أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِى الۡاٰخِرَةِ‌ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيۡنَ‌ ۙ وَيَفۡعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ۞

ترجمہ:

اللہ ایمان والوں کو دنیا میں بھی مضبوط کلمہ کے ساتھ ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں (بھی) اور اللہ ظالموں کو گمراہ کردیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ ایمان والوں کو دنیا میں (بھی) مضبوط کلمہ کے ساتھ ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں (بھ) اور اللہ ظالموں کو گمراہ کردیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (ابراھیم :27) 

کلمہ طیبہ کے حاملین کے قول کا دنیا اور آخرت میں ثابت ہونا : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ کلمہ طیبہ کی صفت یہ ہے کہ اس کی اصل ثابت ہوتی ہے اور کلمہ خبیثہ کی صفت یہ ہوتی ہے کہ اس کی اصل ثابت نہیں ہوتی اور کلمہ خبیشہ کے حاملین کے لیے ثبات اور قرار نہیں ہوتا اور کلمہ، طیبہ کے حاملین کے لیے ثبات اور قرار ہوتا ہے اب اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کلمہ طیبہ کے حاملین کا قوم دنیا اور آخرت میں ثابت ہوتا ہے دنیا میں ثبوت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کلمہ طیبہ اور اس کے تقاضوں پر ثابت قدم رکھتا ہے اور دنیا میں ان کے نیک کاموں پر تعریف وتحسین ہوتی ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کو ان نیک کاموں پر بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے اور جس طرح دنیا میں وہ کلمہ طیبہ پر قائم تھے اللہ تعالیٰ ان کو قبر اور حشر میں بھی کلمہ طیبہ پر قائم رکھتا ہے۔ 

اور فرمایا اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہی پر قائم رکھتا ہے یعنی جو لوگ کلمہ خبیثہ کے حاملین ہیں اور یہی لوگ کافر اور ظالم ہیں ان کو دنیا میں بھی مذمت فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ان کو ثواب سے محروم رکھتا ہے۔ 

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : اس آیت کی تفسیر بھی ہے کہ دنیا میں کلمہ طیبہ پر ثابت قدم رکھنے کا معنی یہ ہے کہ قبر میں جب فرشتے اس سے سوال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو فرشتوں کے جواب میں کلمہ طیبہ پر ثابت قدم رکھتا ہے : 

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابراھیم : 27 کی تفسیر میں فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ اس کو قبر میں ثابت قدم رکھتا ہے جب اس پوچھا جاتا ہے تمہارا رب کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ اور تمہارا نبی کو ب ہے ؟ (سنن الترمذی رقم الحدیث 3120، صحیح البخاری رقم الحدیث 1369، صحیح مسلم رقم الحدیث :2871، سنن ابوداؤد رقم الحدیث 4750، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4269، السنن الکبیر للنسائی رقم الحدیث 11264، سنن النسائی رقم الحدیث :2056) 

قبر میں فرشتوں کے سوال کرنے کے متعلق احادیث : 

امام ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256، ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ پھیر کے چلے جاتے ہیں تو وہ لوگوں کی جو تیوں کی آواز سنتا ہے اس کے پاس دو فرشتے آکر اس کو بیٹھا دیتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ تم اس شخص (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیا کہا کرتے تھے ؟ وہ کہتا ہے کہ میں گوہی دیتا ہوں کہ کہ اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں پھر اس سے کہا جاتا ہے دیکھو ! اپنے دوزخ کے ٹھکانے کو اللہ نے اس کو تمہارے لیے جنت کے ٹھکانوں سے تبدیل کردیا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کو دیکھے گا اور رہا کافر یا منافق تو وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا میں کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے اس کہا جائے گا تم نے نہ کچھ جانا نہ کہا پھر اس کے دو کانوں کے درمیان لوہے کے ہتھوڑے سے ضرب لگائی جاتی ہے جس سے وہ چیخ مارتا ہے اور جن وانس کے علاوہ سب اس کی چیخ سنتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1338 صحیح مسلم رقم الحدیث :2870، سنن ابو داؤد رقم الحدیث 3231، 4752، سنن النسائی رقم الحدیث :2051، 2049) 

