أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ‌ ؕ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُ ۞

ترجمہ:

اور ظالم جو کچھ کررہے ہیں تم اللہ کو اس سے ہرگز بیخبر نہ سمجھنا، وہ انہیں اس دن تک کے لیے ڈھیل دے رہا ہے جس دن ( دہشت سے سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ظالم جو کچھ کررہے ہیں تم اللہ کو اس سے ہرگز بیخبر نہ سمجھانا وہ انہیں اس دن تک کے لیے ڈھیل دے رہا ہے جس دن دہشت سے سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ سراٹھائے ہوئے بےتحاشہ دوڑ رہے ہوگے درآنحالیکہ ان کی پلک تک نہ جھپک رہی ہوگی اور ان کے دل ہوا اہو رہے ہوں گے ابراھیم : 42، 43) 

مشکل الفاظ کے معانی : 

تشخص : یہ لفظ شخوص سے بنا ہے کسی کو لگاتار ٹکٹکی باند کر دیکھنا اس کا معنی ہے آنکھوں کو کھلا رکھنا۔ 

مھطعین : یہ مھطع کی جمع ہے اس معنی ہے سر جھکائے تیزی سے دوڑ والے اور عاجزی اور ذلت کی وجہ سے نظر نہ اٹھانا والے۔ 

مقنعی رء رسھم : اپنے سروں کو آسمان کی طرف بلند کرکے دیکھنے والے، قنع کا معنی ہے عاجزی و کھانا اقنع راھہ کا معنی ہے اپنے سر کو بلند کرنا۔ 

وقوع قیامت پر عقلی دلیل : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل بیان کیے پھر یہ بتایا کہ حضرت ابراعلیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کی اولاد کو شرک سے محفوظ رکھے اور ان کو دنیا میں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں ان کی ان کے والدین کی اور تماما مسلمانوں کی مغفرت فرمائے اور چونکہ طلب مغفرت کے ضمن میں یہ ہے مطلوب آگیا تھا کہ قیامت قائم ہوگی اس لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت پر دلیل قائم فرمائی : اور ظالم جو کچھ کر رہے ہیں تم اللہ کو اس سے ہرگز بیخبر نہ سمجھنا اس سے مقصود اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مظلوم کا انتقام نہ لے تو لاز آئے گایا تو اللہ تعالیٰ کے ظالم کے ظلم سے لاعلم اور غافل ہے اور یا اس سے انتقام لینے سے عاجز ہے اور یا اس کے ظلم پر راضی ہے اور جب کہ یہ تمام چیزوں کا فنا ہوجانا ہی قیامت ہے اس کے بعد حشر قائم ہوگا اور ظالم کو اس کے ظلم پر سزا دی جائے گی اور مظلوم کو اس کی مظلو میت پر جزا دی جائے گی۔ 

اگر یہ اعتراض کی جائے کہ ظالم کو اس کے ظلم پر سزادینے کے لیے تمام جہان کو فنا کرنا کیوں ضروری ہے ظآلم اور مظلوم ان کے مرنے کے فورا بعد جزا اور سزا کا سلسلہ کیوں نہیں شروع کردیا جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک یہ جہان قائم رہے گا انسان کی نیکیوں کا سلسلہ جاری رہے گا خواہ وہ وفات پاچکا ہو اور اسی طرح جس آدمی نے کنواں بنوادیا۔ تو جب تک اس کنویں سے پانی پیا جاتا ہے گا اس کی نیکیوں کا سلسلہ جاری رہے گا علی ھذالقیاس اس نے تفسیر قرآن اور شرح حدیث کی کوئی کتاب لکھ دی تو یو نہی معاملہ ہوگا اور اگر کسی شخص نے کوئی قحبہ خانہ جوئے یا شراب خانہ بنایا تو جب تک برائی کے یہ اڈے قائم رہیں گے اس کے نامہ اعمال میں گناہ لکھے جاتے رہے گے حدیث میں ہے : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو بھی ظلما قتل کی جائے گا اس کے عذاب کا کچھ حصہ پہلے ابن آدم پر بھی ہوگا کیونکہ ہو پہلا شخص تھا جس نے قتل کا طریقہ ایجاد کیا۔ (صحیح البخاری رقم الدیث :3335، صحیح مسلم رقم الحدیث :1677، سنن الترمذی رقم الحدیث :2673، سنن النسائی رقم الحدیث :3985، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2616) 

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم دن کے ابتائی حصہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے قبیلہ مضر کے کے کچھ لوگ آئے جن کے پیر ننگے، بدن گلے میں پوستین یا عبائیں پہنے ہوئے تھے ان کو فقوفاقہ کو دیکھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا آپ اندر گئے پھر باہر آئے اور حضرت بلال (رض) کو آذان دینے کا حکم دیا حضرت بلال نے اذان دی پھر اقامت کہی آپ نے نماز پڑھائی خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا یہ پوری آیت پڑھی (النسا :1) اور یہ آیت پڑھی انسان کو غورفکر کرنا چاہیے کہ وہ کل قیامت کے دن کے لیے کیا بھیج رہا ہے (الحشر :18) لوگ درہم اپنے کپڑے، گندم اور جو وغیرہ صدقہ کریں خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو انصار میں سے ایک شخص بری بھاری تھیلی اٹھاکر لایا جس کے بوجھ سے اس کا ہاتھ تھک گیا تھا پھر لانے والوں کا تاتنا بندھ گیا حتی کہ میں نے کھانے کی چیزوں اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے میں فرمایا جو شخص اسلام میں کسی نیک کام کی ابتداء کرے (یا کسی نیکی کی ایجاد کرے) اس کو اپنے عمل کا بھی اجر ملے گا اور بعد میں عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے اسلام میں کسی برے عمل کی ابتداء کی (یا کوئی برائی ایجاد کی) اسے اپنے عمل کا بھی گناہ ہوگا اور بعد میں عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ہوگا اور ان عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : 117، سنن النسائی رقم الحدیث :2554، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 203) 

نیکی ایجاد کرنے والے کو بعد کے نیکی کرنے والوں کا جر اس لیے ملے گا کہ ان کی نیکیوں کا وہ سبب ہے اسی طرح برائی ایجاد کرنے والے کو بعد کے برے کام کرنے والوں کی سزا اس لیے ملے گی کہ ان کی برائیوں کا وہ سبب ہے۔ اب احادیث سے واضح ہوگیا کہ جب تک تمام انسان اور یہ دنیا ختم نہیں ہوجاتی اس وقت تک انسانوں کے اعمال کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا نیک لوگوں کا نا بد لوگوں کا اس لیے جزاء اور سزا کا نظام قائم کرنے کے لیے قیامت کا ہونا ضروری ہے۔ 

کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کو ظالموں سے غافل سمجھتے تھے ؟ 

اس آیت میں فرمایا ہے اور ظالم جو کچھ کر رہے ہیں تم اللہ کو اس سے ہرگز بیخبر نہ سمجھنا۔ اس سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کو ظالموں کے کاموں سے بیخبر سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تم اللہ تعالیٰ کو ظالموں کے کاموں سے بیخبر نہ سمجھنا اس اعتراض کے متعدد جوابات ہیں :

(1) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس طرح آپ پہلے اللہ تعالیٰ کو ظالموں کے ظلم سے بیخبر نہیں جانتے تھے آپ اسی پر ثابت قدم رہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : 

وَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (الانعام :14) اور تم شرک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہوجانا۔ 

یعنی جس طرح آپ پہلے شرک کی نفی کرتے تھے اسی نفی پر قائم رہیں۔ 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ (انساء :136 اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ یعنی اللہ اور رسول کے ایمان لانے پر ثابت قدم رہو۔ 

(2) آپ یہ گمان نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ ان ظالموں سے چشم پوشی کرکے ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا جیسے کوئی غافل شخص کرتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ان پر نگراں اور سخت محاسب ہے وہ ان سے ذرہ ذرہ کا حساب لے گا۔ 

(3) اس آیت میں اگرچہ بہ ظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے لیکن حقیقت میں آپ کی امت سے خطاب ہے یعنی اے مسلمانو ! تم اللہ تعالیٰ کو ظالموں سے غافل گمان نہ کرنا۔ 

(4) سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ن مظلموں کو تسلی دی ہے اور ظالموں کو ڈرایا اور دحمکا یا ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظالمؤں کی سزا کو قیامت کے دن تک کے لیے موخر کردیا ہے پھر یہ بتایا ہے کہ اس دب کی ہو لناکیوں سے لوگوں کا کیا حال اور کیا کیفیت ہوگی اس دب دہشت سے سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی لوگ سر اٹھائے ہوئے بےتحاشہ دوڑ رہے ہوں درآنحالیکہ انکی پلک تک نہ جھپک رہے ہوگی اور ان کے دل ہواہو رہے ہوں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 42