علم اور علماء:اہمیت وفضیلت

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی
علم ایک بیش قیمت دولت اور انتہائی عظیم نعمت ہےمخلوقات میں سب سے بہتر انسان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے علم ہی کی تلقین فرمائی اسلئے کہ بغیر علم کے بغیر انسان کی چاہے دینی زندگی ہو یا دنیاوی دونوں کی صلاح وفلاح کا تصور بھی ناممکن ہے.رب تعالیٰ کا کمال اور اس کی حکمت دیکھئیے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد علم کو نہیں اٹھایا بلکہ اپنے مخصوص بندوں کو اس علم نبوی کا وارث وامین بنا دیا.اب آئیے انھیں وارثین انبیاء کو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور أقوال سلف وصالحین کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔
حضورﷺ نے فرمایا جو شخص طلبِ علم کے لئے گہر سے نکلا تو جب تک واپس نہ لوٹے اللہ کی راہ میں ہے۔
حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ کہ ایک گہڑی رات میں پڑھنا پڑھانا ساری رات کی عبادت سے افضل ہے۔
حضورﷺ نے فرمایا علماء کی سیاہی شہید کے خون سے تولی جائیگی اور اس پر غالب ہوجائیگی۔
حضورﷺ نے فرمایا علماء کی مثال یہ ہے جیسے آسمان میں ستارے،جن سے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستے کاپتہ چلتا ہے،اور اگر ستارے مٹ جائیں تو راستہ چلنے والے بھٹک جائیں گے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طلبِ علم اگر اچہی نیت سے ہو تو ہر عمل خیر سےبہتر ہےکیونکہ اسکا نفع سب سے زیادہ ہے،،مگر یہ ضروری ہے کہ فرائض کی انجام دہی میں خلل و نقصان نہ ہو،اچہی نیت کا یہ مطلب ہے کہ رضائے الٰھی اور آخرت کے لئے علم سیکھیں طلبِ دنیا و طلبِ جاہ نہ ہو..ماخوذ از کتب حدیث
حضرت شاہ عبدالعزہز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ:زندگی میں کبھی کسی عالم کی برائی مت کرنا اور کسی عالم کی ذات میں کوئی عیب مت نکالنا۔اگر تم نے کسی عالم کو برا کہا اور اسکے علم کو حقیر سمجھا تو اللہ تمہاری 10دس نسلوں تک کوئی عالم پیدا نہیں کریگا..آگے تحریر فرماتے ہیں کہ اہانت علم اور اہانت اہل علم کفر ہے۔
امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: جو علماء ربانین کی تحقیر کرتا ہے اس کی قبر کو کھودکردیکھو اس کا منہ قبلہ سے پھیر دیا جاتا ہے۔
حضور مجاہد ملت شاہ حبیب الرحمٰن خان اڑیسوی علیہ الرحمةسے کسی نے شکایت کی کہ حضرت مقامی علماء کام میں ساتھ نہیں دے رہے ہیں.اس پر حضرت نے غصہ سے فرمایا:خبردار آئندہ علماء کی شکایت کرنے سے پرہیز کرو ورنہ تمہاراایمان پر خاتمہ نہ ہوگا
حضرت حسن بصری رحمة الله تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ: علماء کرام کی مثال ستاروں کی سی ہے جب چمکتے ہیں تو لوگ ان سے راہ پاتے ہیں اور جب چھپ جاتے ہیں تو لوگ حیران و پریشان رہ جاتے ہیں۔
حضرت سید احمد کبیر رفاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ:اگر علماء اللہ تعالیٰ کے دوست نہیں تو عالم بھر میں کوئی اللہ تعالیٰ کا دوست نہیں۔ 
حضرت امام غزالی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ:اللہ تعالیٰ علیم ہے علماء کو دوست رکھتا ہے۔
حضرت خواجہ سید ہمدانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:علم کے معاملے میں قناعت نہیں کرنی چاہئے، عالم سے ہمیشہ تعلق استوار رکھنا چاہیئے۔
حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمۃاللہ علیہ نے شہزادوں کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:اے میرے بیٹوں!ہمیشہ علماء کے ساتھ صحبت رکھنا،جاہلوں سے پرہیز کرناعقلمندی کی نشانی ہے ۔
حضرت داتا گنج بخش لاہوری رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ : مسجدیں ہدایت کی منڈیاں ہیں اور علماء دکاندار،دکان ان کا سینہ اور قرآن ان کا مال ہے، مسلمان خریدار ،اور ایمان پونجی ہے، جو خالص نیت سے ایمان خریدنے یہاں آتا ہے خالی ہاتھ نہیں جاتا ۔
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ:نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے،اس کے سوا باقی تمام کمالات نبویہ کے حاملین قیامت تک رہیں گے، انہیں کی صحبت میں اصلاح حال ہوتی رہے گی۔
خلیفہ عبدالملک بن مروان کی وصیت اپنے لڑکوں کو:عالم بنو کیونکہ مالدار ہوئے تو علم تمہارا جمال ہوگا اور غریب ہوئے تو علم تمہارے لئے دولت ثابت ہوگا 
امام العارفين حضرت شعرانی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ :جو باتیں ہم نے کسی عالم سے سیکھی ہیں ان پر خود عمل کریں اگرچہ وہ عمل نہ کرتا ہو اور اسے برا کبھی نہ سمجھیں اور اسے عزت دیں جب کوئی شخص کسی مسئلہ میں علماء کی نقل کی مخالفت کرے تو اپنے دوستوں کو اس پر اعتراض میں جلدی کرنے سے روکیں اپنے دوستوں کو تاکید کریں کہ جب کسی عالم یا درویش کے پاس جانا چاہیں تو اپنی عقل کے ترازو کو توڑ کر ان کے پاس جایا کریں۔
“حضور حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ بانی الجامعة الاشرفیة مبارکپور اعظم گڈھ کے چند اقوال زریں”ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔
آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ:علماء و صالحین کو عمدہ کپڑے پہنتے اور لذیذ کھانا کھاتے دیکھ کر جلدی سے انپر اعتراض نہ کیا کریں جب ہم کسی حاکم یا رکنِ سلطنت سے ملیں تو اپنے ہم عصر علماء اور درویشوں کو اس کی نظر میں بڑھائیں۔
جب ہم مسلمانوں کے علماء میں شمار ہونے لگیں تو اپنے شہر والوں میں سب سے زیادہ کریم اور صاحب ایثار بن جائیں کسی وعظ میں جائیں تو  وعظ سے پہلے پوری توجہ کے ساتھ اپنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور علماء و انبیاء کا نائب سمجھیں۔
١٥) علماء کی صحبت اور کتب حکمت کے مطالعے سے مسرت بخش زندگی حاصل ہو سکتی ہے 
١٦) عالم و عابد  دونوں بزرگ ہیں لیکن عالم اپنے ساتھ دوسروں کو بھی منزل مقصود تک پہنچادیتا ہے، برخلاف اس عابد کے کہ وہ صرف اپنی ہی کامیابی کی دھن میں لگارہتا ہے ۔ ماخوذ از متعدد کتب وملفوظات