40یومیہ لاک ڈاؤن: کہاں تک کامیاب اور کہاں تک ناکام

تحریر: محمد کوثر رضا مصباحی
لاک ڈاؤن دو انگریزی الفاظ لاک اور ڈاؤن کا مجموعہ ہے، جسے ہم اور آپ اردو زبان میں تالا بندی کہتے ہیں. عموماً کسی بھی علاقہ یا ملک میں کسی وبائی مرض کی مکمل روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کا قانون نافذ کیا جاتا ہے اور تمام طرح کی نقل و حرکت اور آوا جاہی کو موقوف کر دیا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد مذکورہ علاقہ یا ملک میں کسی بھی مہلک اور جان لیوا چیز کو داخل ہونے سے روکنا اور وہاں سے کسی منفی چیز کو پھیلنے سے بچانا ہوتا ہے.
       آپ کو معلوم ہوگا جب سے ملک چین میں “کورونا” کا جنم ہوا اور اس نے اپنی مسلسل محنت اور مکمل توانائی کے ساتھ تباہیاں مچانی شروع کی؛ تب سے دنیا کی اکثر آبادی گھروں میں قید ہوگئی ہے، چہل پہل کرنے والی بستیاں شہر خموشاں بن گئیں ہیں، بیشترممالک میں لاک ڈاؤن کا قانون نافذ ہو چکا ہے اور پوری دنیا ایک دم تھم سی گئی ہے. جیسے جیسے “کورونا” سے متاثر شخصوں اور موتوں کی تعداد بڑھتی گئی اور بڑے بڑے طاقتور ممالک اس کی چپیٹ میں آتے گئے ویسے ویسے ہمارے ملک ہندوستان میں خطروں کے بادل منڈلاتے نظر آتے گئے، ایسے میں اس مہاماری سے جنگ کرنے اور اسے شکست دینے کے لیے وزیراعظم “نریندر مودی” نے اچانک ملک بھر میں ٢٥/ مارچ سے ١٤/ اپریل تک ٢١/ دنوں کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا، پھر بھی جب حالات بحال نہ ہوئے تو ملک کے تمام صوبوں کے وزراے صحت، وزراے اعلیٰ اور وزیر اعظم کے مشترکہ مشوروں سے١٩/ دنوں کا اور اضافہ کرنا پڑا. (جو اب مکمل چالیس کی عدد کو پہنچ چکا ہے)  مرکزی حکومت کے ہدایات اور گائڈلائنس کے مطابق لاک ڈاؤن کے ان دنوں میں بینک، اسپتال، میڈیکل اسٹورز، دودھ فروش اور سبزی و پھل فروش سمیت دیگر اشیاے خوردونوش کی دکانیں کھلی رہتی ہیں، تاہم صوبوں کی سرحدیں بند ہیں، سارے دفاتر، اجتماع گاہیں، عوامی ٹرانسپورٹ، تجارتی مراکز، فیکٹریاں، کارخانے اور تعلیمی ادارے سرے سے معطل ہیں. یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن کچھ حد تک کامیاب ہوتا ہوا نظر آرہا ہے، کیوں کہ سواریاں بند ہوگئیں، رحلت مکانی کے ذرائع ختم ہوگئے، آمدورفت کا سلسلہ موقوف ہوگیا، لوگ گھروں میں قید ہو گئے، سوشل ڈسٹنسنگ کا پالن ہوا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وائرس کی رفتار اور اس کے پھیلنے کے موقعے کم ہوتے گئے، ورنہ اگر تالا بندی کے قانون کا نفاذ نہ ہوتا تو ہمارا ملک “کورونا” سے بےبس اور لاچار ہوکر تباہی کے اسی دہانے پر کھڑا ہوتا جہاں آج سپر پاور امریکہ ہے. یہ ہماری فیروز بختی ہے کہ ہمارا ملک دیگر ممالک کی بنسبت بہتر حالات میں ہے۔
     لیکن…… جہاں تک ناکامیوں کی بات ہے تو اس کی کئی ایک وجہیں ہیں: جن میں سے دو قابل ذکر ہیں، پہلی وجہ: لاک ڈاؤن سے حد درجہ متاثر لوگوں سے حکومت کی بےاعتنائی اور حقیقت سے چشم پوشی کرنا؛ کیوں کہ آج بھی ہمارے ملک میں بہت سے ایسے غریب اور فقیر ہیں، جو نان شبینہ کے بھی محتاج ہوتے ہیں، بے شمار ایسے مزدور ہیں جو شبانہ روز کماتے اور کھاتے ہیں؛ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنے ماں باپ، بھائی بہن، بال بچےاور دوست و احباب کو چھوڑ کر شہروں میں جا کر روزی روٹی کماتے اور زندگی بسر کرتے ہیں. لاک ڈاؤن کے چلتے جہاں سماج کے بیشتر حصوں پر طرح طرح کی پریشانیاں مسلط ہوئیں ہیں وہیں ان بے چاروں پر بھی مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں. روز روز اخباروں، مختلف ویب سائٹوں اور نیوز چینلوں کے ذریعہ ایسی ایسی خبریں موصول ہوتی ہیں جنہیں سن کر  دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جاتا ہے.
