جھوٹ کے رنگ

تحریر: محمد زین العابدین ندوی
اس وقت دنیا میں جھوٹ کی گرم بازاری ہے، جس کے سہارے ہر کوئی اپنی دوکان سجانے اور لوگوں کو الو بنانے میں مصروف ہے، ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو کم پڑھے لکھے ہیں اس لئے کالے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور اپنا کام نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اور کچھ ذرا سا پڑھے لکھے ہوتے ہیں جس کی مدد سے وہ سفید جھوٹ بولنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور کالے جھوٹ والوں کو مات دیتے ہوئے مارکیٹ میں ان سے بازی مار لے جاتے ہیں، معاف کیجئے گا آج میں ایک اورنئے جھوٹ کا اضافہ کر رہا ہوں وہ ہے  گلابی جھوٹ جس کو اختیار کرنا ہر کس وناکس کے بس میں نہیں اس کو اپنانے کے لئے لمبی داڑھی جبہ ودستار اور رونے رلانے والے بیانات کا سہارا لیا جاتا ہے اور بڑی پاکیزگی کے ساتھ جھوٹ بولا جاتا ہے، جس کا عوام پر گہرا اثر بھی مرتب ہوتا ہے اور اپنا الو بھی سیدھا ہوجاتا ہے۔
مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی جو انسان جھوٹ کا سہارا لے کر اپنی دوکان چلاتا ہے، وہ مجمع عام کے سامنے اتنی جرات سے نصیحتیں کیسے کرتا ہے؟ “اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسكم” ایک عام انسان بھی اگر کبھی جھوٹ بولتا ہے تو اس کی زبان ضرور لڑکھڑاتی ہے، مگر جب کوئی انسان بالکل صفائی سے پوری فصاحت وبلاغت کے ساتھ جھوٹ بولتا چلا جائے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہی گلابی جھوٹ ہے۔