زکوۃ: وعدے اور وعیدیں

تحریر: ظفر احمد خان
ارکان اسلام میں شہادت توحید ورسالت اور نماز کے بعد زکوٰۃ کانمبرآتاہے یہ اسلام کا تیسرا رکن ہے، قرآن مجید میں متعدد مقامات پرصلوٰۃ و زکوٰۃ کاذکر اس طرح سے کیاگیاہے کہ جس سے پتہ چلتاہے کہ دین میں ان دونوں کا مقام اور درجہ بہت قریب ہے، زکوٰۃ کو فرض قراردے کر اللہ تعالیٰ انسان کے اندر مال کی محبت کم کرکے اعلیٰ انسانی اقدار جیسے ایثار،قربانی، ہمدردی اور غم خواری و خیرخواہی کی آبیاری کرناچاہتاہے، زکوٰۃ کی اہمیت کااندازہ اس سے بھی ہوتاہے کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے خلیفہ بننے کے بعد زکوٰۃ کاانکارکرنے والوں کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا، زکوٰۃ معاشرے سے غربت کے خاتمے کا ایک اہم ذریعہ ہے اسلام پرقائم رہنے کی دوعلامات میں سے نماز کے علاوہ دوسری زکوٰۃہے، زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کا مال قیامت کے دن گنجا اور سیاہ سانپ کی شکل میں آئے گا اور اس سے کہے گا میں تیرامال ہوں تیراخزانہ ہوں، زکوٰۃکو بخل کابہترین علاج بھی بتایاگیاہے، پیارے نبیؐ نے فرمایاجس مال کی زکوٰۃادانہ کئی گئی ہو وہ بربادہوجاتاہے، خلفاء راشدین کے دورِ خلافت میں زکوٰۃکانظام اتناعمدہ تھاکہ غربت تقریباً ختم ہوگئی تھی اور زکوٰۃلینے والا مشکل سے ملتاتھا، لہٰذا اگر حکومت اسلامی نہیں ہے اور زکوٰۃ کا کوئی اجتماعی نظم نہیں ہے تو مسلمانوں کی جماعت کو اس کا مکمل انتظام کرناچاہئے تاکہ اس فریضہ پر کماحقہ عمل ہوسکے۔
           زکوٰۃنہ صرف امت محمدیہ پرفرض ہے بلکہ اس سے پہلے بھی تمام امتوں پرفرض تھی، زکوٰۃاداکرنے والوں کے لئے بہت سی بشارتیں اور ادانہ کرنے والوں کے لیے وعیدیں بھی ہیں، سب سے پہلے زکوٰۃاداکرنے والوں کے احوال قرآن کی زبانی ملاحظہ فرمائیں۔
سچے مومن: وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جوکچھ ہم نے دیاہے اس سے خرچ کرتے ہیں وہی سچے مومن ہیں (سورۃ الانفال آیت ۳،۴) 
قیامت کے دن غم اور خوف سے نجات: جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ان کا اجر بے شک ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں (سورۃ البقرۃ آیت:٢٧٧)۔
گناہوں کا کفارہ اور بلندئ درجات: اے نبی ان کے اموال میں سے زکوٰۃ لو تاکہ ان کو گناہوں سے پاک کرو ان کے درجات بلندکرو(سورۃ التوبۃ آیت ۳۰۱)۔
گناہوں کی معافی اور مال میں اضافہ کا ذریعہ: اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتے ہو اسے دینے والے ہی اپنے مال میں اضافہ کرتے ہیں، (سورۃ الروم آیت ۹۳)
مال میں برکت و زیادتی: تم جوکچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کروگے اللہ اس کا پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق عطاکرنے والاہے(سورۃ السبا آیت ۹۳)
مندی اور کمی سے محفوظ اجر: جولوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں، نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جوکچھ ہم نے ان کو عطافرمایا ہے اس میں پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارہ میں نہ ہوگی تاکہ ان کو ان کی اجر تیں پوری دے کران کو اپنے فضل سے اور زیادہ دے وہ بڑا بخشنے والااور قدردان ہے(سورۃ الفاطرآیت ۹۲،۰۳)
کامیاب لوگ: قرآن میں کامیاب ہونے والوں کی ایک صفت زکوٰۃکی ادائیگی بھی قراردی گئی ہے”جوزکوٰۃ اداکرنے والے ہیں (المومنون ۴) 
قرآن مجید کے ساتھ ساتھ احادیث میں بھی زکوٰۃ کی ادائیگی کے بہت سے وعدے اور فائدے بتائے گئے ہیں۔
