لاک ڈاؤن: ماہ رمضان، نزول قرآن اور احکام اسلام

تحریر: محمد قاسم ٹانڈوی
یوں تو رمضان المبارک کا یہ مقدس و محترم مہینہ دور نبوی (علی صاحبہ الصلوٰۃ الف الف تحیۃ وسلاماً) اور دور صحابہ کرام سے ہر سال تمام تر خدائی رحمتوں، برکتوں کے نزول و ورود کے ساتھ امت مسلمہ کو نصیب ہوتا چلا آ رہا تھا، اس عظیم الشان اور قابل احترام مہنیہ کو خود ہم نے جھلسا دینے والی سخت گرمی اور لہؤ انسانی کو رگوں میں منجمد کر دینے والی شدید برفانی سردی میں آتے بھی دیکھا ہے یعنی زمانہ کے الٹ پھیر کے ساتھ واقع ہونے والے سرد و گرم موسم میں اس کی آمد و رفت ہم نے خود دیکھی ہے۔
یہی وہ قابل تعظیم ماہ مبارک ہے جس کا انتظار اور تیاری ہمارے اکابر و بزرگ حضرات چھ ماہ قبل سے کرنے لگتے تھے۔ جن کے اخلاص و لِلّٰہیت اور اپنے رب حقیقی سے مضبوط تعلقات کا یہ عالَم تھا کہ وہ حضرات اتقیاء و صلحاء اس مقدس ماہ کے شب و روز میں کی جانے والی عبادت و ریاضت کی لذت و خوشبو اس ماہ مبارک کے گزر جانے کے بعد بھی چھ ماہ بعد تک محسوس کرتے تھے گویا ان نیک طینت و فطرت انسانوں اور سعادت مند ارواحوں کا ایک طرح سے پورا کا پورا سال ہی رمضان کی مانند ہوا کرتا تھا؛ اور یہی امر حقیقی (تقویٰ و پرہیزگاری) صیام رمضان سے مراد و مقصود ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: “لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ” (اللہ پاک ہمیں بھی ان جیسا ایمان کامل اور اخلاص و للہیت کی دولت سے سرفراز فرمائے؛ آمین)
ہاں…! ہاں…!  یہ وہی ماہ رمضان المبارک ہے جس کی آمد سعید پر ہر آدمی اپنے پیشے اور ضروریات زندگی کی تکمیل میں ہمہ وقت مشغول و مصروف رہنے والوں کو کچھ اوقات و لمحات کی فرصت اور توفیق اس معنی کر حاصل ہو جاتی تھی کہ وہ سال کے گیارہ ماہ مقاصد حیات سے غافل اور دین و آخرت کی فوز فلاح سے بےخبر رہتے تھے، لیکن جب یہ مہینہ سایہ فگن ہوتا تھا تو وہ بھی اس ماہ مبارک کے فضائل و خصوصیات سے اپنے آپ کو بہرہ ور کرنے اور اپنی بخشش و مغفرت کا سامان کرنے کی فکر و سعی میں جُٹ جاتے تھے، تاکہ دانستہ یا غیردانستہ طور پر ان کی زندگی کے بیش قیمت ایام جو کوتاہی و سستی کی نذر ہوکر ادھر ادھر واہیات و لغویات اور معاصی و منکرات میں بس یوں ہی صرف ہو کر رہ گئے ہیں، لہذا اب ان پر ندامت و شرمندگی کا اظہار و احساس کر سچے پکے من سے توبہ و استغفار بھی کر سکیں اور ان کی مابقیہ زندگی کے جو لمحات و ساعات میسر و مقدر ہونے کو رہ گئے ہیں، ان کو امانت باری تعالیٰ تصور کر اپنے حق میں بہتر سے بہتر طور پر مفید و کارآمد بنا سکیں۔
