لاک ڈاؤن میں.رمضان اور عید سادگی سے گذارنے کی ضرورت 

تحریر: عبدالرشید مصباحی

رمضان المبارک ہر سال اپنے اندر بے شمار برکتیں ورحمتیں سمیٹے ہوئےہمارے درمیان سے گذر جاتا تھا اور ہم اس کی پُر رونق و ضیاء بار برکتوں سے لطف اندوز ہوکر اپنی روز مرہ کی مصروفیات میں مشغول ہو جاتے تھے اور ہمیں ذرا احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ ایک عظیم نعمت سے ہم محروم ہوگئے ہیں. مگر اس بار کارمضان اپنے اندر کئ طرح کی حرماں سامانی,بے رونقی,لاتعلقی,جانکاہ اداسی لیکر جب ہمارے درمیان جلوہ بار ہواتو خدا تعالی کی عطا کردہ وہ سابقہ انعام واکرام کا ہمیں بھر پور احساس ہونے لگا.
عام دنوں میں رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی ہمارے گھروں کی رونقیں,مسرتیں,دوبالا ہو جایا کرتی تھیں.ہفتہ بھر پہلے سے ہم عمدہ,پُرلطف,لذیذ و مرغن غذاؤں کی تیاری میں مصروف ہو جایا کرتے تھے.
افطاری کے دستر خوان کو ہم طرح کے لذیذ پکوان سے مزین کرنے اور اسے امتیازی بنانے کے لئے نہ جانے کیا کیا جتن کیا کرتے تھے,روزے شروع ہوگئے تو پھر مانو بہار سی آگئ! ہر دن نئ ڈش,نئے آئٹم سے مزین دستر خوان دیکھ کر گھروں میں ایک عجیب سی ہلچل ہو تی تھی, بازاروں,دکانوں,کی بھیڑ اور خریداری میں مقابلہ آرائ تو دیکھنے لائق ہوتی تھی اور جس میں مسلم خواتین کا پیش پیش ہونابازاروں کی رونق کو دوبالا کر دیتا تھا.بڑے شہروں بالخصوص ممبئ دلی کلکتہ وغیرہ میں رمضان المبارک کا مہینہ گذارنے والے اس کی پُر بہار سرگرمیوں سے بخوبی واقف ہیں.
    مارکیٹ کی خوبصورت دکانیں,اور ان کی عمدہ سجاوٹ اور خریداروں کواپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے جاذب نظر مرتب ساز وسامان, سڑکوں پر لگے کپڑوں,ٹوپیوں,عطورکے اسٹال وٹھیلوں پر سجے متنوع فروٹس, ہوٹلوں میں تیار کئے جا رہے سینکڑوں قسم کے عمدہ ولذیذ پکوان ! جن کی خوشبو سے مشام جاں معطر ہو جائے اور جنھیں دیکھ کر ہر کسی کا دہن آب آب ہو جائے.
  پھر افطاری کے بعد اہل ثروت وخوشحال تعیش پسند طبقہ کا رات رات بھر ان رمضانی ہوٹلوں پر انواع واقسام کی مرغن غذاؤں کے ساتھ مع احباب عیش وطرب میں مبتلا ہونا ایک قابل دید نظارہ دیتا تھا.
  تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ چِکن,مٹن کے پکوان میں تنوع پیدا کرنے میں ممبئ کے مسلمانوں کا تجدیدی کارنامہ ہے.
اسی لئے رمضان المبارک کے موقعہ پر کچھ مارکیٹوں میں اگر آپ کاجانا ہوتو کباب وچکن کے تنوع کو دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جائیں گے اور حیرت واستعجاب کے اتھاہ سمند میں غوطہ زن ہوں گے. اور آپ کو محسوس ہوگا کہ دنیائے سائنس وایجادات کے ماہرین نیوٹن,مارٹن کوپر,تھامس ایڈسن اور رائٹ برادران( جنھوں نے فون,بلب,اور طیارے جیسے ایجادات سے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا)کے کارنامے بھی ان اقسام کے موجدوں کے سامنے معمولی ہیں.