مال کی پاکیزگی: حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی”اور جولوگ سوناچاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنادیجئے“(سورۃ التوبۃ آیت ۴۳) تو صحابہ کرامؓ پر یہ آیت بہت بھاری گذری، چنانچہ حضرت عمر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ یہ آیت لوگوں پربھاری گذررہی ہے، حضور نے ارشادفرمایا اللہ نے زکوٰۃ اسی لئے تو فرض کی ہے تاکہ مال کو پاک اور طیب بنادے اور میراث بھی اسی لئے فرض ہوئی تاکہ مال بعد میں باقی رہے، حضرت عمرؓ یہ سن کربہت خوش ہوئے اور فرمایا اللہ اکبر، پھرحضورنے فرمایا: میں تمہیں بتاؤں سب سے بہترین ذخیرہ کیاہے؟ وہ عورت جونیک ہو، جب خاوند اس کو دیکھے اس کی طبیعت خوش ہوجائے، جب اس کو کوئی حکم دے تو مان لے او رجب وہ کہیں چلاجائے تو وہ عورت اس کے مال او راپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔(ابوداؤد)
اسلام کاپل: ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجوشخص مال کی زکوٰۃ اداکردے تو اس کے مال سے شرختم ہوجاتاہے(صحیح ابن خزیمہ)
مال کی حفاظت: پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اپنے مالوں کوزکوٰۃ کے ذریعہ محفوظ بناؤ، اپنے بیماروں کاصدقہ سے علاج کرو اور بلاو مصیبت کی موجوں کا دعاء اور اللہ کے سامنے عاجزی سے استقبال کرو(الترغیب)۔
گناہوں کا خاتمہ: رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹادیتاہے جس طرح پانی آگ کو بجھادیتاہے(سنن ترمذی)۔
قیامت کی گرمی سے نجات: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرشخص روز قیامت اپنے صدقے کے سائے تلے ہوگا(مسنداحمد) اور جس دن اللہ کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا تو جن خوش نصیبوں کو اللہ کے سائے میں جگہ ملے گی ان کاذکر کرتے ہوئے فرمایا”ایک وہ شخص جس نے صدقہ کیاتو اس کو اتنا مخفی رکھاکہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہیں چلاکہ دائیں ہاتھ نے کیاخرچ کیا(بخاری)۔
جنت میں داخلہ: ایک حدیث میں جنت میں داخلہ کے لئے پانچ اعمال گنوائے گئے ہیں جن میں ایک زکوٰۃ بھی ہے(ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ)۔
قبر میں حفاظت: ایک حدیث کے مطابق زکوٰۃ اداکرنے والے کوزکوٰۃ قبر میں عذاب سے بچاتی ہے(مصنف ابی شیبہ)۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں زکوٰۃ کی ادائیگی کو ایمان کی دلیل اور علامت بتایاگیاہے(ابن ماجہ)
            زکوٰۃ کی ادائیگی پرجہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بہت سے انعامات فوائد اور فوائد ہیں جن کا تعلق دنیاوآخرت دونوں سے ہے وہیں عدم ادائیگی پرقرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں وعیدیں بھی آئی ہیں۔
دردناک عذاب: دردناک عذاب کی خوشخبری سنادو ان لوگوں کو جوسوناچاندی جمع کرکے رکھتے ہیں لیکن اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، ایک وقت آئے گا جب اسی سونے چاندی پرجہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا اور ان سے کہاجائے گا یہ وہ خزانہ ہے جسے تم اپنے لئے جمع کرکے رکھتے تھے، لو اب مزہ چکھو(التوبہ:۵۳)
بیکار مال: جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادانہ کرے گا ایسا مال آخرت میں اس کے کسی کام نہ آئے گا(البقرہ: ۴۵۲)
گلے کا طوق: جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھاہے وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لئے بہترخیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لئے نہایت بدترہے، عنقریب قیامت والے دن ان کا مال طوق بناکر ان کے گلے میں ڈال دیاجائے گا(آل عمران: ۰۸۱)
