أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ لِّـعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ يَوۡمٌ لَّا بَيۡعٌ فِيۡهِ وَلَا خِلٰلٌ‏ ۞

ترجمہ:

آپ ہمارے ایمان والے بندوں سے کہیے کہ وہ نماز قائم رکھیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں، اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی نہ دوستی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : آپ ہمارے لیے ایمان والے بندوں سے کہئے کہ وہ نماز قائم رکھیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں، اس پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی نہ دوستی۔ (ابراھیم : 31) 

اولیا اللہ سے محبت کا آخر میں کام آنا : 

اس سے پہلے آیتوں میں اللہ تعال نے بطور تہدید کفار سے فرمایا تھا کہ تم دنیا کا (عارضی) نفع اٹھالو پھر انجامر کارتم نے دوزخ کی طرف لوٹنا ہے اور اس آیت میں مومنوں کی یہ حکم دیا ہے کہ وہ دنیا کے عارضی نفع سے صرف نظر کریں اور اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کریں نفس کے ساتھ جہاد سے مراد ہے بد کو مشقت میں ڈال کر اللہ کی عبادت کریں، سو اس کے لیے فریایا : آپ ہمارے ایمان والے بندوں سے کہئے کہ وہ نماز قائم رکھیں اور مال سے جہاد سے مراد ہے مالی عبادات کرنا اس کے لیے فرمایا اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں۔ 

انسان ایمان لانے کے بعد اپنی ذات اور اپنے مال پر تصرف کرنے پ قادر ہوتا ہے اپنی ذات پر تصرف کرنے کے لیے اس چاہیے کہ اپنے مولی اور مالک کی خدمت میں حاضر رہنے کے لیے نماز بڑھے اور اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق اپنے مال کو خرچ کرے اور ایمان لانے کے بعد یہی دو اہم عبادات ہیں۔ نماز اور زکوہ کی تفصیل ہم البقرہ : 3 میں بیان کرچکے ہیں اور وہاں ہم نے یہ بھی بیان کردیا ہے کہ مال حرام کو بھی رزق شامل ہے او معتزلہ کا اس میں اختلاف ہے۔

اس آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ کی راہ میں پوشیدہ اور ظاہر خرچ کریں۔ اس کا یک معنی یہ ہے کہ نفلی صدقات کو پوشیدہ اور ظاہر دونوں طرح دینا جائز ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ جو صدقاد فرض ہیں ان کو ظاہر طور پر دیں اور جو صدقات نفل ہیں ان کو پوشیدہ طور پر دیں نیز فرمایا تم اپنے اموال کو دنیا میں خرچ کرو تاکہ اس کو ثواب تم کو اس دن مل جائے جس دن میں کوئی شراء ہوگی نہ کوئی دوستی کام آئے گی بیع شراء اور خریدو فروخت سے مراد یہ ہے کہ کہ کوئی شخص اپنے آپ کو عذاب سے چھڑانے کے لیے کوئی مال نہیں دے دس کے گا اور نہ یہ کرسکے گا کہ اپنے آپ کو عذاب کسے بچانے کے لیے کسی اور عذاب کے لیے پیش کردے۔ 

اس آیت میں دوستی کی نفع فرمائی ہے کہ قیامت کے دن کسی کی دوستی کام نہیں آئے گی اور بعض آیات سے بتاچلتا ہے کہ اس دن متقین کی دوستی کام آئے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

الأخِلاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلا الْمُتَّقِينَ (الزخرف :67) گہرے دوست اس دن کام دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے متقین کے۔ 

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگوں کی دنیا میں دستی طبیعت کے میلان اور نفس کی رغبت کی وجہ سے ہوگی وہ قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے اور جن لوگوں کی دوستی محض اللہ کے لیے اور دین کی وجہ سے ہوگی وہ دستی اس دن کام آئے گی جیسے مسلمان اولیاء اللہ سے اور علماء دین سے محبت رکھتے ہیں۔ یہ دوستی محض دین کی وجہ سے اور اللہ کے لیے ہوتی ہے جیسے حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی اور حضرت علی ہجویری (رح) سے مسلمان محبت رکھتے ہیں اور امام ابو حنیف اور امام بخاری (رح) سے محبت رکھتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 31