 رمضان المبارک کا ایک ہفتہ گذرتے گذرتے اب عید کی تیاری شروع ہو جاتی ہےگھروں میں ایڈوائزری بٹھائ جاتی ہے,سب سے اچھے, مہنگے,اور نئے فیشن  ڈیزائنڈ کپڑے کی مارکیٹوں کو گوگل پر سرچ کیا جاتا ہے.تاکہ مہنگے سے مہنگا سوٹ لیکر ہم امتیازی عید منا سکیں.
لگژری گاڑیوں میں بیٹھ کر سُپر مارکیٹوں میں بارگینِنگ کرنا ایک عام اور باذوق مشغلہ ہوتا تھا.
وہ دھنا سیٹھ جس نے پورے رمضان اپنے تجارتی مشغولیت کے بہانے ایک روزہ بھی نہ رکھااور رب کی بارگاہ میں ایک سجدہ بھی نہ کیا اور عام دنوں کی طرح رمضان میں بھی بے شرمی سے کھاتا پیتا رہا اب عید آنے پر لاکھوں کے سوٹ میں ملبوس ہوکر عید گاہ میں بڑی طمطراقی سے وہ مصافحہ ومعانقہ میں مشغول نظر آتا ہے.
  غرضیکہ رمضان المبارک میں مسلمانوں کی سرگرمیوں اور طریقۂ کار سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے رمضان اور عید کو عمدہ ولذیذ کھانے ومہنگے لباس کی خریداری اور مارکیٹنگ کی حد تک ہی سمجھ رکھا ہے. اور اس پر عمل کرکے ہم اپنے فرائض سے سبکدوش ہوگئے اب ہمیں ان عظیم تہواروں کے پس منظر و تقاضوں سے کوئ سروکار نہیں.
  ماڈرن مسلمان جس نے رمضان وروزہ کی حکمت الہیہ کو نہ سمجھا اور نہ سمجھنے کی کوشش کی وہ پورے رمضان صرف کھانے وپکانے میں ہی مصروف رہا اور یہ سمجھتا رہا کہ رمضان ہر سال ہمارے درمیان اسی لئے آتا ہے.! مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے غافل مسلمان نہ تو معاشرہ کے لئے مفید ہیں اور نہ ہی ملت اسلامیہ کے لئے.
: اب جبکہ کرونا مہاماری کی پاداش میں پورے ملک میں لاک ڈاؤن چل رہا ہے اور سارے تجارتی ذرائع مقفل ہیں چند ضروری دکانوں کے سوا پوری مارکیٹ بند ہے نہ وہ بازاروں کی رونق ہے اور نہ کوئ چہل پہل, نہ خریداری کی سرگرمی ہے اور نہ عمدہ ولذیذ پکوانوں کے اسٹال اب ایسے عالم میں ہمیں ان سابقہ سامان عشرت وتلذذ کے چھن جانے کا احساس ہو رہا ہے,گھروں کی وہ ساری مسرتیں,متنوع مطعومات کی وہ ساری لذتیں پھیکی محسوس ہو رہی ہیں, ہر طرف بس اداسی ہی اداسی ہے. مسجدیں اپنے مصلیان سے خالی ہیں,ہر شخص اس عالمی منظر نامہ پر ماتم کناں ہے.کوئ اپنی اولادوں کے پردیس میں پھنسے ہونے پر رنجیدہ خاطر ہے تو کوئ اپنے معاشی ذرائع کے تباہ ہوتے وسائل پر گریہ کناں, کسی کی فیکٹری,کمپنی,انڈسٹری لاک ڈاؤن کی مارجھیل رہی ہے تو کسی کو یومیہ مزدوری کی فکر ہے اور اس کے بند ہونے پر کبیدہ خاطر ,. جہاں ایک طرف کمزور ومفلس طبقہ روزی روٹی کو ترس رہا ہے تو وہیں کچھ لوگ فاقہ کشی کے دہانے پر کھڑے ہیں غرضیکہ ہر طرف نفسی نفسی کا عالم ہے پوری دنیا پر ایک عجیب سی کسمپرسی چھا گئ ہے جس کے مابعد کے نتائج پر غور کرنے پر محسوس ہوتا ہے کہ یہ ” قیامت سے پہلے قیامت کا منظر ” ہے