قاضی ثناء اللہ پانی پتی بریلوی 

قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ سورۃ البقرۃ آیت نمبر 154 کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ

بہت سے اولیاء سے یہ بات تواتر سے ثابت ھے کہ شہدا اپنے دوستوں کی اعانت کرتے ہیں، اپنے دشمنوں کو تباد کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کے مطابق لوگوں کو راہ ھدایت دکھاتے ہیں۔

اسی طرح آگے لکھتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے انہیں ایک وہبی وجود ملتا ھے۔

تفسیر مظہری، جلد اول ص 246،مترجم، مکتبہ ضیاء القران)

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ علیہ شہدا کی فضیلت اور انکے وہبی اختیارات کو بیان فرمارھے تھے۔

اہل علم پر مخفی نہیں کہ ایک عالم دین کا مرتبہ کئی شہدا سے بڑھ کر ھے۔اور ہر عالم ولی نہیں ہوتا جبکہ ہر ولی عالم ضرور ہوتا ھے۔علی ھذالقیاس

گویا کہ ایک حکم ادنیٰ کیلئے ثابت ہوگیا تو اعلی کیلئے خود بہ خود ثابت ہوجائے گا۔

نوٹ۔قاضی ثناء اللہ پانی پتی کے نام کے ساتھ بریلوی اسوجہ سے لکھا کیوں عموماً جو اسطرح کے نظریات رکھتا ہو کہ اسے بریلوی کہا جاتا ھے۔

اور الحمد لله ہمارے وہی نظریات ہیں جس پر امت کے اولیاء کا تواتر ثابت ہے اور ہمیں اس بات پر فخر ھے ۔

احمدرضارضوی