روزۂ رمضان کی اہمیت و افادیت اور ہمارا معاشرہ

تحریر:محمد محبوب رضوی
رمضان شریف برکت والا مہینہ ہے ،جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا مہینہ بتا کر اس کی اہمیت دوبالا کردی ہے، یہی وہ ماہ مبارک ہے جس میں فرقان حمید کا نزول ہوا جس کی تابناک شعاؤں  نے سارے عالم کو جگمگا دیا، جس کی حفاظت کا ذمہ لے کر اللہ ربّ العزت نے الہامی کتب میں ایک امتیازی درجہ دے دیا، نماز کے بعد دوسری عبادت جو اللہ رب العزت نے ہم پر فرض کی ہے وہ *”روزہ”* ہے۔روزہ ایک ایسی قدیم ترین عبادت ہے ،جس کی ابتداء انسان کے فرد اول *حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی، اور اس کی انتہاءخاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت مطہرہ پر ہوتی ہے،* اسی بنا پر حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لےکر آخری کتاب قرآن کریم تک ہر آسمانی کتاب اور شریعت میں *روزہ* کوایک خاص امتیازی و بنیادی عبادت کا مقام حاصل ہے۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ آخر روزہ میں وہ کون سی خصوصیت ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے اس کو ہر زمانے میں ہر امت پر فرض کیا ہے۔ وجہ ظاہر ہے *عبد ومعبود کے رشتے کو مضبوط و مستحکم بنانےاور اللہ کی بارگاہ! میں تقرب کے لیے۔*
اور اسلام کا مقصد ہی یہی ہے،کہ  انسان کی پوری زندگی کو اللہ تعالی کی عبادت بنادیا جائے اسی لیے *”نماز ،روزہ،حج و زکوٰۃ* اسی مقصد حصول کے ذرائع ہیں۔ روزہ کی قدروقیمت کا اندازہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے احوال سے معلوم ہوتا ہے، جو صحراۓ عرب کے تپتے ہوئے ریگزاروں میں گرمیوں کے موسم میں روزہ رکھتے تھے، اور جہاد بھی کرتے تھے جبھی تو اللہ رب العزت نے ان کی *نماز، روزہ اور اعمال صالحہ* سے اتنا خوش ہوا کہ قرآن مجید میں فرمایا *”رضی اللہ عنہم و رضوعنہ”*
           روزہ کے بے شمار دینی و دنیاوی حکمتیں ہیں، اور ایسے ایسے رموز ہیں، جو صرف روزہ دار کو ہی حاصل ہوتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار ارشادات طیبہ ہیں، جن میں روزہ کے فضائل اور اس کی اہمیت و افادیت بیان ہوئی ہے۔ روزہ کی فضیلت کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا *”اگر میری امت رمضان کی فضیلت جان لیں تو تمام سال روزہ رکھنے کی خواہش مند ہوتی”*  روزہ رکھنے سے اللہ تعالی کی تائید حاصل ہوتی ہے ،اور جتنے امور روزہ کے متعلق ہوتے ہیں ان سب میں اللہ تعالی کی طرف سے مدد شامل حال ہوتی ہے،دنیاوی فضل وکرم کے علاوہ روحانی فضل و کرم بھی اللہ تعالی کی رحمت ہے جو انسان کو روزہ کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔روزہ کے اجرو ثواب کے متعلق اللہ کے رسول ارشاد فرماتے ہیں،حدیث قدسی ہے۔ *”الصوم لی وانا اجزی بہ”*
         روزہ کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک وتعالی روزہ دار کی دعا کو قبول فرماتا ہے جن اشخاص کی دعاؤں میں عجز و انکساری اور نیت میں خلوص ہو تو ان کی دعا جب بارگاہ رب العزت میں پیش کی جاتی ہے تو اس کی دعا کو قبولیت کا شرف حاصل ہوتا ہے ۔لیکن بعض اوقات ومواقع کو اللہ رب العزت نے فضیلت دے رکھی ہے کہ اگر اس‌موقع یا مقدس وقت میں سربسجودہو تو وہ ضرور  مستجاب ہوتی ہے، ان مستجاب مواقع میں ایک موقع *افطار* ہے،بموقع افطار روزہ دار کی دعا کو قبولیت کا شرف حاصل ہوتا ہے،روزہ کی اہمیت اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ روزہ دار کے لیے جنت سجائی جاتی ہے،جنت میں داخل ہونے کے لئے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازے کا نام *ریان* ہے،جس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔اسی لئے کہ ارشادِ نبوی ہے،‌ *”منھا باب یسمی الریان لا‌یدخلہ الا الصائمون”*   روزہ دار کے لیے دخول جنت الگ دروازے سے جانے کی تخصیص صرف روزہ دار کی اہمیت اور اس کی فضیلت ظاہر کرنے کے لئے ہے۔