کون بھول سکتا ہے! بہار کے ضلع، بھوج پور کے اس ٨/ سالہ “راکیش” کو جس کا پریوار بےروزگاری اور بھوک مری کے اس عظیم بحران سے اس طرح جوجھ رہا تھا کہ تین دنوں سے کھانا تک نصیب نہ ہوا؛ آخرکار بھوک ہی کی وجہ سے ماں کے اس لال نے اپنا دم توڑ دیا.
کون فراموش کرسکتا ہے! بہار کی اس ماں کی دل سوز کہانی  کو جس کے پاس رقم اور عین وقت پر سواری دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ٣/سالہ بیمار بچہ کی موت ہوگئی، پھر بچہ کی لاش کو ہاتھوں میں لیے روتی بلکتی اور بدحواس ہو کر سڑکوں پہ دوڑتی رہی.
کون منہ موڑ سکتا ہے! اس حقیقت سے جس کا تعلق چھتیس گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے غریب پریوار سے ہے. پورے خاندان کی باگ ڈور تن تنہا سنبھالنے والی ایک ١٢/ سالہ مزدور بچی جب تلنگانہ سے چھتیس گڑھ تک کے سفر کے لیے پیدل نکلنے پر مجبور ہوتی ہے تو منزل سے محض ١١/ کلومیٹر کی دوری پر تکان کی وجہ سے اپنا دم توڑ دیتی ہے. ذرا سوچیے! کیا بیت رہی ہوگی اس کے پریوار پر؟ کون سنبھالے گا اس کے خاندان کو؟ کون سنے گا اس کے ماں باپ کی آپ بیتی کو؟
کون جاننے سے انکار کر سکتا ہے ملک کی راجدھانی دہلی کے بےگھر پردیسی مزدوروں کی دردناک کہانی کو! حالتوں سے مجبور ہوکر نالے جیسی بدبودار یمونا ندی کے کنارے پل کے نیچے ہزاروں کی تعداد میں ایسے بے بس مزدوروں کی بستی آباد سے ہوگئی تھی جنہیں مشکل سے دن بھر میں صرف ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا تھا.
کون نہیں جانتا! ١٤/ اپریل کو ممبئی کے باندرہ اسٹیشن اور سورت کے واراچھا ودیگر اطراف میں مزدوروں کے ان جماؤڑے کو، جنہیں امید تھی کہ پھر سے سواریاں کھلیں گی اور گھروں کو روانہ ہوں گے، لیکن جب ان کو اپنی آخری امید پر بھی پانی پھرتا نظر آیا تو سڑکوں پر اتر آئے. ذرا سوچیے! نہ جانے ان مزدوروں نے کن کن صعوبتوں کا سامنا کیا ہوگا، کیسے کیسے بدترین مراحل سے گزرے ہوں گے کہ کورونا جیسی مہاماری سے خوفزدہ ہونے کے بجائے بھوک مری سے ڈرنے لگے اور بھیڑ کی شکل اختیار کرکے اپنی درد بھری کہانی حکومت کو سنانے لگے. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک بھر میں اتنا بڑا قدم اٹھایا گیا تو کیا حکومت کو نہیں پتا تھا کہ ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں؟ اگر جواب ہاں! ہے؛ تو پھر بلاوجہ لوگوں کی قیمتی جانے کیوں ہلاک ہوئیں؟ حالات اس طرح بدترین کیسے ہوگئے؟ انتظامات میں کمیاں کیوں کر رہ گئیں؟
    لاک ڈاؤن کے ناکام ہونے کی دوسری وجہ: ملک بھر میں نافذ کیے گئے قوانین کی خلاف ورزی کرنا اور حکومت کا اس پر چپی سادھنا. لاک ڈاؤن کا بنیادی مقصد ہی لوگوں کا ایک جگہ جمع نہ ہونا، سماجی دوری بنائے رکھنا اور آمد و رفت کا سلسلہ موقوف رکھنا ہے اور اگر انہیں چیزوں پر عمل نہیں ہوگا تو میرے خیال سے یہ تالہ بندی بے سود اور بے فائدہ ہے. آئے دن خود کو ذمہ دار بتانے والے لوگوں کے تعلق سے ایسی حماقت بھری خبریں موصول ہوتی ہیں، جو کھلے عام لاک ڈاؤن کے قوانین کی دھجیاں اڑاتے نظر آتی ہیں. ان میں سے چند مورختاپرن(بے وقوفانہ) حرکتیں قابل ذکر ہیں، جنہیں میں زیر تحریر کرنا مناسب سمجھتا ہوں.
١٠/ اپریل کو کرناٹک کے ایک بھاجپا ودھایک “ملے جے رام” کے اوپر اپنا جنم دن(Birth day) منانے کا اس قدر بھوت سوار تھا کہ اس نے ایسے نازک ماحول میں قانون کی خلاف ورزی کرکے بے وقوفی اور حماقت کی ساری حدیں پار کردی، آں موصوف نے تمکور ضلع کے ایک سرکاری اسکول میں سینکڑوں مہمانوں کو دعوت میں بلا کر خوب دھوم دھام سے اپنا جنم دن منایا اور تعجب برآں یہ کہ اس پارٹی میں تقریباً ١٠٠/ پولس اہلکار بھی شامل تھے.
