے اور دونوں ایک دوسرے سے اس طرح ملے جیسے باپ بیٹے سے ملتا ہے اگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے دودھ پینے کے ایام کے بعد اب پہلی بار حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو دیکھا تو دیکھتے ہی کیسے جان لیتے کہ یہ میرے والد ہیں اور فورا ان تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے اس لیے اگر حافظ ابن حجر عسقلانی کی رویت کردہ احادیث نہ بھی ہوتیں تب بھی صحیح بخاری کی اس حدیث میں اس پر واضح قرائن ہیں کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ سے ملنے کے لیے آتے رہتے تھے اور ان احادیث میں یہ تصریح ہے کہ آپ ہر ماہ ان سے ملنے کے لیے آتے تھے تو پھر جب حضرت اسماعیل سن شعور کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کو خواب کے ذریعے یہ حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو خدا کی راہ میں زبح کردیں۔

عام لوگوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی اولاد کے بےآب وگیاہ زمین میں چھوڑ آئیں : 

حضرت ابراھیم (علیہ السلام) اپنی بیوی اور دودھ پیتے بچے کو غیر آباد اور بےآب وگیاہ زمین میں چھوڑ کر چلے گئے تھے اس پر قیاس کرکے کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ پانی بیوی اور شیر خوار چبے کو کسی غیر آباد اور ویران جگہ میں چھوڑ کر چلا جائے جیسا کہ غالی اور جاہل صوفیائ پر اللہ توکل کرنے کی اس طرح تفسیر کرتے ہیں کیونکہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے اللہ کی وحی سے ایسا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ ن حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے لے سامان زیست کے اسباب پیدا کردیئے، اور کسی اور شخص کی یہ مرتبہ اور منصب نہیں ہے کہ وہ وحی الہی کا حامل ہو کیونکہ وحی صرف انبیاء (علیہم السلام) پر آتی ہے ہمارے لیے ہمارے نبی سید نا ‏محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے کہ اونٹ کو باندھ کر توکل کرو اسباب حاصل کرنے کے بعد مسبب کو اللہ پر چھوڑدینا یہ توکل ہے کہ یہ کہ اسباب کو ہی حاصل نہ کیا جائے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) اپنی ذریت کی دیکھ بھال کے لیے ہر ماہ شام سے مکہ آیا کرتے تھے۔ 

زمزم کے فضائل :

صحیح بخاری کی اس حدیث میں مذ کور ہے کہ فرشتے کے ایڑی یا پر زمین پر مارنے کی ونہ سے زمین سے پانی نکل آیا جس کو حضرت ہا جرہ نے زمزم فرمایا اور اس چشمہ کا نام زمزم پڑگیا سو اب ہم زمزم کے فضائل کے متعلق احادیث ذکر کر رہے ہیں۔ 

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس (رض) زمزم سے پانی پیتے تو یہ دعا کرتے اے اللہ میں تجھ سے علم نافع اور وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفاء کا سوال کرتا ہوں۔ ( سنن دارقطنی رقم الحدیث : 2712، دارالکتب العلمیہ بیروت، 1417 ھ) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب زمزم کے پانی کو پیا جائے تو تم اس کو شفاے طلب کے نے کی نیت سے پیو تو اللہ تعال تم کو شفاء عطافر مائے گا اور اس کو سیر ہونے کی نیت سے پیو تو اللہ تم کو سیر کرے گا اور اگر تم زمزم کو پیاس بجھانے کے لیے پیو تو اللہ اتمہاری پیاس بھجادے گا اور حضرت جبریل کے ایڑی مارنے اور حضرت اسماعیل کا پانی پلانے کے لیے زمزم وجود میں آیا۔ سنن دارقطبنی رقم الحدیث :2713، المستدرک ج 1 ص 473 سنن کبرای للبہیقی ج 5 ص 202، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3063) 

