انسانیت پیغام امن کی تلاش میں محو سفر ہے

تحریر: محمد قاسم ٹانڈوی
ویسے قدرت انسانوں کو یک بیک ہلاک و برباد یا اچانک مبتلائے مصیبت نہیں کرتی بلکہ مجموعی طور پر انسانی برادری کی طرف سے اختیار کی گئی روش کو ترک کرنے اور قدرت و فطرت کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدام سے باز آنے کےلئے مختلف اوقات، متعدد افراد اور وقفہ وقفہ سے پیدا شدہ حالات کے ذریعے موقع فراہم کراتی ہے، تاکہ نہ تو شکوہ شکایت کی گنجائش رہے اور نہ ہی کسی کو اس بات کا دکھ اور افسوس رہے کہ اچانک یہ معاملہ فرما کر ہمارے ساتھ ظلم و ناانصافی کی گئی ہے؟
وہ کریم و مہربان ذات جو انسانوں کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب تر ہے، وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے اسی لئے وہ انسانوں کی طرف سے قائم کی جانے والی دلیل و حجت کے پیش نظر اس قدر ڈھیل اور مہلت سے کام لیتی ہے کہ الارم گھڑی کے مانند مسلسل بیدار و متنبہ کرنے میں کوئی کسر اور دقیقہ باقی نہیں چھوڑتی، کہ دیکھو ! “اگر اب بھی تم نے جاگنے میں تاخیر کی تو پھر تمہارا جاگنا بےسود و بےکار ہوگا”؟
آج نصف سے زائد بلکہ پوری دنیا کی جو موجودہ صورتحال؛ ہم سب کے سامنے بنی ہوئی ہے وہ قدرت کی طرف سے اچانک لی جانے والی انگڑائی یا انتقامی کاروائی کا پیش خیمہ نہیں ہے، بلکہ یہ نتیجہ ہے اس بات کا کہ جب سے اس دنیا کو گلوبل دنیا سے مربوط کیا گیا اور انسانی برادری پر محیط دور دراز علاقوں اور خطوں کو ایک مٹھی میں قید کرنے کے بلند و باگ دعوے اور کوششیں کی گئیں، جن میں قوانین قدرت کی خلاف ورزی، اصول فطرت سے بغاوت، احترام انسانیت کی پامالی اور ایک منظم و پابند معاشرے میں رہنے والے مرد و زن کے خصوصی حالات کی کردار کشی، طاقت و اقتدار کے نشہ میں مستغرق ہو کر کمزور ممالک پر حملہ کرکے وہاں کے عوام کو پابند سلاسل اور قدرت کے پنہاں کردہ وہاں کے اسباب و وسائل پر ناجائز طور پر قبضہ جمانے، انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری کر ان علاقوں میں بسنے والے غریب مزدور، بھوک سے بلکتے ان کے معصوم بچے اور ضعیف و ناتواں وہاں کے بوڑھے اشخاص کو ننگا بوچا کر انہیں نان شبینہ کا جس طرح سے محتاج بنا دیا گیا تھا اور انسانی حدود سے صرف نظر کر رنگ و نسل کی بنیاد پر اور علاقہ و مذہب کی شناخت پر مسلسل انہیں مشق ستم بنایا جا رہا تھا، فضا سے بم و بارود برسا کر انسانوں سے آباد نہ جانے کتنی بستیوں کے بےشمار افراد کو مفلوج و اپاہج بنا کر رکھ دیا گیا اور نہ جانے کتنے شہر صفحۂ ہستی سے مٹا کر کھنڈرات میں بدل دئے گئے اور آج تلاش کرنے سے بھی ان کے نام و نشاں نہیں ملتے؛ یہ سب انہیں معصوم بچوں کی چیخیں اور غیر ارادتا قتل و غارت گری کا اثر ہے؟
مغرب؛ جس پر تخلیق و ایجادات کی فراوانی کر خود پر زمینی خدا ہونے کا بھوت سوار تھا اور یہ پوری دنیا کو اس بات پر آمادہ کرنے کی فراق میں تھا کہ دنیا اس کی ہاں میں ہاں ملانے اور اس کو مجازی خدا تسلیم کر لے، اور دنیا اس کی اس بات پر اعتقاد و یقین کرنے والی ہو جائے کہ:
“آج اگر دنیا کے کسی خطے میں پتہ بھی جنبش کرتا ہے تو اس کا وافر علم ہمارے پاس ہوتا ہے اور یہ کہ ہمارے حکم اور مرضی کے خلاف دنیا ایک قدم بھی اٹھانے کی حالت میں نہیں رہی ہے؛ یعنی جو کچھ بھی ہوگا ہمارے کہنے کرنے سے ہوگا اور جیسا ہم چاہیں گے ویسا ہی ہوگا”؟
