أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَيۡرَ الۡاَرۡضِ وَالسَّمٰوٰتُ‌ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ‏ ۞

ترجمہ:

جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اللہ کے سامنے پیش ہونگے جو واحد ہے اور غالب بھی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن زمین دوسری زمین سے بد لی دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے جو واحد ہے اور غالب بھی ( ابراھیم : 48) 

زمین کے تبدیل ہونے کے متعلق صحابہ اور تابعین کے اقوال :

اس آیت میں فرمایا ہے کہ زمین دوسر زمین سے بدل دی جائے گی اس مسئلہ میں متعدد اقوال ہیں :

(1) ابو صالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے زمین یہی ہوگی صرف اس کی صفات تبدیل کردی جائیں گی اس میں زیادتی یا کمی کردی جائے گی اس کے ٹیلے، پہاڑوادیا اور درخت ختم کردیئے جائیں گے اور اس کو چمڑے کی طرح پھیلاکر ہموار کردیا جائے گا۔ 

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے قیامت کی نشا نیوں کے متعلق ایک حدیث روایت کی ہے اس مذکور ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرکے گرادیا جائے گا اور زمین کو رنگے ہوئے چمرے کی طرح پھیلا دیا جائے گا۔ ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 4081، مصنف ابن ابی شیبہ ج 15 ص 157، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : 5294، المستدرک ج 4 ص 489، 488، مسند احمد ج 1 ص 375، یہ ضعیف حدیث ہے) 

(2) عمر بن میمون نے حضرت ابن مسعود سے اور عطا نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ اس زمین کو دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا جو چاندی کی طرح صاف ہوگی اس پر کوئی ؛ گناہ نہیں ہوگا۔

(3) حضرت ابوہریرہ ، سعید بن جبیر اور قرظی وغیرہ نے کہا ہے کہ اس زمین کو سفید روٹی سے بدل دیا جائے گا مومن اپنے قدموں کے نیچے سے اس کو کھائے گا دوسروں نے کہا حساب سے فارغ ہونے تک مسلمان اس کو کھاتے رہیں گے۔ (زادلمسیر ج 4 ص 376، 375، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، 1407 ھ) 

زمین کے ہونے کے متعلق احادیث :

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کا حشر اس زمین پر کیا جائے گا جو میدہ کی روٹی کی سفید ہوگی اس میں کسی گھر کے کی کوئی نشان نہیں ہوگی۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : 6521، صحیح مسلم رقم الحدیث :2790، ) 

مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے یہ آیت تلاوت کی یوم تبدل الا رض غیر الارض رسول اللہ ! اس دن لوگ کہاں ہوں گے ! آپ نے فرمایا پل صراط پر۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : 2791 سنن الترمذی رقم الحدیث 3121، مسند احمد ج 6 ص 35، سنن الدارمی رقم الحدیث 2812، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4279، صحیح ابن حبان رقم الحدیث 7380، المستدرک ج 2 ص 352) 

عمرو بن میمون حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم تبدل الا رض غیر الارض کی تفسیر میں فرمایا وہ سفید زمین ہوگی گویا کہ وہ چاندی ہے اس میں کوئی حرم خون نہیں بہایا یگا و اور نہ اس میں کوئی گناہ کیا گیا ہے (المعجم الا وسط رقم الحدیث :7163، المعجم الکبیر رقم الحدیث :10323) 

زمین کو تبدیل کرنے کی حکمت اور مختلف اقوال میں تطبیق :

حافض احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں : 

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے قیامت کے دن لوگوں کا حشر اس زمین پر کیا جائے گا جو میدہ کی روٹی کی سفید ہوگی اس میں کسی کی گھر کی نشانی نہیں ہوگی علامہ خطبی نے کہا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ زمین بالکل ہمو اور ہوگی قاضی عیاض نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ اس زمین میں کوئی عمارت ہوگی نہ پہاڑیاں اور چٹانیں ہوں گی جس سے زمین پر کوئی علامت مقرر کی جاسکے علامہ ابو حمزہ نے کہا اس میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت پر دلیل ہے اور قیامت کی ہولناکیوں کا اس کو پہلے علم ہوجائے اور وہ اپنے آپ کو ان دہشت ناک چیزوں کے لیے تیار کرلے تاکہ وہ تمام اموار اچانک پیش آئیں اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ میدان حشر کی زمین اس موجودہ زمین سے بہت بڑی ہوگی اور زمین کی ان صفات میں یہ حکمت ہے کہ جس زمین میں حساب و کتاب ہوگا ہو زمین ظلم اور گناہوں سے پاک ہو اور اللہ تعالیٰ سبحانہ اپنے مومن بندوں پر جو تجلی فرمائے گا وہ ایسی زمین ہو جو اس تجلی کی عظمت کے لائق ہو کیونکہ اس زمین میں صرف اللہ وحدہ لا شریک کا حکم ہوگا پس اس کے مناسب یہ ہے کہ وہ زمین بھی خالص اس کے لیے ہو (یعنی اس میں مجازا بھی کسی اور کا حکم نافذ نہ ہو) اور اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ دنیا کی زمین مضمحل ہوجائے گی اور معدوم ہوجائے گی اور اس میں متقد میں کا اختلاف ہے معض کے نزدیک زمین کا مادہ اور اس کی ذات تبدیل کردی جائے گی اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے یہی ثابت ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک زمین یہی رہے گی اور اس کی صفات تبدیل کردی جائیں گی جیسا کہ سنن ابن ماجہ مستدرک اور مسند احمد میں ہے کہ پہاڑوں اور ٹیلوں کی ختم کر کے زمین کو چپٹا کرکے پھیلا دیا جائے گا ان میں تطبیق دینے کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں جو ہے کہ زمین روٹی کی طرح ہوگی یہ محشر کی زمین کے متعلق ہے اور جس حدیث میں یہ کہا کہ پہاڑ ٹیلوں وادیاں اور درخت سب کو گراکر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا وہ اسی زمین کے متعلق ہے قیامت میں اسی زمین پر یہ تمام تغیرات وارد ہونگے اور محشر میں جو زمین سفید روٹی کر طرح ہوگی جس سے مسلمان کھائیں گے وہ اور زمین ہوگی جو اپنی ذات اور صفات میں اس زمین سے مختلف ہوگی۔ (فتح لباری ج 11 ص 376 ۔ 375) 

آسمان کو تبدیل کرنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ (المعارج :8) جس دن آسمان پگھلے ہوے تابنے کی طرح ہوجائے گا۔ 

فَإِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ (الرحمن :37) جس دن آسمان پھٹ جائے گا تو وہ سرخ چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا۔ 

وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ ( ا لتکویر : ١١) اور جب آسمان کھینچ لیا جائے گا۔ 

وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ ( المر سلت : ٩) اور جب آسمان چیر دیا جائے گا۔ 

زمین کو دو بار تبدیل کرنے کی تفصیل اور تطبیق :

علامہ قرطبی نے تذکرہ میں صاحب الافصاح سے نقل کیا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کا تبدیل کرنا دو مرتبہ ہوگا پہلے صور پھو ن کے کے وقت صرف ان کی صفات تبدیل ہوں گی پس ستارے منتشر ہوجائیں گے اور سورج اور چاند کو گہن لگ جائے گا اور آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا اور سروں سے کھنچ لیا جائے گا اور پہاڑ چلنے لگیں گے اور زمین میں تموج ہوگا اور سمندر آگ بن جائیں گے پھر ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک زمین پھٹ جائے گی پھر اس کی بنیاد اور ہئیت بدل جائے گی پھر اس کے بعد صور پھو نکا جائے گا تو سب لوگ نے ہوش ہوجائیں گے آسمان کو لپیٹ دیا جائے گا اور زمین کو پھیلا دیا جائے گا اور آسمان کو دوسرے آسمان سے بدل دیا جائے گا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : 

وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ (٦٨) وَأَشْرَقَتِ الأرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ (٦٩) اور جب صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمینوں میں سب بوہوش ہوجائیں گے۔ مگر جن کو اللہ چاہے گا، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اچانک وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔ اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور تمام نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا۔ اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر با لکل ظلم نہیں کیا جائے گا۔ 

اور زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا اور اس کو اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح اس میں قبریں تھیں اور لوگ اس کی پشت پر اور اس کے اندر تھے پھر زمین کو دوسری بار تبدیل کا جائے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب لوگ محشر میں ہوں گے پھر ان کے لیے زمین کو تبدیل کی جائے گا جس کو الساھرہ کہا جائے گا اس زمین پر ان کا حساب ہوگا اور یہ سفید چاندی کی زمین ہوگی جس پر کوئی خون حرام نہیں بہایا جائے گا اور نہ اس پر کوئی ظلم کیا گیا ہوگا اور اس وقت لوگ پل صراط پر ہوں گے اور وہ پل جہنم کی پشت پر ہوگا اور جب لوگوں کا اس زمین پر حساب لیا جائے گا جس کا نام الساھرہ ہے جنتی پل صراط سے گزر کر جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخی جہنم میں گرجائیں گے اور لوگ نبیوں کے حوضوں پر کھڑے ہوئے پانی پی رہے ہوں گے اور اس وقت زمین کو میدہ کی روٹی کی طرح بناد یا جائے گا اور وہ اپنے پیروں کے نیچے سے توڑ توڑ کر کھا رہے ہوں گے۔ جنت میں داخل ہونے والے تمام لوگ اس سے کھائیں گے اور جنت میں ان کو سالن ملے گا جو بیل اور مچھلی کی کلیجی سے بنا ہوگا۔ (التذکرہ فی امور الا خرہ ج 1 ص 300 ۔ 299، مطبو عہ دارالبخاری، المد ینہ المنورہ، 1417 ھ) 

آسمان کی تبدیل کے متعلق اقوال : 

خلاصہ یہ ہے کہ پہلی بار زمین کی صفات کو تبدیل کی جائے گا اور اس کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا اور ادوسری بار زمین کے مادے اور اس کی ذات کو بد دیا جائے گا پہلے وہ مٹی کی تھی اور اب اس کو سفید روٹی بنادیا جائے گا یہ تو زمین کی تبدیلی تھی اور آسمان کی تبدیلی کے متعلق علامہ قرطبی نے لکھا ہے جب سورف لپیٹ لیا جائے گا اور ستارے جھڑ جائیں گے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اور ابن الا نبار نے یہ کہا ہے کہ آسمان دھواں بن جائے گا اور سمندر آگ بن جائیں گے، ایک قول یہ ہے کہ آسمان کو اس طرح لپیٹ دیا جائے گا جس طرح وثیقہ (اسٹام پیپر) لپیٹ دیا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے : 

يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ (الا نبی اء :104) جس دن ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے جس طرح دستا ویز ات کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔

قرآن مجید کی یہ آیات اور احادیث کے اشارات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس جگہ یہ زمین ہے۔ اسی جگہ میدان حشر قائم ہوگا لیکن اس زمین کا مادہ اور اس کی ذات اور صفات یہ نہیں ہوں گی پہلے اس زمین کو ہموار کردیا جائے گا اور دوسرے صور کے وقت یہ زمین میدہ کی روٹی کی بنادی جائے گی اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ سمندر آگ بن جائے گا اس سے معلوم ہوا یہی سمندر آگ (دوزخ) بن جائے گا مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ جنت اور دوزخ تو اب بھی موجود ہیں اپنی مخلوق اور کائنات کو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 48