امام ابو الحسن مسلم بن حجاج قشیری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ (ابراھیم :27) عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے اس سے پوچھا جائے گا تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہے گا میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2871) 

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ متوفی 273 ھ اپنی سند کے ساتھ روایات کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں جب میت کو قبر میں رکھ دیا جائے گا تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلی آنکھوں والے دو فرشتے آئیں گے ان میں سے ایک کو منکر اور اور دوسرے کو نکیر کہا جائے گا وہ کہیں گے تم اس شخص کے متعلق کیا کہا کرتے تھے ؟ پس وہ جو دنیا میں کہا کرتا تھا وہ اشھدان لا الہ الا اللہ وان محمد اعبدہ ورسولہ وہ کہیں گے تم جانتے تھے کہ تم یہی کہتے تھے پھر اس کی قبر کو ستر ضرب ستر وسیع کردیا جائے گا پھر اس کی قبر کو منور کردیا جائے گا پھر اسے کہا جائے گا سو جاؤ وہ کہے گا میں اپنے گھر والوں کو جاکر اس کی خبر دے دوں ! فرشتے کہیں گے تم اس عروس (دلہن) کی طرح سو جاؤ جس کو وہی پیدار کرتا ہے جو اس کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے حتی کہ اللہ اس کو اس کی قبر سے اٹھائے گا اور اگ وہ منافق ہوگا تو وہ کہے گا میں نے لوگوں کو جو کہتے سنا میں وہی کہہ دیا میں نہیں جانتا۔ فرشتے کہیں گے کہ ہم جانتے تھے کہ تم یہی کہو گے پھر زمین سے کہا جائے گا اس پر تنگ ہو کر ایک دوسرے سے مل جاؤ زمین تنگ ہو کر مل جائے گی اور اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جائیں گی پھر اس کو عذاب ہوتا رہے گا حتی کہ اللہ اس کو قبر سے آٹھائے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :1071 صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 3117 العشر یعہ للا جری رقم الحدیث :365) 

امام ابو لقاسم سلیمان بن احمد متوفی 360 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان بندہ فوت ہوجاتا ہے تو اس کو اس کی قبر میں بٹھا یا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے ؟ تیرا دین کیا ہے ؟ اور تیرانبی کون ہے ؟ پس اللہ اس کو ان کے جوابات میں ثابت قدم رکھتا ہے پس وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں پھر اس کی قبر میں وسعت کی جاتی ہے پھر حضرت عبداللہ بن مسعود نے یہ آیت پڑھی : یثبت للہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ ویضل اللہ الظالمین۔ ( ابراھیم : ٢٢) (المعجم الکبیررقم الحدیث 9145، حافظ الہثیمی نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے، مجمع الزوائدج 3 ص 54، بیروت الشریعہ للآجری رقم الحدیث :811) 

امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی 275 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت براء بن عاذب (رض) بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک نصاری کے نجازہ میں گئے ہم قبر تک پہنچے جب لحد بنائی گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے ہیں آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ آپ زمین کو کرید رہے تھے آپ نے اپنا سر (اقدس) اٹھاکر دو یا تین بار فرمایا عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور فرمایا جب لوگ پیٹھ پھیر کر جائیں گے تو یہ ضرور ان کی جو تیوں کی آوازسنے گا جب اس سے کہا جائے گا اء شخص ! تیرا رب کو ب ہے ؟ اور تیرا دین کیا ہے ؟ اور تیرا نبی کون ہے ؟ ھناد نے کہا اس کے پاس دو فرشتے آئیں گے اور اس کو بٹھادیں گے، اور اس سے ہیں گے تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہے گا میرا رب اللہ ہے، پھر وہ کہیں گے تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہے گا میرا دین اسلام ہے پھر وہ کہیں گے وہ شخص کون تھا جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ وہ کہے گا وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، پھر وہ کہیں گے تم کو کیسے معلوم ہو ؟ وہ کہے گا میں کتاب پڑھی، میں اس پر ایمان لای اور میں اس کی تصدیق کی اور یہ اللہ تعالیٰ اس ارشاد کے مطابق ہے : (ابراھیم : 22) پھر آسمان سے ایک منادی نداکرے گا کہ میرے بندہ نے سچ کہا اس کے لیے جنت سے لباس پہنادواوار اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دو ، پھر اس کے پاس جنت کی ہوائیں اور جنت کی خوشبوآئے گی اور اس کی منتہائے بصر تک اس کی قب کھول دی جائے گی پھر آپ نے کافر کی موت کا ذکر کی اور فرمایا اس کے جسم میں اس کی روح لوٹائی جائے گی اور اس کے پاس دو فرشتے آکر اس کو بٹھائیں گے اور اس سے کہیں گے تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہے گا افسوس میں نہیں جانتا پھر وہ اس کہیں گے تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہے گا افسوس میں نہیں جانتا پھر وہ کہیں گے یہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا وہ کہے گا افسوس میں نہیں جانتا۔ پھر اسمان سے ایک منادی ندا کریگا اس نے جھوٹ بولا اس کے لیے دوزخ سے فرش بچھادو اور اس کو دوزخ کا لباس پہنادو اور اس کے لیے دوزخ ایک دروازہ کھول دو پھر اس کے پاس دوزخ کی تبش اور دوزخ کی گرم ہوائیں آئیں گی اور اس کی قبر تنگ کردی جائے گی حتی کہ اس کی ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف نکل جائیں گی پھر اس پر ایک اندھا اور گونگا مسلط کیا جائے گا اس کے پاس لوہے کا ایک گرز ہوگا جس کی ضرب اگر پہاڑ پر لگائی جائے وہ وہ بھی مٹی کا ڈھیر ہوجائے پھر وہ گرز اس پر مارے گا جس سے وہ کافر چیخ مارے گا جس کو جن اور نس کے سوا سب سنیں گے اور وہ کافر مٹی ہوجائے گا۔ 

اور امام عبدالرزاق متوفی 211 ھ امام احمد متوفی 241 ھ امام آجری متوفی 360 ھ، اور مام ابو عبداللہ حکم نیشا پوری متوفی 405 ھ نے اس حدیث کو بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث 4753، مصنف عبدرالرزاق رقم الحدیث :6737، مسند احمد ج 4 ص 287 طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث 18733، الشریعہ للآجری رقم الحدیث :812، المستدرک ج 1 ص 37) 

حضرت عثمان بن عفان بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جن میت کو دفن کرکے فارغ ہوئے تو آپ اس کی قبر پر کھڑے رہے اور فرمایا اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کروں کیونکہ ان اس سے سوال کیا جائے گا۔ (سنن ابو داؤدرقم الحدیث :3221، المستدرک ج 1 ص 370 شرح السنہ رقم الحدیث :1523، عمل الیوم و للیلہ لابن السنی رقم الحدیث :586) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب میت کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اسے صوبتے ہوئے سورج کی مثل دکھائی جاتی ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے مجھے نماز پڑھنے دو ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث رقم الحدیث :4272، مواردالظمآن رقم الحدیث : 779، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :3116) 

قبر میں سوالات اس امت کی خصوصیت ہے : 

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خچر پر سوار ہو کر بنو نجار کے باغ میں جارہے تھے تم بھی آپ کے سا تھے۔ ایک جگہ خچر نے ٹھوکر کر کھائی قریب تھا کہ وہ آپ کو گرا دیتا وہاں پر پانچ یاچھ یا چار قبریں تھیں آپ نے فرمایا ان قبروالوں کو کون جانتا ہے ؟ ایک شخص نے کہا میں جانتا ہوں آپ نے پوچھا یہ لوگ کب مرے تھے اس نے کہا یہ لوگ زمانہ شرک میں مرے تھے آپ نے فرمایا اس امت کو اپنی قبروں میں آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تم مردوں کو دفم کرنا چھوڑدوگے تم کو عذاب قبر سنواتا جس کو میں سن رہا ہوں پھر آپ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : دوزخ کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو، ہم نے کہا ہم دو خ کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں پھر فرمایا عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرو ہم نے کہا ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، پھر فرمایا : ظاہر اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرو ہم نے کہا ہم ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، پھر فرمایا دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ طلب کرو ہم نے کہ ہم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2867، مسند احمد ج 3 ص 233) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں : 

حافظ ابن عبدالبر نے کہا اس حدیث میں مذکور ہے کہ اس امت کو آزمائش میں مبتلا کی جاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ قبر میں سوال اور جواب اس امت کے ساتھ مخصوص ہے۔ 

اور امام ابوعبداللہ ترمذی نے نوادرالاصول میں کہا ہے کہ میت سے سوال کرنا اس امت کا خاصہ ہے کیونکہ ہم سے پہلی امتوں کے پاس جب رسول اللہ کا پیغام لے کر آتے تھے اور قوم ان کے پیغام کا انکار کرتی تو رسول ان سے الگ ہوجاتے اور ان پر عذاب بھیج دیا جاتا اور جب اللہ تعالیٰ نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رحمت کے ساتھ بھیجا اور فرمایا : وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ( الانبیاء : ١٠٧) تو ان سے عذاب روک لیا اور آپ کو جہاد کا حکم دیا حتی کہ جہاد کی برکت سے لوگ دین اسلام میں داخل ہوگئے اور اسلام ان کے دلوں میں راسخ ہوگیا پھر ان کو مہلت دی گئی یہاں سے نفاق کا ظہور ہو اور بعض لوگ کفر کی چھپاتے اور ایمان کو ظاہر کرتے اور مسلمانوں کے درمیان ان پر پردہ رہتا، اور جب وہ مرگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے قبر میں امتحان لینے والے بھیجے تاکہ سوال کے ذریعے ان کا پر دو چاک ہو اور خبیث طیب سے ممتازہو جائے سو جو دنیا میں اسلام پر ثابت قدم تھا اللہ تعالیٰ اس کو قبر میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالموں کو گمراہی پر بر قرار رکھتا ہے علامہ قرطبی فرماتے ہیں امام ابو عبداللہ ترمذی کی یہ تفسیر اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ مومن اور مناففق سے قبر میں سوال ہوگا حالانکہ احادیث میں تصریح ہے کہ کافر سے بھی سوال ہوگا۔ ( التذکرہ ج 1 ص 230، 229، مطبوعہ دارالبخاری المدینہ المنورہ، 1417 ھ) 

جو مسلمان قبر کی آزماش اور قبر کے عذاب سے محفوظ رہیں گے : 

پانچ قسم کے شخص قبر میں سوال اور جواب سے محفوظ رہتے ہیں، ان کا ذکر حسب ذیل احادیث میں ہے۔

(1) حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک دن اور ایک رات (مسلمانوں کی) سرحد کی حفاظت کرنا ایک ماہ کے روزوں اور نمازوں کے قیام سے افضل ہے اور اگر وہ اسی حال میں فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جا ری رہے گا جس عمل کو وہ کیا کرتا تھا اس کا رزق جاری رہے گا اور وہ قبر کے فتنوں سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :1913، سنن الترمذی رقم الحدیث :1665، مصنف عبدرالرزاق رقم الحدیث : 9617، مصنف ابن ابی شیبہج 5 ص 327، مسند احمد ج 5 ص 441، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :4623، المستدرک ج 2 ص 80، السنن الکبری للبیہقی ج 9 ص 38، شرح السنہ رقم الحدیث ،:2617) 