اسی لئے ہم ہر سال دیکھتے بھی ہیں اور بارہا مشاہدہ میں بھی آتا ہےکہ “رمضان کریم کے مبارک و مسعود ایام و لیالی کی برکات و خصوصیات اور سحر و افطار کے وقت قبول کی جانے والی الہا و مناجات کی بدولت نہ جانے کتنے ایسے لوگوں کی زندگی سنور جاتی ہے جو پہلے نہ تو کسی خیر و بھلائی کے قریب دیکھے جاتے تھے اور نہ ہی وہ پورے سال بلکہ بہت سے تو ایسے بھی سدھرتے اور ہدایت یافتہ پائے گئے جو سالہا سال سے مساجد کی طرف رخ کرتے نہیں پائے جاتے تھے، اور نہ ہی ان کی زندگی گناہ و عیوب سے خالی ہوتی تھی؛ مگر ماہ مبارک میں خصوصی رحمت الہی کے نزول اور “قائمین لیل و صائمین نہار” کی دیکھا دیکھی یا ان کی آہ و بکا کی تاثیر، آمد رمضان کے باعث یومیہ کام کاز کی تبدیلی کے نتیجے میں ان کی زندگی کا پانسہ پلٹ جاتا ہے، اور پھر وہ مابعد رمضان پوری زندگی اسی دینی جذبہ اور ولولے کے ساتھ امور دینیہ کی انجام دہی میں منہمک و مصروف دیکھے جاتے ہیں، یہی اس قابل تعظیم و تکریم  ماہ کی سب سے بڑی اور نمایاں خوبی شمار کی جاتی ہے جو  ہمہ جہت اپنی جلوہ افروزیاں بکھیرتا اور قابل دید و داد منظر کشی کرنے میں بھٹکی انسانیت کےلئے ہر سال روح افزا پیغام خداوندی لے کر ہمارے درمیان حاضر ہوتا ہے! (دعا کیجئےگا رب کریم ہمیں بھی اس ماہ کے انوار و برکات سے مکمل مستفید فرمائے اور اس کے آفاقی پیغام کو سوہان روح بنائے؛ آمین) الغرض یہ پورا مہینہ فطرت انسانی کی بازیابی، اخلاقی اقدار کی عملداری، خدائی عظمتوں کی نشانی، اس کے الطاف و مہربانی کی جلوہ افروزی اور انقلاب زمانہ کی تعمیر و تشکیل کا مظہر ہوتا ہے،،، لیکن افسوس صد افسوس…! ہماری تو سوئے قسمت اور خدائے ذی الجلال کی پوشیدہ حکمت و مصلحت سے کسے انکار ہو سکتا ہے؟ اور کیوں کر کوئی معترض ہو سکتا ہے؛ کہ اس بار ہم تمام ظاہری خوبیوں اور اس کی رحمتوں سے محروم ہو گئے؟ اس لئے کہ شدت انتظار و انتظام بسیار کے باوجود بھی ہم اس ماہ مبارک کی تمام اجتماعی عبادات سے روک دئے گئے ہیں، خدائی عذاب “کورونا وائرس” جو در اصل ہمارے ہی اعمال بد کا نتیجہ اور احکام الہی کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہم پر مسلط کیا گیا ہے، اس کے چلتے ہم اپنے گھروں میں محصور و مقید کر دئے گئے ہیں اور پنج وقتہ نماز خاص کر بوقت تراویح نمازیوں کا جو رعش و ولولہ اس ماہ میں دیکھنے کو ملا کرتا تھا، ہماری آنکھیں اس حسینمنظر کو دیکھنے کےلئے بےتاب و بےقرار ہیں جس کی وجہ سے دکھ و پریشانی کی اس نازک گھڑی میں ہر آن و لمحہ بس یہی ایک دعا اور التجا زیر لب جاری ہےکہ:
“اے مولائے کریم ! اے رحمٰن و رحیم ! اے عرش اعظم کے مالک و مختار ! اے وہ ذات برحق اور معبود حقیقی ! تو تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے، سو ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہ بخش کر ہمیں معاف فرما دیجئے اور اس عالمگیر آفت و بلا کو ٹال کر پوری انسانیت کو راحت و سکون کی بھری سانسیں عطا فرما دیجئے! (اللّٰہم ارفع عنا البلاء والوباء)