جہنم میں لے جانے والاعمل: جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور اپنے رب سے ڈرا اور نیک بات کی تصدیق کرتارہا تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے، لیکن جس نے بخیلی اور لاپرواہی کی اور نیکیوں کو جھٹلایا تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کردیں گے، اس کا مال اسے اوندھاگرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا(یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال جسے وہ خرچ نہیں کرتاتھا کچھ کام نہ آئے گا(اللیل ۵تا۱۱)
کفرو شرک کی علامت: اللہ تعالیٰ کا ارشادہے ”تباہی ہے ان مشرکوں کے لئے جوزکوٰۃ ادانہیں کرتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں (حم سجدہ آیت ۶،۷)۔
اب زکوٰۃ ادانہ کرنے والوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاددیکھیں۔
مال کی بربادی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ ادانہ کرنے والوں کا مال اور دولت تباہ و بربادہوجاتی ہے(طبرانی)۔
قحط سالی کا سبب: زکوٰۃ ادانہ کرنے والے لوگ قحط سالی میں مبتلاکردئیے جاتے ہیں (طبرانی)۔
عذاب کا سبب: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”زکوٰۃ ادانہ کرنے والوں کا مال قیامت کے دن گنجاسانپ بناکر ان پرمسلط کردیاجائے گا جو انہیں مسلسل ڈستا رہے گا اور کہے گامیں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں (بخاری)۔
جانوروں کی زکوٰۃ نہ دینے پرعذاب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ ”وہ جانور جن کی زکوٰۃ ادانہ کی گئی ہو وہ جانور اپنے مالکوں کو قیامت کے دن مسلسل پچاس ہزار سال تک اپنے سینگوں سے مارتے رہیں گے اور پاؤں تلے روندتے رہیں گے(مسلم)۔
معراج کی رات رسول اللہؐ نے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے آگے پیچھے دھجیاں لٹک رہی تھیں وہ جانوروں کی طرح کانٹے اور آگ کے پتھر کھارہے تھے آپ ؐ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتایایہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادانہیں کرتے تھے(بزار)۔
زکوٰۃ نہ دینے والا دوزخی ہے: رسول اللہ ؐ نے فرمایا”زکوٰۃ نہ دینے والاقیامت کے دن آگ میں ہوگا(طبرانی)۔
قرآن و حدیث میں مذکور زکوٰۃ پروعدے اور وعیدوں سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ زکوٰۃ کی اسلام میں کیااہمیت اور کیا مقام ہے جہاں ایک طرف زکوٰۃ اسلام کی تکمیل،گناہوں کے کفارے، اللہ کی خوشنودی اور قرب الٰہی کاذریعہ ہے وہیں معاشرے سے جھوٹ، دھوکہ، ظلم وستم، حق تلفی اور لوٹ کھسوٹ کی قبیح برائیوں کے خاتمہ کا ذریعہ بھی ہے اور غربت و افلاس کو مٹانے کا ایک اہم ذریعہ بھی، امیروں اور غریبوں کے درمیان کی کھائی کے خاتمہ کا بہت اہم ذریعہ زکوٰۃ ہے، اور زکوٰۃ ان لوگوں کو معصیت او رعیاشی سے نکالنے کاایک اہم باب ہے جو اپنی دولت کے نشے میں چوراللہ ورسول سے غافل ہوکر زندگی گذار رہے ہیں، غرض یہ کہ زکوٰۃ کی شریعت کے اصول وضوابط کے مطابق ادائیگی سے سارامعاشرہ امن و عافیت اور خوشحالی کا گہوارہ بن جائے گا ان شاء اللہ۔
اللہ تعالیٰ تمام صاحب نصاب مسلمانوں کو منصفانہ طورپربروقت زکوٰۃ کی ادائیگی اورغیر صاحب نصاب مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ صدقہ وخیرات کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین