حدیث نمبر200

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن غنم سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ جو نماز مغرب و فجر سے پھرنے اور پاؤں موڑنے سے پہلے ۱؎ دس بار یہ کہہ لیا کرے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف اس کے قبضے میں خیر ہے زندگی اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۲؎ تو اس کے لیے ہر ایک کے بدلہ میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس گناہ مٹائے جائیں گے اور دس درجے بلند کیے جائیں گے۳؎ ہر برائی سے اس کی حفاظت اور مردود شیطان سے امن ہوگی اور شرک کے سوا کوئی گناہ اسے نہ چھو سکے گا۴؎ اور وہ لوگوں سے عمل میں افضل ہوگا سوا اس کے جو اس سے زیادہ کہہ لے وہ اس سے بڑھ جائے گا ۵؎(احمد)

شرح

۱؎ یعنی مغرب کی سنتوں اور نفلوں سے فارغ ہو کر اسی طرح دو زانو بیٹھے یہ کرلیا کرے فرض مغرب مراد نہیں کیونکہ اس کے بعد سنتیں ہیں لہذا دعا مختصر مانگنی چاہیے۔

۲؎ یعنی چوتھا کلمہ خیال رہے کہ اگرچہ خیر و شر سب اﷲ کے قبضے میں ہے مگر ادب یہ ہے کہ اس کی طرف صرف خیر کو نسبت کیا جائے۔

۳؎ جب ایک کے بدلے دس ہو تو دس کے بدلے یقینًا سو ہوں گے۔

۴؎ یعنی اﷲ تعالٰی اس کی برکت سے اسے گناہوں سے بچائے گا اور اگر بھول سے گناہ کرے گا تو توبہ کی بھی توفیق ملے گی اور رب تعالٰی کی طر ف سے معافی،ہاں اگر کفر کر بیٹھا تواس کی معافی نہ ہوگی یہی اس حدیث کا مطلب ہے۔

۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ دس بار کی قید نہیں،جتنی خدا توفیق دے پڑھے۔