اسی کرناٹک کی راجدھانی بینگلور شہر کے باہر رام نگر علاقہ کے ایک فارم ہاؤس میں جب سابق وزیراعلی ایچ، ڈی، کمارسوامی کے بیٹے نکھل کی شادی ہوئی تو درجنوں مہمان آئے جن میں ایک درجن سے زائد تو فوٹوگرافرز شامل تھے؛ اس پر مزید حماقت یہ کہ سب بغیر ماسک کے تھے اور سماجی دوری کی بات تو پوچھیے ہی مت! یہ سراسر قانون کے خلاف ہے، قانون کا النگھن کرنا ہے. نہ جانے یہ لوگ اس طرح کی حرکتیں کیوں کرتے ہیں؟ شاید ان کا شمار ان لوگوں میں آتا ہو جو یا تو قانون سمجھتے ہی نہیں یا پھر قانون کے اوپر آتے ہیں.
اسی طرح بہار کے ضلع، ارریہ کے ایک بہادر ہوم گارڈ “گنیش” نے جب ڈی، اے، او، “منوج کمار” کی چلتی گاڑی روک دی(جو اس کی ذمہ داری ہے، یقیناً! یہ اس کا قابل مبارک باد عمل ہے) تو خاکی وردی سے ملبوس ایک پولس اہلکار نے ڈی، اے، او، کے ساتھ مل کر اسے نہ صرف کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کروایا بلکہ اتنا مجبور کر دیا کہ بےچارے کو پاؤں میں گر کر معافی تک مانگنی پڑی. یہ ایک نہایت ہی قابل تذلیل و تشنیع اور ناقابل معافی حرکت ہے، انہیں ایسی سخت سزا ہونی چاہیے جو پوری دنیا کے لیے مثال بن جائے. ملک کے قوانین اور اس کی حفاظت کرنے والے کا احترام کس حد تک کرنے کی ضرورت ہے، اس معاملے میں ڈی، اے، او، “منوج کمار” کو اتر پردیش کے ضلع، رامپور کے ڈی، ایم، “آنجنے کمار سنگھ” سے سیکھ حاصل کرنی چاہیے. ١٠/ اپریل کی رات کو جب ڈی، ایم، صاحب بائک پر نکلے تو سپاہی نے نہ صرف انہیں روکا بلکہ ڈاٹا پھٹکارا اور حالت کی نزاکت کو سمجھا کر واپس کردیا. اگلی صبح جب سپاہی کو ڈی، ایم، آفس بلایا گیا تو بدلے میں ڈی، ایم، نے سزا نہیں دی بلکہ انعام سے نوازا.
اس طرح کی من مانی اور غنڈہ گردی کی باتیں چل رہی ہوں اور ہمارے اتر پردیش کے وزیر اعلٰی کا نام نہ آئے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے! کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ وزیر اعلٰی “یوگی آدیتیہ ناتھ” نے بزعم خویش، اپنی رحم دلی کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا کہ وہ بچے جو کوٹا شہر کے کوچنگ سینٹرس میں انجینئرنگ اور میڈیکل کے امتحانوں کی تیاریوں کے دوران لاک ڈاؤن کے چلتے پھنسے ہوئے تھے؛ ان کے لیے سینکڑوں بسیں بھجوائی اور واپس بھی لے آئے. لیکن سچائی یہ ہے کہ ملک کی دوسری ریاستوں میں جو مزدور بھوکے مرنے پر آئے ہیں ان کا خیال تک نہ آیا اور اگر آیا بھی تو شش و پنج کے شکار بن بیٹھے ہیں. نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی روش پر چلتے ہوئے بہار کے ایک ودھایک نے اپنی گاڑی نکالی  اور کوٹا پہنچ کر اپنی بیٹی کو واپس لے آئے. ذرا تصور کیجیے! بہار، بنگال، اڑیسہ سمیت ملک کے دیگر صوبوں کے بچوں کے دلوں پر اس وقت کیا گزر رہا ہوگا جب یہ بسوں میں سوار ہوکر روانہ ہورہے ہوں گے.
اب پھر سے سوالٹھتا ہے حکومت اور ذمہ داران ملک پر کہ کیا یہ لاک ڈاؤن کا قانون صرف غریبوں اور مزدوروں کے لیے ہے یا پھر سب کے لیے؟ اگر سب اس میں شامل ہیں تو پھر سرعام قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ان غنڈوں کو بے نقاب کیوں نہیں کیا جاتا؟ ان سے سوالات کیوں نہیں پوچھے جاتے؟ انہیں سخت سے سخت سزا کیوں نہیں دی جاتی؟
    اللہ خیر فرمائے! بہر حال، ہم سب کو ایسے نازک ماحول میں اس نوعیت کے مذموم افعال سے  ہر وقت پرہیز کرنا ہے اور نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ کورونا جیسی مہاماری سے نپٹنا ہے۔