قارئین کرام ! آپ کو یاد ہوگا کہ جب سے “وائرس” نامی اس بیماری نے ہمیں گھیرا ہے اور ملک میں ‘لاک ڈاؤن’ کا نفاذ عمل میں آیا ہے تبھی سے ہم مختصر الفاظ و معانی پر مشتمل انتہائی سہل انداز میں آیات قرآنی کے جملے فقرے “واٹس اپ اسٹیٹس” پر تحریر کر احباب کی خدمت میں یومیہ پیش کرتے آ رہے ہیں، جس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے، اس کے بعد انہیں ‘واٹس اپ اسٹیٹس’ کو افادۂ عام کی خاطر جمعہ کے خصوصی کالم “اسلامیات” کے صفحات پر شائع کرا دیا جاتا ہے، تاکہ ان کا فائدہ دائرہ محدود ہی میں منحصر ہو کر نہ رہ جائے؛ جس کےلئے ہم مدیر محترم کے دل سے شکر گزار ہیں۔
بہر حال اس نایاب و انوکھے سلسلۂ آیات قرآنی میں ہم نے رمضان المبارک کی مناسبت اور صیام رمضان کے عنوان سے مشہور آیت مبارکہ کو اس ہفتے اپنا موضوع بنایا، جس میں پہلا اسٹیٹس تھا ﴿أَیَّامًامَّعْدُوْدٰتٍ﴾ اس جملے کی روشنی میں ہم کچھ اس طرح رقمطراز ہوئے کہ:
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اہلِ ایمان پر سایہ فگن ہے، یہ بھی دیگر مہینوں کی طرح متعینہ ایام پر مشتمل مہینہ ہے، لیکن یہ مہینہ دیگر مہینوں کے مقابلے خدا کی طرف سے رات و دن نازل ہونے والی خیر و برکات اور اس کے انوار و تجلیات کا مظہر ہوتا ہے، اس لئے ایمان والوں کو چاہئےکہ وہ اس ماہ میں کثرت کے ساتھ خود کو عبادات و ریاضت، ذکر و تسبیح، دعا و استغفار میں مشغول رکھیں؛ بالخصوص قرآن حکیم کی تلاوت، صلوۃ اللیل (نمازِتہجد) کا اہتمام اور قیام اللیل (تراویح) کی پابندی پورے ذوق و شوق کے ساتھ کرتے ہوئے گنتی کے ان “چند ایام” کو اپنے لئے سرمایۂ حیات اور ذریعۂ نجات تصور کریں!
ہمارا دوسرا اسٹیٹس ﴿أَیَّامٍ أُخَرَ﴾ تھا، جس میں ہم نے دین حنیف کے دین رحمت اور اس کے خاصہ کی طرف لوگوں کے اذہان منتقل کرتے ہوئے لکھا کہ:
“اسلام ایک دین فطرت اور دین رحمت ہے، جس کا خاصہ ہے ہرموقع پر اعذار انسانی کی رعایت سے کام لینا۔ اب رمضان المبارک کے روزہ ہی کو لے لیجئے؛ جس کا حکم شرعی ہےکہ:
یہ ہر عاقل بالغ (صاحب ایمان) پر فرض ہے، جس کا رکھنا کارِثواب اور بلا عذرِ شرعی چھوڑنا موجب عذاب و سزا ہے۔
مگر عذرِشرعی کے پیش آنے پر شریعت مطہرہ کی طرف سے اتنی سہولت فرما دی گئی کہ: “اگر ایسا بیمار ہو جس کے لئے روزہ رکھنا دشوار ہو یا مسافر ہو تو اس کو اختیار ہےکہ روزے نہ رکھے اور جو روزے رہ جائیں اتنے ہی روزے “غیرِ رمضان” یعنی بعد میں رکھ لے؛ خواہ یہ رکھنا متفرق ہو یا ایک ساتھ” اعذار کے پیش آنے پر رخصت و مہلت کا دینا ہی اس دین حنیف کا رحمت ہونا ہے
