لاک ڈاؤن میں “اعلی حضرت یوتھ برگیڈ” دہلی کی امدادی خدمات

تحریر:غلام مصطفےٰ نعیمی
 مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
لاک ڈاؤن ہے نفاذ سے جہاں عام آدمی اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں تو دہلی ممبئی جیسے بڑے شہروں میں کام کرنے والے کاریگروں، مزدوروں اور کرایہ داروں پر دوہری مصیبت ٹوٹ پڑی. ایک طرف روزگار سے محروم ہوئے تو لاک ڈاؤن کی وجہ سے کھانے پینے کی مشکلات بھی پیدا ہوئی، کہاں جائیں اور کہاں کھائیں؟
ایسے مشکل وقت کئی رفاہی تنظیموں نے آگے آکر متاثرین میں امدادی سرگرمیاں شروع کیں اس ضمن میں دہلی کی معروف ملی ورفاہی تنظیم *اعلی حضرت یوتھ برگیڈ* کے چئیرمین حضرت *مولانا افتخار حسین رضوی* اور ان کی ٹیم نے قابل ستائش اور اہم کارنامہ انجام دیتے ہوئے مسلسل ایک ماہ تک ضرورت مند افراد کے کھانے پینے کی مکمل ذمہ داری اٹھائی.عموماً امدادی کاموں کے متعلق یہ بدانتظامی ہوجاتی ہے کہ غیر مستحقین تک امداد پہنچ جاتی ہے لیکن ضرورت مند افراد اپنی شرم وحیا اور غیرت کی بنا پر محروم رہ جاتے ہیں. اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے بانی تنظیم حضرت مولانا افتخار حسین رضوی نے اپنے کارکنان کی ایک ٹیم بنا کر قرب و جوار میں بسنے والے کرایہ داروں، مزدوروں کا سروے کرایا. جس کے تحت کارکنان نے گھر گھر جاکر سروے کیا اور جس کو ضرورت مند پایا اس کا نام نمبر ایڈریس نوٹ کرکے صدر تحریک کو پیش کیا. جس کے بعد بغیر کسی شور شرابہ اور فوٹو بازی، ذمہ داران نے متاثرہ کنبوں تک راشن پہنچا کر اپنی قومی ذمہ داری کو پورا کیا اور متاثرین کی عزت نفس کو بھی پامال نہیں ہونے دیا.
پہلے مرحلے میں ذمہ داران نے 15 دن کا راشن تقسیم کیا. راشن کٹ میں آٹا چاول کے علاوہ کچن کے جملہ لوازمات شامل کیے گئے تاکہ کسی بھی ضرورت کے لیے تکلیف نہ اٹھانی پڑے. اس مرحلے میں قریب 2500 افراد تک راشن کٹ پہنچائی گئیں اس کے بعد جب لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کی گئی تو ذمہ داران نے امدادی سلسلے کو بھی توسیع دی اور جن افراد کو پہلے راشن پہنچایا گیا دوبارہ ان کے گھروں پر 15 دنوں کا راشن پہنچایا گیا اس طرح کل 5000 سے زائد راشن کٹ تقسیم کی گئیں.اس مہم میں *اعلی حضرت یوتھ برگیڈ* کے دیگر ذمہ داران الحاج سید ناصر علی رضوی، محمد اشفاق حسین رضوی، کبیر احمد بنارسی، یاسین کولڈ ڈرنک والے، حاجی شمس الدین صدیقی، رئیس احمد عرف بلو،شمیم، وسیم،سراج احمد بنارسی، شہنواز حسین،فراہیم ،محمد عرفان،محمد طیب،للّن بھائی، سید کاشف علی،سید صابر علی،سلمان خان وغیرہ نے فعال کردار ادا کیا ہے. اللہ تعالی جملہ افراد کی کاوشوں کو قبول فرمائے. 
امداد کا یہ سلسلہ یکم رمضان البارک تک بلاناغہ جاری رہا. رمضان المبارک کی آمد کی وجہ سے ذمہ داران نے رمضان کٹ کے نام سے اپنی امدادی مہم کو جاری رکھا ہوا ہے. رمضان کٹ میں کچھ چیزوں کا مزید اضافہ کیا گیا ہے تاکہ روزہ دار حضرات اپنے دستر خوان کی تنگی سے دل برداشتہ نہ ہوں. ایسے سخت ماحول میں یہ کام ممکن نہ ہوتا اگر اصحاب خیر کا تعاون شامل حال نہ ہوتا. مولانا افتخار حسین رضوی صاحب ایک معتمد، باوقار اور بااثر شخصیت ہیں.ان کے خلوص اور کردار کے اپنے بیگانے سبھی معترف ہیں. اللہ تعالیٰ انہیں مزید خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے اور *اعلی حضرت یوتھ برگیڈ* کے جملہ کارکنان کو بہترین اجر و ثواب عطا فرمائے