الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر197

روایت ہے حضرت ازرق ابن قیس سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم کو ہمارے امام نے نماز پڑھائی جن کی کنیت ابو رمثہ تھی انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہی نماز یا اس کی مثل کوئی اور نماز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ۲؎ فرمایا کہ حضرت ابوبکر و عمر اگلی صف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھڑے ہوتے تھے۳؎ اور ایک شخص نماز کی پہلی تکبیر میں حاضر ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر داہنے بائیں سلام پھیرا حتی کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی۴؎ پھر ابو رمثہ یعنی میرے طرف پھرے ۵؎ تو جس نے نماز کی پہلی تکبیر پائی تھی وہ نفل پڑھنے کھڑا ہوگیا ۶؎ تب حضرت عمر جلدی اٹھے اور اس کے کندھے پکڑکر ہلائے پھر فرمایا بیٹھ جا ۷؎ کیونکہ اہل کتاب صرف اسی لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں کے درمیان فاصلہ نہ تھا ۸؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر فرمایا کہ اے خطاب کے بیٹے اﷲ تمہیں مصیب رکھے ۹؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ آپ تابعی ہیں،حارثی ہیں،بصرہ میں پیدائش ہوئی،کوفہ میں قیام رہا،عالم باعمل تھے، ۱۲۱ھ؁ میں وفات ہوئی۔

۲؎ ابو رمثہ صحابی ہیں،انہوں نے تابعین کو نماز ظہر یا عصر پڑھا کر یہ فرمایا کہ ہم نے ایک بار یہی نماز یا دوسری کوئی اور نماز حضور علیہ السلام کے پیچھے پڑھی تھی تو یہ واقعہ پیش آیا۔

۳؎ کیونکہ حضور علیہ السلام کے پیچھے افضل صحابہ کھڑے ہوا کرتے تھے تاکہ بوقت ضرورت ان نمازیوں میں حضور علیہ السلام انہیں امام بنا کر خود وضو کے لیے جاسکیں۔ اس سے معلوم ہواکہ پہلی صف کا داہنا حصہ باقی مقامات سے افضل ہے۔

۴؎ یعنی داہنی طرف والوں نے داہنے رخسار کی سفیدی دیکھی اور بائیں والوں نے بائیں رخسار کی” رَاَیْنَا”جمع فرمایا۔تکبیر اولیٰ سے مراد تکبیر تحریمہ ہے اس کے پانے کی صورت یہ ہے کہ امام کے قرأت شروع کرنے سے پہلے مقتدی سبحان سے فارغ ہو جائے اس کے بارے میں کچھ اوربھی قول ہیں۔

۵؎ یعنی بعد سلام دعا مانگنے کے لیے داہنی جانب منہ کرکے بیٹھے جیسے میں بیٹھا ہوں۔

۶؎ یعنی وہ شخص مسبوق نہ تھا تاکہ فرض کی بقیہ رکعتیں پوری کرنے کھڑا ہوتا بلکہ مدرک تھا جو بعد والی سنتیں پڑھنے کے لیئے دعا مانگے بغیر کھڑا ہوا۔

۷؎ یعنی بیٹھ کرحضور علیہ السلام کے ساتھ دعا مانگ، جب سرکار اور سارے مسلمان دعا سے اٹھیں تو تو بھی اٹھ نماز سے فارغ ہونے اور مسجد سے نکلنے میں جلدی نہ کر۔اس سے معلوم ہوا کہ جن نمازوں کے بعد سنتیں ہیں ان میں بھی فرضوں کے بعد دعا مانگی جائے اگرچہ مختصر ہی ہو۔

۸؎ یعنی انہیں حکم دیا گیا تھا کہ فرائض اور نوافل کے درمیان دعا کا بھی فاصلہ کریں اور اگر ہوسکے تو جگہ کا بھی مگر اس پر عمل نہ کیا فرض و نفل ملا کر پڑھے جس سے ان کے دل سخت ہوگئے اور ہزاروں گناہ کر بیٹھے۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ لَنْ یَّھْلِكَ نفی مستقبل ہے مگر یہاں ماضی کی نفی استمرار کے لیے استعمال ہوا جیسے”اَﷲُ یَجْتَبِیْ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ میں یَجْتَبِیْ مضارع ہے مگر ماضی کے دوام کے لیے آیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب پرنمازیں فرض تھیں اور ان نمازوں میں کچھ فرائض کچھ نوافل۔

۹؎ یعنی جیسے تم نے یہ مسئلہ صحیح بیان کیا ایسے ہی ہمیشہ ہر کام میں درستی پر رہو۔معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام خوش ہوئے اور آپ کی دعا فاروق اعظم کو ایسی لگی کہ آپ ہمیشہ سیاسی اور مذہبی امور میں حق پر ہی رہے باطل ان کے قریب بھی نہ آیا۔