أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَرَابِيۡلُهُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّتَغۡشٰى وُجُوۡهَهُمُ النَّارُۙ‏ ۞

ترجمہ:

وہ آگ بھڑکانے والے روغن کی قمیضیں پہنے ہوئے ہوں گے اور ان کے چہروں سے آگ لپٹ رہی ہوگی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ (آگ بھڑ کا نے والے) روغن کی قمیض پہنے ہوئے ہوں گے اور ان کے چہروں سے آگ لپٹ رہی ہوگی (ابراھیم : 50) 

سرابیل : سرہال کی جمع ہے، سربال کا معنی ہے قمیض۔ 

قطران : تیل کی طرح ایک سیال مادہ ہوتا ہے جو ابہل یا صنو پر وغیرہ کے درختوں سے نکلتا ہے اور خارش زدہ اونٹوں کے لگا یا جاتا ہے قاموس میں ہے درخت ابہل سے نکلنے والے سیال مادہ کو قطران کہتے ہیں بعض قرءات میں قطران (قاف کے زیر کے ساتھ) آیا ہے اس کا معنی ہے پگھلا ہوا تانبا کھولتا ہوا۔ علامہ نے کہا ہے اس تیل سے آگ بہت جلد بھڑک اٹھتی ہے حدیث میں ہے : 

النائحۃ اذا لم تتب قبل موتھا تقام یوم القیامۃ علیھا سربال من قطران و دررع من جرب۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :934) نو حہ کرنے والی جب مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو اس کو قیامت کے دب روغن قطران اور خارش کی قمیض پہنائی جائے گی۔ 

حضرت ابن عباس (رض) حضرت ابوہریرہ ، عکرمہ، سعید بن جبیر اور یعقوب سے مروی ہے کہ یہ لفظ قطران ہے (ق پر زبر ہے) اس کا معنی پگھلا ہوا تانبا یا پیتل۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 50