لاک ڈاؤن کے قہر میں مدارس اسلامیہ کا تعاون

تحریر: انور علی رضوی مصباحی

بلا شبہ بچے کے لیے تعلیم و تربیت کا ابتدائی زمانہ ماں کی آغوش سے شروع ہوتا ہے، لیکن جب بچہ ہوش سنبھلتا ہے اور اپنی زندگی کا جہاں سے آغاز کرتا ہے وہ مدارسِ اسلامیہ ہوتے ہیں جو حفاظت دین،فروغ دین اور اشاعت اسلام کے مراکز ہوتے ہیں،جو کھانے پینے، چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے ، بات چیت، انداز گفتگو،چھوٹے بڑوں کا ادب واحترام اور مہذب طریقےسے زندگی بسر کرنے کے اصول و قوانین سکھاتے ہیں ،جہاں پر دین کے داعی، اسلام کے سپاہی اور دین کی بے لوث خدمات انجام دینے والے تیار ہوتے ہیں،دینی و عصری علوم کی تحصیل کے لیے کتب اور ان کے قیام و طعام ، رہن سہن کا مکمل انتظام کیا جاتا ہے ۔ظاہر ہے ان چیزوں کی سہولیات کے لیے  مدارس اسلامیہ کو ہمہ وقت پیسوں کی ضرورت درکار ہوتی ہے اور بہت سارے تو ایسے مدارس بھی ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ زیر تعلیم ہوتے ہیں، قیام و طعام ،تربیت وغیرہ کا انتظام ہوتا ہے ان کےپاس آمدنی کے لیے جائداد “بینک بیلنس ” خزانہ وغیرہ نہیں ہوتا، بلکہ ان کے لیے مالی وسائل کا بنیادی ذریعہ لوگوں سے ملنے والے عطیات و صدقات ہوتے ہیں ۔کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسان لوگ عشر دیتے ہیں، لیکن خاص طور پر مدارس اسلامیہ کا تعاون رمضان المبارک میں ہوتا ہے جس میں ہر شخص بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کرتا ہے، مگر افسوس کہ اس بار رمضان کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہےکہ بیش تر ممالک لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی بحران کا شکار ہو گیےہیں، کاروبار بند، غریب ایک ایک لقمہ کےلئے ترس رہاہے، متوسط طبقہ بھی اِس بحران میں معاشی پریشانی سے گزر رہا ہے ۔یہ ساری چیزیں ہمارے سامنے ہیں لیکن ایک منٹ کو ہم سوچیں کہ اگر ان مدارس کا ایسے وقت میں تعاون نہیں کیا جائے گا تو یہ بند ہو جائیں گے، ہمارے بچے پڑھنے سے محروم ہو جائیں گے، اربابِ مدارس کہاں سے اتنا فنڈ جمع کریں گے کہ پورے سال کا خرچہ کر سکیں، دین متین کی خدمات کی راہوں کا سد باب ہو جائے گا، اساتذہ، ائمہ، حفاظ، قراء، محدثین، مفسرین سب نایاب ہو جائیں گے، کون ہماری رہنمائی کرے گا؟ کون رہبری کرے گا؟
اس لئے امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ ان مدارس کی خونِ جگر سے آب یاری کرے،اپنی جان ومال سے ہر ممکنہ تعاون کرے، ان مدارس پر آئی ہر مصیبت کے لئے سینہ سپر رہے، قریب و بعید سب میں حصہ لے، اتنا ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی جانب ترغیب دلائے، دوسروں سے بھی تعاون کرائے اور اللہ کے فرمان”تعاونوا علی البر والتقوی کا مصداق بنے
اللہ تعالیٰ سے امید قوی ہے کہ اگر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو آباد رکھا، اس میں تعاون کیا ،خاص کر اس مشکل گھڑی میں تو ان شاءاللہ، اللہ تعالیٰ دار فنا سے لے کر، دار بقا تک کی بھلائیاں عطا فرمائے گا