أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰذَا بَلٰغٌ لِّـلنَّاسِ وَلِيُنۡذَرُوۡا بِهٖ وَلِيَـعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ وَّلِيَذَّكَّرَ اُولُوا الۡا َلۡبَابِ۞

ترجمہ:

یہ (قرآن) تمام لوگوں کے لیے پیغام ہے تاکہ انہیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے اور تاکہ وہ یہ جان لیں کہ صرف وہ ایک ہی مستحق عبادت اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یہ (قرآن) تمام لوگوں کے لیے پیغام ہے تاکہ انہیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے اور تاکہ وہ یہ جا لیں کہ صرف وہ ایک ہی مستحق عبادت ہے اور تاکہ عقل والے نصحیت حاصل کریں۔ (ابراھیم : 52) 

ہدایت کے لیے قرآن مجید کا کافی ہونا : 

یعنی نصحیت کے لیے یہ قرآن کافی ہے قرآن مجید کی ہر سورت نصیحت کے لیے کافی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دو قوتیں عطا کی ہیں قوت نظریہ اور قوت عملیہ قوت نظرہی سے انسان توحید اور رسالت کے دلا ئل میں غور وفکر کر کے اللہ اور رسول پر ایمان لاتا ہے اور قوت عملیہ سے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے حقوق ادا کرتا ہے جس سے انسان کا دل روشن ہوجاتا ہے اور اس کا دل تجلیات الہیہ کے لیے آئینہ بن جاتا ہے قرآن مجید میں عقائد اور احکام شرعیہ کو تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے اور ان احکام پر عمل کرنے سے انسان کا کامل تذکیہ ہوجاتا ہے قرآن مجید میں ایسی آیات ہیں جن میں نیک اعمال پر بشارت دی گئی ہے اور برے اعمال پر عذاب سے ڈرایا ہے پس انسان کو ثواب کے شوق سے یا عذاب کے خوف سے نیک اعمال کرنے چاہیں اور برے اعمال کو اعمال کو ترک کرنا چاہیے اور ہدایت کے لیے یہ اسلوب کافی ہے کیونکہ انسان ثواب کے شوق سے اطاعت کرتا ہے یا عذاب کے خوف سے۔ 

یہ سورت ابراھیم کی آخری آیت ہے جس میں قرآن مجید کا یہ وصف بیان فرمایا ہے کہ اس میں اللہ کا پیغام ہے کہ تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں اور سورت ابراھیم کی پہلی آیت میں بھی قرآن مجید کا وصف بیان فرمایا ہے کہ اس کتاب کو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کو (کفر) کے اندھیروں سے اسلام کی روشنی کی طرف لائیں گویا سورت ابراھیم کی ابتداء بھی قرآن مجید کے وصف سے ہوتی ہے اور اس کی انتہاء بھی قرآن مجید کے وصف پر ہوتی ہے۔ 

اختتام سورت : 

الحمد للہ رب العلمین۔ آج مورخہ سات ربیع الاول 1421 ۔ گیارہ جون 200 ء بروز اتوار بعد نماز ظہر سورة ابراھیم کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ میں اللہ تعالیٰ اسے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بیماریوں سے خصوصا کمر کے درد سے شفاء عطا فرمائے تاکہ میں بغیر کسی تکلیف کے بیٹھ سکوں اور زیادہ سے زیادہ تفسیر کا کام کرسکوں اور میں اس تفسیر کے پڑھنے والوں سے بھی التماس کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے شفاء کی دعا کریں خصوصا کمر کے درد سے، اور میں امام فخر الدین رازی، علامہ قرطبی، امام بن جریر اور امام ابن جوزی جملہ محد ثین اور شارحین کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے صدقہ جاریہ اور سلسلہ فیض کو تاقیامت جاری رکھے اور تمام نفوس قدسہ کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے اور میں مفتی محمد حسین نعیمی، علامہ عطامحمد گولڑوی مولانا محمد نواز دیسی اور علامہ سید احمد سعید کا ظمی اور اپنے جملہ اساتذہ کے لیے مغفرت اور جنت میں بلند درجات کی دعا کرتا ہوں اور اپنے والدین کی دعا کرتا ہوں الہ العالمین ! میرے اس عمل میں اخلاص عطا فرما اپنے ذکر اور اشکر اور حسن عبادت میں میری مدد فرما اس تفسیر میں مجھے ہمیشہ میں حق لکھنے اور باطل سے اجتناب کرنے پر برقرار رکھ اس تفسیر کو قیامت تک مؤثر اور فیض آفریں بنا اور محض اپنے فضل سے میری مغفرت فرما مرنے سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت اور آپ کی شفاعت عطا فرما اور جس طرح تو نے محض اپنے کرم سے یہاں تک تفسیر لکھوادی ہے باقی تفسیر کو بھی مکمل کرا دے آمین یارب العلمین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 52