أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡ كَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

بسااوقات کفار یہ تمنا کریں کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ،

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بسا اوقات کفار یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔ (الحجر :2)

گنہ گار مسلمانوں کو دوزخ سے نکلتا ہوا دیکھ کر کفار کی حسرت اور ندامت۔

حافظ ابوبکر عمروبن ابی عاصم الضحاک ایشیانی المتوفی 287 ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو خ والے دوزخ میں جمع ہو گے اور ان کے ساتھ وہ اہل قبلہ بھی ہوں گے جب کو اللہ چاہے گا تو کفار کہیں گے کیا تم مسلمان نہیں تھے۔ ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں ! پھر کفار کہیں گے تو تمہارے اسلام نے تم سے کون سا عذاب دور کردیا تم بھی ہمارے ساتھ دوزخ میں آگئے ہو ! مسلمان کہیں گے ہمارے گناہ کی وجہ سے ہم پر گرفت کی گئی ہے اللہ تعالیٰ ان کی باتیں سنے گا پھر فرمائے گا جو لوگ اہل قبلہ سے ہیں، ان کو دوزخ سے نکالو۔ جب دوزخی یہ معاملہ دیکھیں گے تو حسرت سے کہیں گے کاش ہم بھی مسلما نہ ہوتے تو ہم بھی دوزخ سے اس طرح نکال لیا جاتا جس طرح ان کو نکال دیا گیا ہے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ ( الحجر : ٢) بسا اوقات کفار یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔ (کتاب السنہ رقم الحدیث :843، جامع البیان رقم الحدیث : 15877، تفسیر امام ابن ابی حاتم : 12324، البعث والنشور رقم الحدیث :85، المستدرک ج 2 ص 242، مجمع الزوائد ج 7 ص 48، تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 604)

حضرت جابر (رض) رعنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فریاما میری امت میں سے کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذا دیا جائے گا سو جب تک اللہ چاہے گا وہ دوزخ میں رہیں گے پھر مشرکین ان کو عار دلائیں گے اور کہیں گے کہ تم اپنے ایمان اور اپنی تصدیق کی وجہ سے ہماری مخالفت کیا کرتے تھے اب ہم نہیں دیکھ رہے کہ تمہارے ایمان نے تمہیں کوئی نفع پہنچایا ہو۔ پھر ہر موحد کو اللہ دوزخ سے نکال لے گا اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی۔ ربما یودلذین کفروالو کانوا مسلمین۔ اس حدیث کی روایت میں محمد بن عباد متفرد ہے۔ ( المعجم الاوسط رقم الحدیث :5142)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کو بھی دوزخ میں ڈال دے گا مشرکین کہیں گے تم دنیا میں یہ گمان کرتے تھے کہ تم اللہ کے اولیاء ہو پھر کی وجہ ہے کہ تم ہمارے ساتھ دوزخ میں ہو۔ جب اللہ تعالیٰ ان کی اس بات کو سنے گا تو ان کے لیے شفاعت کی اجازت دے دے گا پھر فرشتے اور انبیاء اور مومنین شفاعت کریں گے حتی کہ اللہ کی اجازت سے ان کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا جب مشرکین یہ معاملہ دیکھیں گے تو کہیں گے کہ کاش ہم بھی ان کی مثل ہوتے تو ہمیں بھی ان کے ساتھ دوزخ سے نکال لیا جاتا اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مصداق ہے۔ ربما یودلذین کفروالو کانوا مسلمین، چونکہ دوزخ سے نکالے ہوئے ان مسلمانوں کے چہرے سیاہ ہوں گے تو جنت میں ان کا نام جہنمین رکھا جائے گا، پھر وہ دعا کریں گے اے رب ! ہم سے یہ نام دور کردے اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے گا وہ جنت کے دریا میں نہائیں تو ان سے وہ سیاہی دور ہوجائے گی۔ المعجم الا وسط رقم الحدیث : 8106، تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 605)

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ کافروں کو یہ حسرت اور ندامت موت کے وقت ہوگی جب وہ عذاب کے فرشتے دیکھ لیں گے

بغض نے کہا جب بھی اس پر حقیقت حال منکشف ہوگی تو ان کو حسرت اور ندامت ہوگی لیکن ان مذکور الصدر احادیث سے واضح ہوگیا کہ ان کو یہ حسرت اور ندامت اس وقت ہوگی جب وہ دیکھیں گے کہ دوزخ سے گنہ گار مسلمانوں کو نکالا جارہا ہے اور ان کے کفر اور شرک کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں چھوڑا جارہا ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کہ ربما کاکلمہ تقلیل کے لیے آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ بہت کم ایسا ہوگا کہ کفار اس حسرت اور ندامت کا اظہار کریں گے اور ہم کو معلوم ہے کہ کفارہی یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے اور ان کو بھی دوزخ سے نکال لیا جاتا اس لیے اس ندامت اور حسرت کا اظہار ان سے بہ کثرت ہوگا ! اس کا جواب یہ ہے کہ اہل عرب ربما کا لفظ ذکر کرکے کا ارادہ کرتے ہیں اس لیے اردو میں اس کا ترجمہ بسا اوقات کیا جاتا ہے ووسرا جواب یہ ہے کہ کفار عذاب میں اس شدت کے ساتھ گرفتار ہوں گے کہ انہیں دوسرے دوزخیوں کے احوال کا جائزہ لینے کا موقع ہی نہیں ملے گا اس لے کم کفار ایسے ہوں گے جو اس موقع پر حسرت اور ندامت کا اظہار کریں گے۔ ہرچند کہ کفار گنہ گار مسلمانوں کو دوزخ سے نکلتا ہوا دیکھ کر اپنے کفر پر نادم ہوں گے لیکن اس وقت یہ ندامت اور حق کا اعتراف ان کے کام نہیں آئے گا کیونکہ وہ ایمان معتبر ہے جو ایمان بالغیب ہو اور جنت اور دوزخ اور عذاب اور ثواب پر بن دیکھے ایمان لایا جائے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جس طرح گناگار مسلمانوں کو دوزخ سے نکلتے ہوئے دیکھ کر کفار کو حسرت اور ندامت ہوگی اسی طرح جنت میں جب مسلمانوں کا کم درجہ ہوگا اور ان کو کم ثواب ہوگا وہ زیادہ اور بلند درجے والے مسلمانوں کو دیکھ کر دل میں کڑھیں گے اور یہ تمناکریں گے کہ کاش ہمارا بھی بلند درجہ اور زیادہ ثواب ہوتا وہ مسلمان جنت میں دائمی طور پر رنج اور حسرت میں مبتلا رہیں گے اس کا جواب یہ ہے کہ آخرت کے احوال کو دنیا کے احوال پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اللہ سبحانہ جس کو بھی جنت کے جس درجہ میں داخل کرے گا اس کو اسی درجہ میں راضی رکھے گا اور ان کے دلوں سے زیادتی کی طلب اور رشک اور حسد کے جذبات نکال لیے جائیں گے۔ قرآن مجید میں ہے : ادْخُلُوهَا بِسَلامٍ آمِنِينَ (٤٦) وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (٤٧) لا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ( الحجر : ٤٨) سلامتی اور بےخوفی کے ساتھ جنتوں میں داخل ہوجا۔ اور ہم ان کے سینوں سے تمام رنجشوں کو کھینچ لیں گے۔ وہ آپس میں بھائی بھائی ہو کر ایک دوسرے کے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے انہیں وہاں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ اگر جنت بڑے درجے والوں کو دیکھ کر چھوٹے درجے ولوں کے دلوں میں رنج ہو تو ان کو تکلیف ہوگی جالان کہ اس آیت میں فرمایا ہے انہیں وہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی اس لیے جو شخص جنت کے جس درجہ میں ہوگا وہ اس درجہ پر راضی اور مطمئن ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 2