ہمارا تیسرا اسٹیٹس: جس میں ہم نے شریعت کے ایک حکم منسوخ کا ذکر کیا تھا ﴿طَعَامُ مِسْکِیْنٍ﴾ تھا، یعنی فرضیت روزہ کے وقت چونکہ ایک ماہ مسلسل روزوں کے اہتمام کی لوگوں کو عادت نہیں تھی، جس کی وجہ سے یہ (روزوں کا رکھنا) ایک مشکل امر محسوس ہو رہا تھا، چنانچہ اس وقت یہ سہولت دیدی گئی تھی کہ مریض یا مسافر کے عذر کے مانند تم کو اختیار ہے چاہو روزہ رکھو چاہو روزہ کا بدلا (ایک مسکین کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلا) دو؛ اس طرح گویا روزہ دار سے (ایک گونا) مشابہت پیدا کرنا مقصود تھی۔ لیکن جب طبائع صحابہ عادی ہو گئیں اور روزہ کی فضیلت و حکمت اور منافع بھی معلوم ہو گئے تو حکم مذکور منسوخ (ختم) ہو گیا اور اب ہرحال میں روزہ رکھنا ضروری ہو گیا اور روزہ میں کسی بھی طرح کی کوتاہی برتنے پر ممانعت ہو گئی۔(بجز مریض و مسافر
ہمارے چوتھے اسٹیٹس کا عنوان ﴿شَھْرُ رَمَضَانَ﴾ تھا، جس میں ہم نے کتب سابقہ اور قرآن کریم کے نزول زمانی میں جو مناسبت پائی جاتی ہے اس کے بارے میں بتایا کہ
“کتب سابقہ توریت، انجیل اور صحف ابراہیم؛ ان کے بارے میں احادیث میں آتا ہےکہ ان سب کا نزول بھی رمضان ہی میں ہوا ہے اور قرآن شریف بھی رمضان المبارک کی چوبیسویں رات میں لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیک وقت بھیجا گیا، پھر جیسی ضرورت ہوتی گئی مناسبِ احوال تھوڑا تھوڑا بذریعہ جبرئیلؑ آپ (ﷺ) پر نازل ہوتا رہا (جس کے تکمیل کی ایک لمبی مدت تقریبا 23/برس ہے) لیکن دوران نزول حضرت جبرئیلؑ نازل شدہ قرآن کریم آپ (ﷺ) کو مکرر سناتے (دور کرتے) رہے”۔
چنانچہ آپ (ﷺ) کے اس معمول مبارک سے جہاں ماہ رمضان کی فضیلت اور قرآن کے ساتھ اس کی مناسبت و خصوصیت ظاہر ہوئی وہیں اس ماہ میں تراویح بھی مقرر و ثابت ہوئی۔
ہمارا پانچواں اسٹیٹس ﴿ألَّذِیْ أُنْزِلَ﴾ تھا، اس کےذیل میں بھی ہم نے اس مقدس و مبارک ماہ میں ہونے والے قرآن مجید کے نزول اور اس کی آفاقی تعلیمات کو حرز جاں بنا کر دائمی کامیابی کے راز سے واقف کراتے ہوئے لکھا کہ
“رمضان کا وہی مقدس و محترم مہینہ رواں دواں ہے، جس میں پوری انسانیت کے واسطے رشد و ہدایت سے لبریز جامع منشور پیغمبرِاسلام حضرت محمد مصطفے (ﷺ) کو عطا کیا گیا تھا اور آپ (ﷺ) کے واسطے رہتی دنیا تک اس منشور کو مکمل حدود و قیود کی سلامتی کے ساتھ عام کر دیا گیا تھا، جس کی تمام تر تشریحات و توضیحات اس امر کو نمایاں کرتی ہیں کہ
یہ صحف آسمانی اور مصحف ربانی انسان کی دنیاوی زندگی کو کامیاب بنانے سے کہیں زیادہ اس کی کامیاب اخروی زندگی کا نمونہ پیش کرتا ہے، اس لئے کامیابی چاہئے تو اسکے مبنی برصداقت دائمی اصول اور راہنما ضوابط کو حرزجاں بنالو