 روزہ کی جو اہمیت و افادیت ہے اس کو جان کر اکثر مسلمان روزہ  تو ضرور رکھتے ہیں لیکن بعد ایسے بھی کم ظرف مسلمان ہیں جو اس نعمت عظمیٰ سے محروم رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔
کچھ چھپے اور کچھ کھلے عام کھاتے پیتے نظر آتے ہیں ایسے مسلمانوں کی تفہیم و تغیر کی ضرورت ہے خصوصا جو اعلانیہ کھاتے پیتے ہیں دہرے مجرم ہیں ایک تو ترک روزہ کے دوسرے اس گناہ کے برملا اظہار کرنے کے اور یہ گناہ بڑا سخت ہے، حکومت اسلامیہ کو ایسے بد عمل کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ رمضان کے مہینے میں بعض کم ظرف مسلمان محض حصول دولت کے لئے اپنے ہوٹل کھلے  رکھتے ہیں اور باحجاب یا بےحجاب لوگوں کو شکم شیر کرتے ہیں۔ یہ بھی شریعت اسلامیہ میں جرم عظیم ہے۔ اس سے  رمضان کی حرمتوں کو پامال کرنے والوں کے حوصلوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے، ایسے ہوٹل والوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ چند دنیا کے  سکوں کی خاطر کیوں رمضان کے تقدس کو پامال کرنے کی مذموم سعی کرتے ہیں،یا پھر دوسرے  تجاویز پیش کئے جائیں۔حتی الامکان ان‌ کےعمل بد سے لوگوں کو محفوظ کیا جائے۔ رمضان کی جو اہمیت و افادیت ہے وہ *روزہ* کی وجہ سے ہے، لہذا ہمیں اس بات کا پورا خیال کرنا چاہیے کہ ہمارا روزہ خراب نہ ہونے پائے جو اُمورِ مفسدات روزہ ہیں ان کو اچھی طرح سمجھنے  کی ضرورت ہے،تاکہ روزہ فاسد نہ ہونے پائے۔ انسان دنیوی امور میں مکروہات سے بچتا ہے لیکن روزہ کے معاملے میں غفلت سے کام لیتا ہے،  اور اگر تنبیہ کی جائے کہ اس کام سے روزہ مکروہ ہوتا ہے تو برجستہ یہ جواب ملتا ہے کہ،مکروہ ہی تو ہوتا ہے ٹوٹتا تو نہیں۔گویا انسان دنیوی کاموں میں مکروہات کو پسند نہیں کرتا مگر  امر آخرت اور عبادت الہی میں غفلت سے کام لیتا ہے۔یہ  بھی ہمارے لئے بہت  بڑا المیہ ہے۔
     تراویح کے معاملے میں کئی خرابیاں ہمارے معاشرے میں جلوہ فگن ہیں۔
      *اول* یہ کہ عموما لوگ چند ایام تک تو خوب ذوق و شوق سے تراویح میں شریک ہوتے ہیں، پھر چند دن گزرنے کے بعد چھوڑ بیٹھتے ہیں، کہیں ایسا بھی ہوتا ہے *8,10روز  میں پورا قرآن سن کر  دست بردار ہو جاتے ہیں،* اور یہ سمجھتے ہیں کہ پورا قرآن تو  سن لیا اب ضرورت نہیں، یہ بھی قابل ‌تشویش ناک ہے۔
      *ثانیا* تراویح کے لئے اس حافظ کو ترجیح دیتے ہیں جو زیادہ تیز قرآن پڑھے اور کم وقت لگائے، سمجھ میں آئے یا نہ آئے، حالاں کہ  ترتیل و تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا ضروری ہے۔عموما دیکھا اور سنا‌گیا ہے، جو حافظ پانچ منٹ پہلے تراویح ختم کر دے اس کی مدح و ستائش ہوتی ہے اور جو پانچ منٹ تاخیر کر دے اُس کے متعلق چه می گوئیاں  ہونے لگتی ہے، معلوم نہیں پانچ، سات منٹ میں کتنی تجارت فروغ ہو پائے گی۔۔رمضان شریف برکت والا مہینہ ہے اس لیے ہمیں تمام امور میں خوب احتیاط کرنا چاہیے کہ کہیی ہمارے کسی کوتاہی سے ثواب میں تخفیف نہ ہو جاے۔ تمام امور میں شریعت مطہرہ کو ترجیح دیتے ہوئے اُسی پر عمل کیا جائے،تاکہ رمضان شریف کی برکتوں سے ہم مالا مال ہو جائیں۔
ربِ قدیر کی بارگاہِ قدس میں دعا ہے کہ مولی تعالیٰ ہم مسلمانوں کو رمضان المبارک  کی قدردانی کی توفیق بخشے اور اس بابرکت مہینے کے اوقات کو صحیح طور پر خرچ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا!