حدیث نمبر198

روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے ۱؎ فرماتے ہیں ہمیں حکم دیا گیا کہ ہر نماز کے بعد۳۳بارتسبیح پڑھیں۳۳بارحمد اور۳۴بارتکبیر پھر ایک انصاری کے خواب میں کوئی آنے والا آیا اور آپ سے کہا کیا تمہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد اتنی اتنی تسبیح پڑھو۔انصاری نے خواب ہی میں کہا ہاں اس نے کہا انہیں ۲۵،۲۵بار کرلو اور ان میں تہلیل بھی کرلو ۲؎ جب صبح ہوئی تو یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں خبر دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسےبھی کرو۳؎ (احمد نسائی،دارمی)

شرح

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،کاتب وحی ہیں،علم فرائض کے امام ہیں،زمانہ صدیقی میں قرآن جمع کرنے والوں میں آپ بھی تھے اور زمانہ عثمانی میں قرآن کو مصحفوں میں نقل کرنے والوں میں بھی آپ تھے۔

۲؎ یہ خواب الہامی تھا رب کی طرف سے فرشتے کے ذریعہ صحابی کو تعلیم دی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ ان تینوں کلموں ۲۵ ۲۵بار پڑھو اور سینکڑا پورا کرنے کے لیے ۲۵ بار”لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ”بھی پڑھ لیاکرو۔ خیال رہے کہ اس خواب میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان کی تردید نہیں بلکہ اعلیٰ سے اعلیٰ تر کا مشورہ ہے لہذا وہ تسبیح فاطمہ اب بھی جاری ہے اور مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی وہ پڑھ لیا کرو کبھی یہ۔

۳؎ یعنی کبھی ایسے کبھی ایسے۔خیال رہے کہ یہ خواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تائید فرمانے کی وجہ سے قابلِ عمل ہوگئی ورنہ نص کے مقابلے میں نہ کسی کا خواب معتبر ہے نہ ولی کا کشف اور نہ کسی کا الہام کیونکہ نص معصوم کی ہے اور ہم بیداری اور خواب میں غیرمعصوم ہیں۔