أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهٖ رُسُلَهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ذُوۡ انْتِقَامٍؕ ۞

ترجمہ:

تو تم ہرگز یہ گمان نہ کر ان کہ اللہ اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرنے والا ہے بیشک اللہ بہت غالب انتقام لینے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے تو تم ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدہ کے خلاف کرنے والا ہے بیشک اللہ بہت غالب، انتقام لینے والا ہے۔ (ابراھیم : 47) 

رسولوں نے اپنی امتوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ قیامت آئے گی اور سب لوگ مرجائیں گے اور سب چیزیں ختم ہوجائیں گی پھر اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرے گا اور سب انسانوں سے حساب لے گا، اور مومنوں اور پرہیز گاروں کو جزا دے گا، اور کافروں اور ظالموں کو سزا دے گا اور یہ اس لیے ضروری ہے کہ اگر قیامت قائم نہ ہو اور ظالموں کی سز اور مظلوموں جزانہ دی جائے تو ظالم بغیر سزا کے اور مظلوم بغیر جزا کے رہ جائیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے اس کی مفصلی تفسیر ہم نے اس سورت کی آیت :42 میں کردی ہے وہاں ملا حظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 47