فلسفہ روزہ: اسرار،حکمتیں اور برکتیں

تحریر: مفتی عبدالمبین نعمانی قادری
 اسلام کی ہر تعلیم اور خدا کی ہر عبادت میں ہزارہا حکمتیں پوشیدہ ہیں ہم اپنی ناقص عقل سے ان تک رسائی حاصل کر سکیں یا نہ کر سکیں لہٰذا ہمیں رب العٰلمین کے ہر حکم پر آنکھ بند کر کے عمل پیرا رہنا چاہیے۔ چوں چرا تو بندوں کے معاملے میں کیا جاتا ہے، اس میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی بڑا آدمی، یا پڑھا لکھا آدمی کسی کو حکم دیتا ہے تو چھوٹوں کو بالعموم مجالِ دم زدن نہیں رہتی اور سیدھے تعمیل حکم پر کمر بستہ ہو جاتا ہے جب کہ اس میں ہزارہا خامیوں کا امکان ہے، تو بھلا رب کائنات کے حکم میں کسی بندے کو چوں چرا کی کیا مجال؟ جب کہ وہ ہر حکمت و خوبی کا مالک اور اپنے بندوں پر رحیم و کریم  بھی ہے، اس کا ہر حکم بے شمار حکمتوں اور خوبیوں سے بھرا ہے لہٰذا ہمیں پورے ذوق و شوق سے اور سراپا اطاعت بن کر احکام خداوندی کی بجا آوری کے لیے تیار رہنا چاہیے، روزہئ ماہِ رمضان بھی اس کے احکام اور اس کی عبادتوں میں ایک اہم عبادت ہے جس میں اس ربِّ حاکم کی رضا بھی ہے اور ہمارے لیے ثوابِ آخرت بھی، اور ساتھ ہی صحت و تندرستی کے گراں قدر نکات بھی اس میں پوشیدہ ہیں، اطباے جہاں اور حکماے عالم بھی روزے کی حکمتوں کے معترف نظر آتے ہیں، اور بہت سی بیماریوں کا  اس میں علاج بتاتے ہیں اسی لیے تو ہمارے آقا محسن کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم اس راز سے پردہ ہٹاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
”اُغزُوا تَغْنِمُوْا وَصُوْمُوْا تَصِحُّوْا وَسَافِرُوْا تَسْتَغْنُوْا“
(رواہ المنذری فی الترغیب عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ: ۲/۳۸)
جہاد کرو مالِ غنیمت پاؤ گے، اور روزہ رکھو صحت ملے گی، سفر کرو غنی ہو جاؤگے۔
اس حدیث پاک میں صاف لفظوں میں فرمایا گیا کہ روزہ موجبِ صحت ہے اور تندرستی کی ضمانت،
آج کل ڈپریشن (Depression)  اور ٹینشن (Tension)کا مرض بہت عام ہے ساتھ ہی بلڈ پریشر کے بھی بہت سے لوگ شکار ہوتے جا رہے ہیں، روزہ ان شکایات کا بھی بہترین علاج ہے۔ کیوں کہ ان امراض سے نجات پانے کے لیے آدمی کو پرسکون ماحول میں رہنا ضروری ہوتا ہے، رمضان المبارک کے مہینے میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ روزہ دار دنیا کے تمام غم بھول کر خوشیوں میں نہا جاتا ہے اور وہ ہے افطار کا پر بہار وقت۔ بچے بوڑھے، عورتیں سب ہی افطار کے انتظامات میں ایسا محو ہو جاتے ہیں کہ ہر طرف مسرت و فرحت کا ایک سماں بندھ جاتا ہے، پھر جب افطار کا سامان سامنے رکھ کر انتظار کی گھڑیاں گنی جانے لگتی ہیں تو اس وقت ایمان اور تازہ ہو جاتا ہے۔ کھانے پینے کے سامان اور طرح طرح کی نعمتوں کے حاضر ہونے کے باوجود کوئی ایک منٹ بھی پہلے افطار کرنے کو تیار نہیں ہوتا کہ دن بھر کا بھوکا پیاسا رہنا رائیگاں چلا جائے گا۔ رب عز و جل بھی ناراض ہو جائے گا، اور ثوابِ آخرت سے محرومی بھی آلگے گی۔ افطار کے وقت کی یہ خوشی اور مسرت صرف اور صرف روزہ داروں کا نصیب ہے۔ ورنہ بے روزہ لوگ تو اس وقت منہ چھپاتے پھرتے ہیں یا مصنوعی روزہ دار بن کر خود کو اور دوسرے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ گویا تھوڑی دیر کے لیے وہ بھی حقیقی روزہ داروں کی مسرتوں میں شریک ہونے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ حقیقی خوشی انہیں کہاں نصیب؟
