أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَدۡ مَكَرُوۡا مَكۡرَهُمۡ وَعِنۡدَ اللّٰهِ مَكۡرُهُمۡؕ وَاِنۡ كَانَ مَكۡرُهُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡهُ الۡجِبَالُ‏ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے گہری سازشیں کیں اور اللہ کے پاس ان کی سازشیں لکھی ہوئی ہیں، اور ان کی سازشیں ایسی خطرناک ہیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جائیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے گہری سازشیں کیں اور اللہ کے پاس لکھی ہوئی ہیں اور ان کی سازشیں ایسی (خطر ناک) ہیں کہ ان سے پہاڑ بھی (اپنی جگہ سے) ہل جائیں۔ (ابراھیم : 46) 

کافروں کی مکر کی تفسیر میں متعدد اقوال۔ : 

اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ مکروا کی ضمیر کی طرف راجع ہے یعنی یہ گہری سازشیں کرنے والے کون تھے زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس مراد کفار مکہ ہیں جب انہوں نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی سازش کی تھیں اور آپ کے شانہ اقدس محاصرہ کرلیا تھا جیسے ہی آپ گھر سے باہر نکلیں آپ کو (معاذاللہ) کردیا جائے اس کا ذکر اس آیت میں ہے : 

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (الانفال :30) اور یاد کیجئے جب کفار آپ کے خلاف سازشیں کر رہے تھے تاکہ آپ کو قید کردیں یا قتل کردیں یا جالال وطن کردیں وہ اپنی سازش میں مصروف تھے اور اللہ خفیہ تد بیر کررہا تھا اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے۔ 

اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ مکروا کی ضمیر حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے کفار کی طرف راجع ہے اور اس سازشیں سے مراد یہ کہ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے زمانہ ایک جابر بادشاہ تھا جس کا نام نمرود تھا اس نے آسمان تک پہنچنے کی ایک سازش تیار کی۔ 

حافظ ابن کثیر دمشقی متوفی 774 ھ لکھتے ہیں : 

اس بادشاہ نے گدھ کے دو بچوں کو پالا جب وہ خوب تیار اور فربہ ہوگئے تو ایک چھوٹی سے چوکی کے ایک پائے سے ایک کو باندھ دیا اور دوسرے پائے سے دوسرے کو باندھ دیا۔ خود اپنے ایک وزیر کے ساتھ اس چوکی پر بیٹھ گی انہیں کئی دن بھوکا 

رکھا تھا پھر ایک لکڑی کے سر پر گوشت کو باندھ کر اسے اوپر اٹھایا بھوکے گدھ اس گو شت کو کھانے کے لیے اوپر کو اڑے اور اپنے زور سے چوکی بھی لیے اڑے جب وہ اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ انہیں ہر چیز مکھی کی طرح نظر آنے لگی تو اس نے وہ لکڑی جھکا دی اب گوشت نیچے دکھائی دینے لگا اس لیے اب اب گدھوں نے اپنے پر سمیٹ کر گوشت کے لیے نیچے اترنا شروع کردیا اور وہ تخت بھی نیچے ہونے لگا حتی کہ وہ تخت زمین پر پہنچ گیا حضرت علی ابن کعب اور حضرت عمر سے یہی منقول ہے کہ یہ نمرود کا قصہ ہے جو کنعان کا بادشاہ تھا اس نے اس طرح آسمان پر قبضہ کرنے کی احمقانہ سازش کی تھی، اس کے بعد قبطیوں کے باد شاہ فرعون کی بھی یہی خبط سمایا تھا اس نے بہت بلند مینار تعمیر کرایا تھا لیکن وہ دونوں کا ضعف اور عجز ظاہر ہوگیا اور ذلت اور خواری کے ساتھ وہ دونوں حقیر اور ذلیل ہوئے۔ ( تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 600، مطبو عہ دارالفکر بیروت 1419 ھ) 

امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس (رض) ضحاکک اور قتادہ سے یہ نقل کیا ہے اس مکر اور سازش سے مراد یہ ہے کہ مشرکین مکہ اور کفار نے اللہ تعالیٰ کے شریک گھڑ لیے اور عیسائیوں نے اللہ کی طرف بیٹے کو منسوب کیا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : 

وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا (٨٨) لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا (٨٩) تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الأرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا (٩٠) أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا (٩١) وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا ( ابراھیم : ٩٢) اور کافروں نے کہا رحمن نے اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔ بیشک تم نے یہ بہت سنگین بات کہی۔ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں، اور زمینیں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور پہاڑ لرزتے ہوئے کرجائیں۔ اور رحمن کی شان کے لائق نہیں کہ وہ اپنے لیے بیٹا بنائے۔ جامعالبیان جز 13 ص 322، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 46