(2) امام نسائی راشد بن سعد اور ایک صحابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ یہ کی وجہ ہے کہ شہید کے سوا تمام مسلمانوں کا قبر میں امتحان لی جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کے سر پر تلواروں کا چلنا اس کے امتحان کے لیے کافی ہے۔ (سنن النسائی :2052، مطبوعہ دارالمعروف بیروت) 

اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

حضرت مقدام بن معدی کرب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے نزدیک شہید کی چھ خصلتیں ہیں اس کی پہلی دفعہ میں مغفرت ہوجاتی ہے اس کو جنت میں اس کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے اس کو عذاب قبر سے محفوظ رکھا جاتا ہے اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یا قوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اس کا بڑی آنکھوں والی حوروں سے عقد کیا جاتا ہے اور اس کے ستر رشتہ داروں کے متعلق اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے (سنن الترمذی رقم الحدیث :1663، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2799، مسند احمد ج 4 ص 131) 

(3) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک شخص نے ایک قبر پر خیمہ لگا دیا تھا اور اس کو یہ پتا نہیں تھا کہ یہ قبر ہے پس اچانک وہ کسی انسان کی قبر تھی جو سورة الملک پڑھ رہا تھا حتی کہ اس نے اس سورت کو ختم کرلیا وہ شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا یارسول اللہ ! میں ایک قبر پر خیمہ لگا دیا تھا اور میرا یہ گمان نہیں تھا کہ یہ قبر ہے پس اس میں ایک انسان سورة الملک پڑھ رہا تھا حتی کہ اس نے سورت کو ختم کردیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ سورت مانعہ ہے اور منجیہ ہے یہ عذاب قبر سے نجات دے دیتی ہے۔ (سنن الترمذیرقم الحدیث :2890، امعجم الکبیر رقم الحدیث :12801، حلیتہ الاولیاء ج 3 ص 81) 

علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ یہ بھی روایت ہے کہ جو شخص ہر رات کو سورة ا الملک پڑھتا ہے وہ قبر کے امتحان سے محفوظ رہتا ہے۔ (التذکرہ ج 1 ص 234، مطبوعہ دارالبخاری المدینہ المنورہ، 1417 ھ) 

(4) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص بیماری میں مرا وہ شہادت کی موت مرا اور وہ قبر کے امتحان سے محفوظ رہے گا۔ اور اس کو صبح شام جنت سے رزق دیا جائے گا ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1615، مسند ابو یعلی رقم الحدیث :6145، حلیتہ الا ولیاء ج 8 ص 201، اس حدیث کے سند ضعیف ہے) 

(5) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہو اس کو اللہ قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :1074، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث :5592، مسند احمدج 2 ص 129) 

یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند منقبع ہے تاہم ابوعبداللہ ترمذی نے نو ادرالاصول میں اس کو مسند متصل سے اور امام ابع نعیم نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص جمعہ کی رات کو یا جمعہ کے دن فوت ہوا اس کو عذاب قبر سے محفوظ رکھا جائے گا اور جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس پر شہدا کی مہر لگی ہوئی ہوگی۔ (حلتیہ الاولیاء ج 3 ص 155، ) اس کی سند میں عمر بن موسیٰ ضعیف راوی ہے۔ 

ان مباحث کی زیادہ تفصیل اور تحقیق کے لیے شرح صحیح مسلم ج 7 ص 728 ۔ 712 کا مطالعہ فرمائے۔ 

نیک اعمال کا آخرت میں کام آنا : 

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی دمشق متوفی 774 ھ لکھتے ہیں : 