افطار کے وقت کی اس خوشی کا ذکر کرتے ہوئے سرکار ختمی مرتبت صلے اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں:
لِلصَّاءِم فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہٖ وَ فَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّہ، الحدیث۔
(صحیح بخاری: ۱/۵۵۲- مشکوٰۃ صفحہ ۳۷۱ کتاب الصوم)
”روزے دار کے لیے دو (۲)خوشیاں ہیں ایک جب وہ افطار کرتا ہے اور دوسری جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔“
دنیا میں ملنے والی خوشی جو افطار کے وقت ملتی ہے اسے تو ہم دیکھ رہے ہیں تو یقینا آخرت میں دوسری خوشی سے بھی ضرور شاد کام ہوں گے، گویا روزہ دار دنیا و آخرت دونوں جگہ خوش و خرم ہے اور بے روزہ دار دونوں جگہ محروم۔
روزہ ہو یا کوئی عبادت صرف اور صرف خداوند قدوس عز و جل کی رضا و خوشی کے لیے انجام دینی چاہیے، اس میں دنیاوی غرض اور فوائد کو مد نظر رکھنا اخلاص کے منافی ہے کیوں کہ خالص عبادت پر ہی ثواب کا وعدہ ہے، اس لیے بندے کو رضاے رب کے سوا سب کو چھوڑ دینے ہی کو کمال بندگی تصور کرنا چاہیے۔ اسی لیے تو حضور آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، روزہ رکھو صحت پاؤ گے، یعنی روزے کی برکت سے تمہیں صحت بھی مل جائے گی، یہ نہیں فرمایا کہ صحت کے لیے روزہ رکھو۔ مگر آج کے مادہ پرستانہ دور میں اور اس رنگین و مصروف دنیا میں لوگوں کو دنیا سے ہٹا کر عبادات کی طرف کھینچ لانے کے لیے اہل علم نے عبادات میں بھی بہت سی حکمتیں بیان کی ہیں کہ پہلے آدمی عبادات سے قریب تو ہو پھر جب اس کی لذت پالے گا تو خود ہی اخلاص پیشہ بنتا چلا جائے گا۔ اس لیے روزے کی بھی بہت سی حکمتوں کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے تا کہ روزوں کی اہمیت بھی ذہن نشین ہو جائے اور اس پر عمل کرنے کی رغبت بھی پیدا ہو۔  ذیل کے یہ فوائد و برکات دنیوی بھی ہیں اور دینی و روحانی بھی۔
اب ذیل میں روزے کے فوائد و برکات پر مشتمل چند نکات ملاحظہ ہوں:
(۱)پیٹ بھرنے سے نفس اور خواہشات کو قوت ملتی ہے، جب کہ بھوکے رہنے اور روزے رکھنے سے روح کو قوت ملتی ہے اور حکمت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔
(۲)روزہ تندرستی کی ضمانت اور پیٹ کی بیماریوں کا بہترین علاج بھی ہے۔
(۳)روزہ رکھنے سے غربا و فقرا کی بھوک کا اندازہ لگ جاتا ہے اور ان سے ہمدردی و غم و گساری کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔
(۴) روزہ رہنے سے ایمان کو تازگی اور عقیدے کو پختگی ملتی ہے کہ ہم اور ہماری غذائیں اور اموال سب رب عز و جل کی حقیقی ملکیت میں ہیں اسی لیے تو تمام غذائیں موجود ہوتی ہیں لیکن وقت سے ایک منٹ پہلے ہم ہرگز روزہ افطار نہیں کرتے۔ اور اپنے مولیٰ کے حکم پر ٹھہرے رہتے ہیں۔