ان تمام مسائل کو لےکر شاید ان کے روشن خیال اور ذہین افکار اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے تھے اور کہیں سے کہیں تک اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے کہ انسانی ترقی کے تمام مراحل و مدراج کا ایک پیمانہ مقرر ہے اور یہ مقررہ پیمانہ بھی دراصل اس صنعت عالم کے حقیقی صناع کی منشا و مرضی پر منحصر ہوتا ہے اس لئے وہ جب چاہتا ہے اپنی کاری گری کے جوہر دکھا کر مخلوق کو محو حیرت کر دیتا ہے اور جیسے چاہتا ہے دنیا کو ابتلاء و آزمائش کے حوالے کر اس کو بےدست و پا کر دیتا ہے۔ ان تمام حالات میں وہ انسان کی روشن دماغی، اس کی سوچنے سمجھنے کی لیاقت و صلاحیت کو آن واحد میں ماؤف و مفلوج کر کے اپنی طاقت و قدرت کے تئیں نئے سرے سے غور و فکر کرنے کی دعوت اور جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اور وہ اپنے کھلے بندوں اس حقیقت کا اعتراف و اقرار کرا لیتا ہےکہ:
دنیا میں بِن اس کی مرضی کے پتہ کا ہلنا اور معمولی ‘کیڑے یا وائرس’ سے اس کے حکم کے بغیر اپنا بچاؤ کرنا آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی تمہارے لئے ممکن نہیں ہے؟ اس لئے ابھی بھی وقت ہے کہ اس کی خدائی کو بے چون و چرا تسلیم کر لیا جائے اور بزعم خود طاقت و اقتدار کے نشہ میں عالمگیر سطح پر ظلم و ستم ڈھانے پر آمادہ حکمرانوں طبقہ ہے، جنہوں نے ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول اور وقتی عیش کوشی کی خاطر دنیا کو جہنم زار بنا کر رکھ دیا اور بےگناہ انسانی نعشوں سے ماحول کو تعفن زدہ کر دیا ہے اس دوران وہ اپنے ظلم و سرکشی میں حد سے تجاوز کر اپنے انجام سے بےپرواہ و بےخبر رہے انہیں چاہئے کہ وہ اپنی ان تمام نازیبا حرکتوں سے باز آئیں۔ اس کے علاوہ جو انسانی معاشرے کا “اولوالاذہان و اولوالاباب” جو (علماء کرام، مفتیان عظام، حضرات ائمہ، داعی و قاضی، رہبران قوم و ملت سربراہان مملکت اور مفکرین و دانشوران پر مبنی) طبقہ ہے، وہ بھی اپنےعلم اور خدا داد صلاحیتوں کی روشنی میں اس کی خدائی کا چرچا عام کرنے اور منشاء توحید و رسالت کے منکر و مخالف ٹولے کو اور تمام افکار و نظریات کے حامل اشخاص کو جو ایک خدا کی ذات و صفات سے دوری اختیار کئے ہوئے ہیں اور وہ سب اسی میں مست و مگن ہیں کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے اور اس زندگی کے بعد دوسری دنیا یا دوسری زندگی کا کوئی تصور ان کے درمیان نہیں پایا جاتا ہے، ایسے تمام لوگوں کو اور سماج میں موجود ان تمام بگڑے دماغوں کو راہ راست پر لانے کی فکر و جستجو میں لگنا ہوگا جو بےسر و پا کی باتوں میں الجھا کر انسانی جانوں سے کھیلتے ہوئے آئے دن رنگوں ہاتھ پکڑے جاتے ہیں۔
خلاصۂ کلام:  یہی سب سے موزوں اور مناسب وقت ہے جو بحیثیت موحد و مبلغ ہم سے اس بات کا متقاضی ہےکہ:
“ہم میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داریوں کے تئیں مکمل طور پر بیدار و حساس ہو اور پوری طاقت و توانائی کے ساتھ اسلام، شعائر اسلام اور تعلیمات اسلام کی روشنی سے منکرین و ملحدین کے مضبوط قلعوں کو روشن اور راہ بھٹکے اپنے لوگوں کے قلوب کو اسلام کے “پیغام امن” سے مزین و مرصع کریں؛ کہ انسانیت اسی کی تلاش میں محو سفر ہے۔