وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ٘-اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ(۲۵)

اور بےشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (ف۵۲)کہ میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں

(ف52)

انہوں نے قوم سے فرمایا ۔

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ(۲۶)

کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو بےشک میں تم پر ایک مصیبت والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (ف۵۳)

(ف53)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام چالیس سال کے بعد مبعوث ہوئے اور نو سو پچاس سال اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی ، اس کے علاوہ عمر شریف کے متعلق اور بھی قول ہیں ۔ (خازن)

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِۚ-وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ(۲۷)

تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہوئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں (ف۵۴) اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے (ف۵۵) سرسری نظر سے (ف۵۶) اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے (ف۵۷) بلکہ ہم تمہیں (ف۵۸) جھوٹا خیال کرتے ہیں

(ف54)

اس گمراہی میں بہت سی اُمّتیں مبتلا ہو کر اسلام سے محروم رہیں ، قرآنِ پاک میں جا بجا ان کے تذکرے ہیں ۔ اس اُمّت میں بھی بہت سے بد نصیب سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بشر کہتے اور ہمسری کا خیالِ فاسد رکھتے ہیں اللہ تعالٰی انہیں گمراہی سے بچائے ۔

(ف55)

کمینوں سے مراد ان کی وہ لوگ تھے جو ان کی نظر میں خسیس پیشے رکھتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ قول جہلِ خالص تھا کیونکہ انسان کا مرتبہ دین کے اِتّباع اور رسول کی فرمانبرداری سے ہے ، مال و منصب و پیشے کو اس میں دخل نہیں ۔ دیندار ، نیک سیرت پیشہ ور کو نظرِ حقارت سے دیکھنا اور حقیر جاننا جاہلانہ فعل ہے ۔

(ف56)

یعنی بغیر غور و فکر کے ۔

(ف57)

مال اور ریاست میں ۔ ان کا یہ قول بھی جہل تھا کیونکہ اللہ کے نزدیک بندے کے لئے ایمان و طاعت سببِ فضیلت ہے نہ کہ مال و ریاست ۔

(ف58)

نبوّت کے دعوٰی میں اور تمہارے مُتّبِعین کو اس کی تصدیق میں ۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْؕ-اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ(۲۸)

بولا اے میری قوم بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں (ف۵۹) اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (ف۶۰) تو تم اس سے اندھے رہے کیا ہم اسے تمہارے گلے چپیٹ دیں اور تم بیزار ہو (ف۶۱)

(ف59)

جو میرے دعوٰی کے صدق پر گواہ ہو ۔

(ف60)

یعنی نبوّت عطا کی ۔

(ف61)

اور اس حُجّت کو ناپسند رکھتے ہو ۔

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًاؕ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ(۲۹)

اور اے قوم میں تم سے کچھ اس پر (ف۶۲) مال نہیں مانگتا (ف۶۳) میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں (ف۶۴) بےشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں (ف۶۵) لیکن میں تم کو نِرے جاہل لوگ پاتا ہوں (ف۶۶)

(ف62)

یعنی تبلیغِ رسالت پر ۔

(ف63)

کہ تم پر اس کا ادا کرنا گِراں ہو ۔

(ف64)

یہ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کی اس بات کے جواب میں فرمایا تھا جو وہ لوگ کہتے تھے کہ اے نوح رذیل لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ ہمیں آپ کی مجلس میں بیٹھنے سے شرم نہ آئے ۔

(ف65)

اور اس کے قرب سے فائز ہوں گے تو میں انہیں کیسے نکال دوں ۔

(ف66)

ایمانداروں کو رذیل کہتے ہو اور ان کی قدر نہیں کرتے اور نہیں جانتے کہ وہ تم سے بہتر ہیں ۔

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ(۳۰)

اور اے قوم مجھے اللہ سے کون بچالے گا اگر میں انہیں دور کروں گا تو کیا تمہیں دھیان نہیں

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىٕنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًاؕ-اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْۚۖ-اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۱)

اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جان لیتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں (ف۶۷) اور میں انہیں نہیں کہتا جن کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں کہ ہرگز انہیں اللہ کوئی بھلائی نہ دے گا اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے (ف۶۸) ایسا کروں (ف۶۹) تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں (ف۷۰)

(ف67)

حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کی قوم نے آپ کی نبوّت میں تین شبہے کئے تھے ۔ ایک شبہہ تو یہ ہے کہ ” مَانَریٰ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ” کہ ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے یعنی تم مال و دولت میں ہم سے زیادہ نہیں ہو ، اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات نے فرمایا ” لَآ اقُوْلَ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللہ ” یعنی میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں تو تمہارا یہ اعتراض بالکل بے محل ہے ، میں نے کبھی مال کی فضیلت نہیں جتائی اور دنیوی دولت کا تم کو متوقِّع نہیں کیا اور اپنی دعوت کو مال کے ساتھ وابستہ نہیں کیا پھر تم یہ کہنے کے کیسے مستحق ہو کہ ہم تم میں کوئی مالی فضیلت نہیں پاتے اور تمہارا یہ اعتراض مَحض بے ہودہ ہے ۔ دوسرا شبہہ قومِ نوح نے یہ کیا تھا۔ ” مَانَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ ” یعنی ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری کسی نے پیروی کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے ۔ سرسری نظر سے مطلب یہ تھا کہ وہ بھی صرف ظاہر میں مومن ہیں باطن میں نہیں ، اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ میں نہیں کہتا کہ میں غیب جانتا ہوں تو میرے احکام غیب پر مبنی ہیں تاکہ تمہیں یہ اعتراض کرنے کا موقع ہوتا جب میں نے یہ کہا ہی نہیں تو اعتراض بے محل ہے اور شرع میں ظاہر ہی کا اعتبار ہے لہٰذا تمہارا اعتراض بالکل بے جا ہے نیز ” لَااَعْلَمُ الْغَیْبَ” فرمانے میں قوم پر ایک لطیف تعریض بھی ہے کہ کسی کے باطن پر حکم کرنا اس کا کام ہے جو غیب کا علم رکھتا ہو میں نے تو اس کا دعوٰی نہیں کیا باوجودیکہ نبی ہوں تم کس طرح کہتے ہو کہ وہ دل سے ایمان نہیں لائے ۔ تیسرا شبہہ اس قوم کا یہ تھا کہ ” مَانَرٰکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا” یعنی ہم تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں ، اس کے جواب میں فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں یعنی میں نے اپنی دعوت کو اپنے فرشتہ ہونے پر موقوف نہیں کیا تھا کہ تمہیں یہ اعتراض کا موقع ملتا کہ جتاتے تو تھے وہ اپنے آپ کو فرشتہ اور تھے بشر لہٰذا تمہارا یہ اعتراض بھی باطل ہے ۔

(ف68)

نیکی یا بدی اخلاص یا نفاق ۔

(ف69)

یعنی اگر میں ان کے ایمانِ ظاہر کو جھٹلا کر ان کے باطن پر الزام لگاؤں اور انہیں نکال دوں ۔

(ف70)

اور بحمدِ اللہ میں ظالموں میں سے ہر گز نہیں ہوں تو ایسا کبھی نہ کروں گا ۔

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۳۲)

بولے اے نوح تم ہم سے جھگڑے اور بہت ہی جھگڑے تو لے آؤ جس (ف۷۱) کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو

(ف71)

عذاب ۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ(۳۳)

بولا وہ تو اللہ تم پر لائے گا اگر چاہے اور تم تھکا نہ سکو گے (ف۷۲)

(ف72)

اس کو عذاب کرنے سے یعنی نہ اس عذاب کو روک سکو گے نہ اس سے بچ سکو گے ۔

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْؕ-هُوَ رَبُّكُمْ- وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ(۳۴)

اور تمہیں میری نصیحت نفع نہ دے گی اگر میں تمہارا بھلا چاہوں جب کہ اللہ تمہاری گمراہی چاہے وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف پھرو گے (ف۷۳)

(ف73)

آخرت میں وہی تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا ۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠(۳۵)

کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اُسے اپنے جی سے بنالیا (ف۷۴) تم فرماؤ اگر میں نے بنالیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے (ف۷۵) اور میں تمہارے گناہ سے الگ ہوں

(ف74)

اور اس طرح خدا کے کلام اور اس کے احکام ماننے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے رسول پر بہتان اٹھاتے ہیں اور ان کی طرف افتراء کی نسبت کرتے ہیں جن کا صدق براہینِ بیِّنہ اور حُجّتِ قویّہ سے ثابت ہو چکا ہے لہٰذا اب ان سے ۔

(ف75)

ضرور اس کا وبال آئے گا لیکن بحمدِ اللہ میں صادق ہوں تو تم سمجھ لو کہ تمہاری تکذیب کا وبال تم پر پڑے گا ۔