(۵)روزہ سے صبر و قناعت کی عادت پڑتی ہے کہ کبھی بھوکے رہنے کا بھی اتفاق پڑ جائے تو گراں نہ ہو، اور صبر کی توفیق ملے۔
(۶)غذا اور شکم سیری گناہوں کو دعوت دیتی ہے جب کہ روزہ کی حالت میں بھوکے رہنے سے نفس مرتا ہے اور گناہوں کی قوت کمزور پڑتی ہے۔
(۷)روزہ فضول گوئی اور گالی گلوچ سے بچاتا ہے۔
(۸)روزے سے یہ یقین اور پختہ ہو جاتا ہے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
(۹)روزہ رکھنے سے بندہ اپنے پروردگار کی رحمت سے قریب ہو جاتا ہے گویا وہ ہر وقت اس کی یاد میں لگا رہتا ہے۔
(۰۱)روزے دار سوئے یا جاگے ہر حالت میں اس کا لمحہ لمحہ عبادات میں گزرتا ہے، جب کہ اس کے دنیوی کسی کام میں حرج بھی واقع نہیں ہوتا۔
(۱۱)جس طرح مال کی زکوٰۃ سے مال پاک ہوجاتا ہے اسی طرح روزے سے جسم پاک ہو جاتا ہے کیوں کہ یہ روزے جسم کی زکوٰۃ ہیں۔
(۲۱)روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں ریا اور دکھاوا نہیں۔
(۳۱)روزے سے دل میں خدا کا خوف بیدار ہو جاتا ہے اس لیے روزہ دار کیسا ہی گنہ گار اور کتنا ہی بڑا جاہل ہو کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ چھپ کر کھالے اور روزہ دار بنا رہے۔
(۴۱)دن بھر روزہ رہنے والا رات بھر بھی عبادت میں مشغول رہتا ہے جیسے روزہ افطار کرنا، نماز مغرب پڑھنا، پھر کچھ وقفے کے بعد عشا کی نماز، عشا کے بعد نماز تراویح پڑھنا اور اس میں کلامِ الٰہی قرآن سننا، پھر سوجانا اور سوتے وقت سحری کی فکر کرنا پھر جلد ہی اٹھ کر سحری کھانا جو روزے میں معاون اور باعث برکت ہے۔
 اس سحر خیزی میں بہت سے اللہ کے بندے تہجد بھی ادا کرلیتے ہیں جب کہ دوسرے ایام میں تہجد کے لیے اٹھنا اور اس کو ادا کرنا نہایت دشوار ہوتا ہے۔ یہ بھی بڑی عظیم الشان عبادت ہے جو اللہ کے خاص خاص بندوں کو نصیب ہوا کرتی ہے۔
(۵۱)تلاوت اور ذکر یوں ہی نماز اور صدقہ جزوی عبادات ہیں لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں بندہ کل کا کل عبادات میں مشغول ہوجاتا ہے، زبان بھی ہاتھ پاؤں بھی دل دماغ بھی، حتیٰ کہ سونا جاگنا سب عبادت ہی عبادت ہو جاتا ہے، زبان اور ہاتھ پاؤں سب ساکت رہتے ہیں لیکن  روزے میں دل رب کریم کی طرف متوجہ رہتا ہے اور ہر وقت کھانے پینے سے بچنے کی فکر میں رہتا ہے لہٰذا اس اعتبار سے روزہ تمام عبادات میں منفرد و ممتاز ہے، اس لیے اس عظیم الشان عبادت کی بڑی قدر کرنی چاہیے اور اسے بڑے ذوق و شوق سے رکھنا چاہیے۔
روزے کے یہ چند نکات اور اسرار بر وقت ذہن میں آئے اور قلم بند کر دیے۔ غور کرنے اور علما کی کتب کے مطالعہ سے اور بھی رموز و اسرار اور حکم و نکات سامنے آسکتے ہیں۔ بروقت اختصار کے پیش نظر انھیٖں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
رب عز و جل ہمیں روزے جیسی عظیم عبادت کو انجام دینے کی توفیق بخشے اور اس کے صدقے میں تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت سے ہمکنار فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین علیہ وآلہ الصلاۃ والتسلیم۔