علامہ ابن لعربی نے کہا کہ زمزم کی یہ صفات قیامت تک کے لیے ہیں بشر طی کہ پینے والے کی نیت صحیح ہو اور وہ ان صفات کی تکذیب نہ کرتاہو اور زمزم کو آزمانے کے لیے نہ پیئے کیونکہ اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کی مدد فرماتا ہے اور آزمانے والوں کو رسوا کرتا ہے اور ابو عبداللہ محمد بن علی ترمذی نے کہا میرے والد (رح) نے بیان کیا کہ ایک اندھیری رات میں، میں کعبہ کا طواف کر رہا تھا مجھے برے زور سے بیشاب آیا، میں اس کو روکتا رہا حتی کہ مجھے تکلیف ہوئی اور مجھے یہ خدشہ تھا کہ اگر میں مسجد سے نکلا تو میں بعض آدمیوں کے قدموں تلے روندا جاؤں گا اور یہ حج کے ایام تھے مجھے یہ حدیث یاد آئی میں زمزم پر آیا اور خوب سیر ہر کر زمزم کو پیا پرھ صبح تک مجھے بیشاب کی ضرورت نہیں ہوئی (الجامع لاحکام القرآن جز 9 ص 325 ۔ 324، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ) 

مکہ کو حرم قرار دینے کی وجوہ : 

حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے کہا : عند بیتک المحرم یعنی تیرے اس گھر کے پاس جو محرم ہے محرم کا معنی ہے اس کو حرم قرار دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے بنانے سے بہت پہلے بنا ہوا تھا۔ رویت ہے کہ اس کو سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) یا فرشتوں نے بنایا تھا۔ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے اس گھر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لیے کی ہے کہ اس کا اللہ کے سوا کوئی مالک نہیں ہے یا یہ اضافت اس گھر کی عظمت اور جلالت کو ظاہر کرنے کے لیے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کسی گھر میں ہونے سے مستغنی ہے بیت اللہ کو محرم فرمانے کی مفسرین نے متعدد وجود بیان فرمائی ہیں بعض ازاں یہ ہیں جس طرح دوسرے شہروں میں شکار کرنا جائز ہے مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کی حرمت کی وجہ سے شکار کرنے کے حرام کردیا گیا ہے۔ (2) جابر بادشاہوں کی بیت اللہ پر حملہ کرنے کی قدرت نہیں دی۔ (3) اس کو محرم اس لیے فرمایا کہ اس کی حرمت بہت عظیم ہے اور اس میں کوئی ایسا عمل کرنا جا ئز نہیں ہے جو اس کی حرمت کی منافی ہو۔ (4) باہر سے آنے والوں کے لے اس شہر میں بغیر احرام کے داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ (5) جو اعمال دوسرے شہروں میں جا ئز ہیں مثلا اپنی بیوی سے عمل تزویج کرنا خوشبو لگانا بال کٹوانا اغیرہ وہ اس شیر میں احرام باندھ کر آنے والوں پر حرام کردیئے ہیں تاوقتیکہ وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی نہ کرلیں (6) اس شہر میں جنگ اور قتال کو حرام کردیا گیا ہے۔ 

مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کے فضائل :

حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز کو قائم رکھیں۔ یہ آیت اس مسئلہ کو متضمن ہے کہ بیت اللہ میں نماز پڑھنا دیگر مساجد میں نماز بڑھنے کی بہ نسبت بہت افضل ہے اور اس پر حسب ذیل احادیث دلالت کرتی ہیں حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میر اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزار گناافضل ہے ماسوا مسجد حرام کے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث :11901، صحیح مسلم رقم الحدیث :1394، سنن النسائی رقم الحدیث : 694، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1404، موطا امام مالک رقم الحدیث) 

حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے ماسوا مسجد حرام میں نماز پڑھنا میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے سوگنا افضل ہے۔ ( مسند احمد ج 4 ص 4، طبع قدیم، مسند احمدرقم الحدیث :16216، عالم الکتب بیروت) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھے تو رہ ایک نماز ہے اور مسجد قبائل محلہ کی مسجد میں اس کی نماز پچیس نمازیں ہیں اور جامع مسجد میں اسکی نماز پانچ سو نمازیں ہیں اور مسجد اقصی میں اس کی نمازیں ہزار نمازیں ہیں اور مسجد حرام میں اس کی نمازیں ایک لاکھ نمازیں ہیں۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :14132، المعجم الاوسط رقم الحدیث :7004، الترغیب والترہیب ج 2 ص 173) 