امام عبداللہ حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں اپنی سند کے ساتھ حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت مسجد مدینہ میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا میں آج رات خواب میں ایک عجیب منظر دیکھا کہ میری امت میں سے ایک شخص کے پاس ملک الموت اس کی روح قنض کرنے کے لیے آیا اس شخص اپنے ماں باپ کے ساتھ جو نیکی کی تھی اس نیکی نے ملک الموت کو واپس بھیج دیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا اس کو شیاطین پریشان کر رہے تھے تو اس کے پاس اللہ کا ذکر آیا اور اس نے ان شیاطین سے چھڑالیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا پیاس سے اس کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی وہ جب بھی حوض پر آتا تو اس کو حوض سے روک دیاجا تا تو اس کے پاس اس کے روزے آئے اور انہوں نے اس کو پانی پلاکر سیراب کی اور میں اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا اور انبیاء (علیہم السلام) حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے وہ جب بھی ان کے قریب جاتا وہ اس کو دھکا دیتے پھر اس کا غسل جنابت آیا اور اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو میرے طرف بٹھا دیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا اس کے آگے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں اور اوپر اور نیچے ہر طرف اندھیرا تھا وہ ان اندھیروں میں حیران تھا کہ اس کا حج اور عمرہ آیا اور اس کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آیا۔ اور میں اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا وہ مومنوں سے بات کرتا تھا اور وہ اس سے بات نہیں کرتے تھے پھر اس کا صلہ رحم (رشتہ داروں سے ملنا جلنا) آیا اور اس نے کہا اے مومنوں کی جماعت اس سے بات کرو اس سے بات کروتو انہوں نے اس سے باتیں کیں۔ اور میں نے اپی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے چہرے سے آگ کے شعلوں کو اپنے ہاتھوں سے ہٹارہا ہے اتنے میں اس کا صدقہ آیا اور وہ ان شعلوں کے آگے حجاب بن گیا اور اس کے سر پر سایہ بن گیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتوں نے اس کو ہر طرف سے پکڑ رکھا ہے تو اس کا امر بالمعروف اور نہی ان المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) آیا اور اس کو ان کے ہاتھوں سے چھڑایا اور رحمت کے فرشتوں کے ساتھ داخل کردیا، اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ گھٹنو کے بل گرا ہوا ہے اور اس کے اور اللہ کے درمیان حجاب ہے، اتنے میں اس کے اچھے اخلاق آئے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اللہ کے پاس پہنچادیا۔ اور میں اپنی امت میں سے دیکھا ایک شخص کو دیکھا کہ اس کا نامہ اعمال اس کی بائیں جانب سے آرہا ہے اتنے میں اس کا خوف آیا اور اس صحیفہ اعمال کو اس کے دائیں ہاتھ میں رکھ دیا۔ اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا وہ جہنم کے کنارے پر تھا پھر خوف خدا سے اس کا لرزانا آیا اور اس نے اس کو دوزخ سے نکال دیا۔ اور میں نے ایک شخص کو دیکھا وہ پل صراط پر کپکپا رہا تھا تو اللہ کے ساتھ اس کا حسن ظن آیا اور اس کی کپکپاہٹ دور کی اور اس کو روانہ کی۔ اور میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پل صراط پر گھسٹ گھسٹ کر چل رہا تھا تو اس نے مجھ درود پڑھا تھا وہ آیا اور اس نے اس کو سیدھا کردیا اور وہ چلنے لگا۔ اور میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جنت کے دروازے پر پہنچاتو اس پر جنت کے دروازے بند کردیئے گئے تو اس کا کلمہ شہادت آیا اور اس نے جنت کے دروازے کھولے اور اس کو جنت میں داخل کردیا۔ (تفسیر ابن کثیر ج 2 صمطبوعہ دارالفکر بیروت، 1419، کنزالعمان رقم الحدیث :4352) 

علامہ قرطبی نے اس حدیث کو درج کرنے کے بعد لکھا : یہ حدیث بہت عظیم ہے یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ بعض نیکیوں سے بعض مخصوص عذاب ساقط ہوجاتے ہیں جبکہ حدیث صحیح میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص سے اس کے تمام عذاب اس نیکی کی وجہ سے ساقط کردیئے کہ وہ مقروضوں سے درگزر کرتا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2077، صحیح مسلم رقم الحدیث :1560، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2460) (التذکرہ ج 1 ص 367 ۔ 366، مطبوعہ دارالبخاری المدینہ المنورہ :1417 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 27