حدیث نمبر202

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا وہ بہت غنیمتیں لائے اور جلد لوٹ آئے ۱؎ تو ہم میں سے ایک شخص بولا جو ان میں نہ گیا تھا کہ ہم نے کوئی ایسا لشکر نہ دیکھا جو اس لشکر سے جلد لوٹا ہو اور زیادہ غنیمت لایا ہو ۲؎ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ قوم نہ بتاؤں جو غنیمت اور لوٹنے میں بہتر ہے وہ قوم ہے جو فجر کی نماز میں حاضر ہوں پھر سورج نکلنے تک بیٹھ کر اس کا ذکر کریں یہ لوگ جلدی لوٹنے والے اور بہتر غنیمت والے ہیں ۳؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے حماد ابن ابی حمید راوی حدیث میں ضعیف ہیں۴؎

شرح

۱؎ نجدعرب کا پانچواں صوبہ ہے حجا ز اور تہامہ کے درمیان،چونکہ یہ بلندی پر واقع ہے اس لیے نجدکہلاتا ہے،نجد کے معنے بلندی ہے۔

۲؎ یعنی یہ لشکر بڑا بابرکت ہے کہ سفر میں کم رہا مال بہت لے کر آیا۔خیال رہے کہ جس لشکر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس خود تشریف نہ لے جائیں اسے سریہ کہا جاتا ہے۔غالبًا اس شخص نے یہ حسرت کے طور پر کہا ہوگا کہ کاش اس میں میں بھی جاتا اسی لیے حضور علیہ السلام نے اگلا جواب دیا۔

۳؎ یعنی غنیمت صرف مال ہی کی نہیں ہوتی بلکہ اجرو ثواب کی بھی ہوتی ہے،اشراق پڑھنے والا جلدی گھر لوٹ آتا ہے اور پورا اجر لے کر آتا ہے۔

۴؎ چنانچہ انہیں بخاری نے منکر الحدیث فرمایا،نسائی نے کہا یہ ثقہ نہیں ہیں،ابن معین کہتے ہیں کہ ان کی حدیث کچھ نہیں،مرقاۃ نے فرمایا کہ ان کا حافظہ خراب ہے۔