اس حدیث کی سند میں ابو الخطاب دمشق مجہول ہے اور اس کے شیخ رزیق ابو عبداللہ کے متعلق ابن حبان نے کہا جب تک دوسری احادیث سے اس کی تائید نہ ہو اس کی روایت سے استدلالا کرنا جا ئز نہیں ہے اور حافظ شمس الدین ذہبی نے اس حدیث کو بہت منکر کہا ہے۔ (میزان الاعتدال ج 7 ص 362، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1416 ھ) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مساجد کی بہ نسبت ہزار گنا افضل ہے ماسوا مسجد حرام میں نماز پڑھنا دوسری مسجد میں نماز پڑھنے کی بہ نسبت ایک لاکھ گنا افضل ہے (حافظ منذری نے کہا امام احمد اور امام بن ماجہ دونوں نے اس کو سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ) سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 1406، مسند احمدج 3 ص 397، 343، قدیم مسند احمد رقم الحدیث :14750، 15344، عالم الکتب بیروت، تمید ج 2 ص التر غیب والتر ہیبج 2 ص 172) (حمزہ احمد زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ حاشیہ مسند احمد رقم الحدیث : 14269، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، 1416 ھ) (حا فظ ابن حجر نے بھی کہا ہے اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں فتحالباری ج 3 ص 66، لاہور) 

حضرت ابو لدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوسری مسجد کی بہ نسبت مسجد حرام میں نماز پر ھنے کی فضیلت ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے اور میری مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت ایک ہزار نمازوں کے برابرے اور بیت المقدر کی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت پانچ سو نمازوں کے برابر ہے۔ مسند البزار (کشف الاستار) رقم الحدیث : مطبوعہ مؤستہ الر سالہ بیروت، 1404، الاستد کاررقم الحدیث : 10244، تمید ج 2 ص 671، الترغیب والترہیب ج 2 ص 175) 

حافظ بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام طبرانی اور امام بزار نے حضرت ابو الدرداء (رض) سے روایت کیا ہے امام بزار نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے (فتح الباری ج 3 ص 67 مطبوعہ لاہور، 1401) 

مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز کی فضیلت کے متعلق فقہا کے نظریات : 

حافظ ابوعمر ویوسف بن عبداللہ بن محمد عبدالبر مالکی اندلسی متوفی 463 ھ لکھتے ہیں : 

مدینہ مکہ سے افضل ہے یا مکہ مدینہ سے افضل ہے اس میں اہل علم کا اختلاف ہے امام مالک اور مدینہ کے اکثر علماء نے کہا ہے کہ مدینہ افضل ہے، امام شافعی نے کہا تمام روئے زمین میں سب سے افضل مکہ مکرمہ ہے عطاء بن ابی رباح اور تمام اہل ن کہ کوفہ کا یہی قول ہے اہل بصرہ ا میں اختلاف ہے بعض نے مکہ کو فضیلت دی اور بعض نے مدینہ، اور جمہور فقہاء یہ کہتے ہیں کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں نماز پڑھنے سے سودرجہ افضل ہے اور پاقی مساجد میں نماز پڑھنے سے ایک لاکھ درجہ افضل ہے اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنا باقی مساجد میں نماز پڑھنے کی بہ نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے سفیان بن عیینہ کا بھی یہی قول ہے۔ (الاسنذ کا رج 7 ص 326، مطبوعہ مئو سستہ الرسالہ بیروت، 1414 ھ، التمہید ج 2 ص 664 ۔ 665 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1419 ھ) 

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی 544 ھ لکھتے ہیں اس پر سب کا اجماع ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبروں کی جگہ تمام روئے زمین میں سب سے افضل ہے اور مکہ اور مدینہ روئے زمین میں سے سب سے افضل ہیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی جگہ کے علاوہ میں اختلاف ہے حضرت عمر بعض صحابہ امام مالک اور کثر اہل مدینہ کا مذہب یہ ہے کہ مدینہ افضل ہے اور حضرت ابوہریرہ کی جس روایت میں کہ میری اس مسجد میں نماز پڑھنا دیگر مساجد کی بہ نسبت ایک ہزار درجہ افضل ہے ماسوا مسجد حرام کے، صحیح مسلم رقم الحدیث :1394) وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ مسجد نبوی میں نماز پڑھنا مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے نو سو درجہ افضل ہے اور باقی مساجد سے ایک ہزار درجہ افضل ہے کیونکہ حضرت عمر نے فرمایا : مسجد حرام میں نماز پڑھنا باقی مساجد کی بہ نسبت ایک سو درجہ افضل ہے اور ہل مکہ کوفہ کو یہ قول ہے کہ مکہ افضل ہے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا مسجد نبوی کی بہ نسبت ایک سودرجہ افضل ہے جیسا کہ حضرت اب الزبیر کی روایت میں ہے اور باقی مساجف پر اس کی فضیلت ایک لاکھ درجہ ہے۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج 4 ص 511 مطبوعہ دارالوفاء بیروت، 1419 ھ) 

علامہ محمد بن خلیفہ وشتانی ابی مالکی متوفی 828 ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابن راشد اور ہمارے شیخ ابوعبداللہ کا مسلک یہ ہے کہ مکہ مکرمہ افضلا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ سبحانہ نے مکہ کو نماز کا قبلہ بنایا ہے اور کعبہ کی زیارت کو حج قرار دیا ہے اور مکہ کو حرم بنایا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے مکہ کو حرم بنایا ہے لوگوں نے اس کو حرم نہیں بنایا (صحیح البخاری رقم الحدیث : صحیح مسلم رقم الحدیث 1354 سنن الترمذی رقم الحدیث 809 سنن انسائی رقم الحدیث 2876) اور فقہا کا اجماع ہے کہ جو حرم مکہ میں شکار کے اس پر تاوان واجب ہے اور حرم مدینہ میں شکار کرنے والے پر تاوان واجب نہیں ہے اور فقہاء کی ایک جماعت کا یہ مذہب ہے کہ مکہ کی حرمت کی وجہ سے اس میں حددو قائم کرنی چائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعال نے فرمایا ہے : 

وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا (آل عمران : 97) جو اس میں داخل ہوگیا وہ امن والا ہوگیا۔ 

اور حرم مدینہ کے متعلق کسی کا یہ قول نہیں ہے کہ اس میں حد قائم نہ کی جائے اور کسی جگہ کی فضیلت اس کی ذات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس میں نیکیوں اور گناہوں کے پڑھنے جانے کی وجہ سے ہے، حرم مدینہ کی بہ نسبت حرم مکہ میں گناہ کرنا زیادہ سخت ہے اور یہ مکہ کی مدینہ پر فصیلت کی دلیل ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں رہنے کی جو ترغیب دی ہے (صحیح البخاری : 1887) اس سے مدینہ کی مکہ پر فضیلت ثابت نہیں ہوتی اور آپ نے جو یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکت فرمائی (صحیح مسلم رقم الحدیث :1374) اس دعا میں بھی یہ لازم نہیں آتا کہ مدینہ مکہ سے افضل ہو اسی طرح آپ نے فرمایا جو مدینہ کے مصائب پر صبر کرے گا میں قیامر کے دن اس حق میں گوہی دوں گا اور اس کی شفاعت کروں گا اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ مدینہ مکہ سے افضل ہو اسی طرح آپ نے فرمایا مجھے اس شہر کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا ہے جو تمام شہروں کو کھاجائے گا (صحیح مسلم رقم الحدیث :1382) اس سے بھی مدینہ کی مکہ پر فضیلت لازم نہیں آتی بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ دوسر شہروں کے لوگ مدینہ میں اکر رہنے لگیں گے، (اکمال المال المعلم ج 4 ص 508، 507، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ) 

علامہ سید محمد امین بن عابدین شامی حنفی متوفی 1256 ھ لکھتے ہیں : سید فاسی نے شفاء الغرام میں لکھا ہے کہ حضرت ابن الزبیر سے تین روایت حاصل ہوتی ہیں (1) مسجد حرام میں نماز پڑھنا مسجد نبوی میں نماز پڑھنے سے سو درجہ افضل ہے (2) ہزار درجہ افضل ہے (3) ایک لاکھ درجہ افضل ہے۔ سو جو شخص مسجد حرام میں ایک نماز پڑھ لے تو اسکی وہ نماز اس کی عمر کے دو سو پچاس سال چھ ماہ بیس دن کی نمازوں کی برابر ہے اور اگر وہ ایک دن میں پانچ نمازیں پڑھے تو اس کو پانچ سے ضرب دے دیں یہ تو تنہا پڑھی ہوئی نمازوں کی مقدار ہے اور اگر اس جماعت کے ساتھ ایک دن نماز پڑھی ہو تو اس کا عدد حضرت نوح (علیہ السلام) کی دگنی عمر کو پہنچ جائے گا۔ 

امام مالک کا مشہور مذہب یہ ہے کہ یہ اجر فرض نمازوں کے ساتھ مختص ہے اور احناف کا مذہب یہ ہے کہ فرض ہو یا نفل سب کا ثوب ایک لاکھ نماز اوں کے برابر ہوگا پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ خصوصا مسجد حرار مراد ہے یا پورے حرم کا یہ حکم ہے محب طبری کا مذہب یہ ہے کہ خصوصا مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے اور یک قول یہ ہے کہ پورے حرم میں نماز پڑھنے کا یہی ثوب ہے اور ایسی بھی احادیث ہیں کہ روزہ اور دیگر عبادات کا ثواب بھی حرم میں ایک لاکھ درجہ زیادہ ہوتا ہے لیکن ان کا ثبوت اس پائے کا نہیں ہے جس طرح نماز کی احادیث کا ثبوت ہے۔ 

علامہ بیری نے شرح الاشبا والنظائر میں احکام المسجد کے تحت لکھا ہے کہ ہمارے اصحاب (احناف) کی یہ مذہب ہے کہ ایک لاک گنا اضافہ تمام مکہ کو شامل ہے بلکہ تمام حرم مکہ کو شامل ہے جیسا کہ علامہ نووی نے بھی اس کی تصحیح کی ہے۔ (رد المختار ج ٢ ص ١٨٧، ١٨٨، ملخصا، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤٠٧ ھ رد المختار ج ٣ ص ٤٨٤، ٤٨٥، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٩ ھ) 

علامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٧ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے نزدیک مدینہ (فقہی) حرم نہیں ہے، اور راجح قول یہ ہے کہ مکہ، مدینہ سے افضل ہے، ماسوا اس جگہ کے جہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جسد اطہر ہے، کیونکہ وہ جگہ مطلقا افضل ہے، حتی کہ کعبہ عرش اور کرسی سے بھی افضل ہے۔

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

قاضی عیاض وغیرہ نے کہا ہے کہ آپ کی قبر مبارک کعبہ سے افضل ہے او اس پر اجماع ہے اور قبر مبارک کے م اس وا مدینہ میں اختلاف ہے، ابن عقیل حنبلی نے کہا ہے کہ یہ جگہ عرش سے بھی افضل ہے اور تاج فاکہی نے کہا ہے کہ زمین آسمانوں سے افضل ہے کیونکہ زمین میں آپ آرام فرما ہیں۔ ) ر دلمتارج 2 ص 257، س مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت رالحتاج 4 ص 47 مطبوعہ دارا حیاء التراث بیروت، 1419) 

میں کہتا ہوں کہ خصوصیات سے مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت پر یہ حدیث ہے : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے میری مسجد میں چالیس نمازیں پڑھیں اور درمیان میں کوئی قضا نہیں ہوئی اس کے لیے دوزخ کے عذاب سے نجات عذاب سے نجات اور نفاق سے نجات لکھ دی جائے گی (مسند اح‏د ج 3 ص 155 رقم الحدیث 12611، علم الکتب بیروت المعجم الا وسط رقم الحدیث : 5440) 

ہمارے شیخ علامہ احمد سعید کا ظمی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں مکہ مدینہ سے افضل ہے اور مدینہ مکہ سے زیادہ محبوب ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! شیبہ بن ربیعہ عتبہ بن ربیعہ اور میہ بن خلف پر لعنت فرماکیون کہ انہوں نے ہمیں ہمارے وطن سے وبا کی زمین کی طرف نکا دیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! ہمیں مدینہ ایسا محبوب بنادے جیسے ہمیں مکہ محبوب تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ اے اللہ ! ہمارے صاع اور رمد (پیمانوں) میں برکت دے ہمیں صحت دے اور مدینہ کے بخار کے حجفہ کی طرف منتقل کر دے ہم مدینہ میں آئے تو وہ اللہ کی زمین پر سب سے زیادہ وبالی زمین تھی اور بطحان نالہ آہستہ آہستہ بہتا رہتا تھا۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : 1889، صحیح مسلم رقم الحدیث :1376) 

خلاصہ یہ ہے کہ افضل بہر حال مکہ مکرمہ ہے لیکن مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے زیادہ محبوب ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلویں کا ایک شعر ہے : 

طیبہ نہ سہی افضل مکہ ہی بڑا زاہد۔۔۔۔ ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات برھائی ہے۔ 

دعا کا طریقہ اور اس کی فضیلت میں احادیث : 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اے ہمارے رب ! بیشک تو ان باتوں کو جانتا ہے جن کو ہم چھپاتے ہیں اور جن چیزوں کو ہم ظاہر کرتے ہیں اور اللہ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس آیت میں نہایت لطیف پیرائے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے اور اس کا معنی ہے کہ اے اللہ تو ہماری ضرریات سے آگاہ ہے ہم عواقب امور پر مطلع نہیں ہیں اور تو ہی خوب جانتا ہے کہ کیا چیزا ہمارے حق میں مفید ہے اور کیا چیز ہمارے حق میں مضر ہے سو تو ہمیں وہ چیز عطا فرما جو ہمارے لیے مفید ہو اور ہم اس چیز سے محفوظ رکھ جو ہماے حق میں مضر ہو کیونکہ آسمان و زمین کی ہر ظاہر اور مخفی چیز کو تو جاننے والا ہے اور تھے سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ 

اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے صرحتا سوال کیوں نہیں کیا اور صرف اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا پر اکتفا کیوں کی اس کے دو جواب ہیں : ایک یہ کہ کریم اور جواد کی حمدوثنا کرنا بھی سوال اور دعا ہوتی ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے ذکر میں مشغول ہونے کی وجہ سے سوال اور دعانہ کرے توا للہ اس کو سوال کرنے والوں سے زیادہ عطا فرماتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے : حضرت ابو سعیدرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یارب عزوجل ارشاد فرماتا ہے جس شخص کو قرآن مجید (کی تلاوت) نے میرے ذکر اور مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا میں اس کو سوال کرنے والوں سے زیادہ عطا فرماتا ہوں اور اللہ کے کلام کی باقی کلاموں پر اس طرح فضیلت ہے ( سنن الترمذی رقم الحدیث :2926، سنن الدارمی رقم الحدیث 3359، اضعفاء الکبیر للعقیلی ج 4 ص 49 کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص 372) 

اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے کو باوجود اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمائے بیشک میرا رب ضرور دعا سننے والا ہے۔ 

اس آیت میں بھی یہ رہنمائی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرنی چاہیں باقی رہایہ کہ جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کتنی عمر تھی اس کا بیان انشا عبقریب آئے گا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک میرا رب ضرور دعا سننے والا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن :60) اور تمہارے رب نے فرمایا تم مجھے سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یہ نہ کہے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے بلکہ پورے عزم کے ساتھ سوال کرے اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اور اس کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 4777 صحیح مسلم رقم الحدیث :2679، مسند احمد رقم الحدیث : 9902 عالم الکتب) 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو پسند فرماتا ہے اس سے سوال کی جائے اور افضل عبادت کشاد گی کا انتظار کرنا ہے۔ ( سنن الترمذی رقم الحدیث : 3571، المعجم الکبیر رقم الحدیث :10088، الکامل لابن عدی ج 2 ص 665) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ مصائب میں اس کی دعا قبول کی جائے اس کو چاہیے کہ راحت کے ایام میں بہ کثرت دعا کیا کرے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3382، مسند اب یعلی رقم الحدیث : الکامل لابن عدد ج 5 ص 1990) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے اس کیفیت کے ساتھ دعا کرو کہ تمہیں دعا قبول ہونے کا یقین ہو اور یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ غافل اور بےحضور قلب کے ساتھ دعاقبول نہیں کرتا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3479، امعجم الاوسط رقم الحدیث : 5105، المستدرک ج 1 ص 493)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 37