فاطمہ: میرے جگر کا ٹکڑا

تحریر: محمد ظفر نوری ازہری
“فاطمۃ بضعۃ منی” فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالیشان ہے ،ہو سکتا ہے کوئی کہے کہ اس میں کونسی بڑی بات ہے ہر باپ اپنی بٹی کو محبت سے کہہ دیتا ہے کہ میری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے یا میری بٹی میری جان ہے وغیرہ وغیرہ  ان الفاظ کا کہنا  آج کے دور  میں بالکل آسان ہے  مگر آج سے ١٤ سو سال پہلے عرب میں جب لوگ بچیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے، بچیوں کو عار سمجھتے تھے، جب  بیٹیوں کو منحوس سمجھاجاتا تھا تو اس زمانہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ میری بیٹی فاطمہ تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے میری بیٹی تو میری لخت جگر ہے  اور ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے  بچیوں کے مقام کو اتنا بڑھایا کہ لوگ تمنا کرنے لگے کہ کاش! ہم بھی بیٹی کے باپ ہوتے تو ہمارا جنت میں جانےکا راستہ آسان ہوجاتا  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے لوگوں کی سوچ کو بدل دیا جس سے آج ہمیں یہ موقع ملا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو فخر کے ساتھ  لخت جگر کہہ رہے ہیں!
 آج رمضان المبارک کی ٣ تاریخ ہے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا یومِ وصال ہے لہذا چند باتیں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت  کے حوالے سے پیش کریں گے ان شاء اللہ :
  حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا  کی پیدائش اعلان نبوت سے پانچ سال پہلے  ۲۰جماد ی الثانی بروز جمعہ کو مکہ مکرمہ میں حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن مبارک سے ہوئی آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب چھوٹی اور لاڈلی شہزادی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام فاطمہ رکھا اور لفظ فاطمہ “فطم” سے بنا ہے جس کا معنی چھڑانا اور فاطمہ یعنی چھڑانے والی تو حضرت فاطمہ کس کو چھڑانے والی ہیں تو حدیث شریف میں ہے:
عن جابر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :انما سمیت فاطمه لان الله فطمها ومحبیها عن النار( کنزالعمّال ج ١۲)
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا :بے شک فاطمہ نام رکھا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ  ان کے چاہنے والوں کو جہنم کی آگ سے چھٹکارا عطا فرمائے گا۔
 ویسے تو آپ کے کئی القابات ہیں ان میں مشہور لقب “زہراء” ہےعربی زبان کی مشہور لغت لسان العرب میں زہرا کا معنی ہے چمکدار، دُرۃ زہراء، چمکتا موتی، یعنی بہت خوبصورت(لسان العرب، ٦)
زہراء کا معنی کلی کے بھی آتے ہیں یعنی باغ نبوت کی کلی جب پھول کلی کی شکل میں ہوتا ہے تو وہ ڈھکا ہوا ہوتا ہے اسی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بھی شروع سے اپنے آپ کو ڈھانکے رکھا اور اسی لیے  اعلحضرت قدس سرہ نے فرمایا:
کیا بات ہے رضااس چمنستان کرم کی
زہراء ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول۔
       آپ جس وقت پیدا ہوئیں وہ وقت مسلمانوں کے لیے بہت ہی  آزمائش بھراوقت تھا مسلمانوں کے اوپر بے پناہ ظلم اور زیادتیاں کی جارہیں تھی انہی دردناک ایام میں آپ کا بچپن گزرا اور جب  آپ کی عمر ١٥ سال ہوئی تو آپ کی والدہ حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا کا وصال ہو گیا! اور آپ کی تربیت خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت فرماتی تھیں اور آپ کا بہت خیال رکھتی تھیں ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے ابو جہل اور اس کے بدمعاش ساتھیوں نے اونٹ کی اوچھڑی آپ کی پیٹھ پر لاکر رکھدی جیسے ہی آپ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا آپ نے جلدی سے جاکر اسے ہٹایا اور آپ کی کمر سے گندگی کو دور کیا (سیرت النبی شبلی نعمانی) 
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے مشابہ تھیں:
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  جس وقت چلتیں تو آپ کی چال ڈھال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل مشابہ ہوتی تھی (مسلم)
 اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے اور عادات واطوار میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا  سے زیادہ کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   سے مشابہ نہیں دیکھا۔ (ترمذی)
       ماہ رجب 2 ہجری میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانکاح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا، نکاح کے وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اکیس یا چوبیس برس اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر پندرہ یا اٹھارہ برس تھی۔(تفسیر القرطبی)
 اور یکم ذوالحجہ کو سادگی کے ساتھ آپ کی رخصتی کردی گئی اس شادی میں نہ بارات تھی نہ آتش بازی نہ شوبازی تھی نہ فضول خرچی تھی نہ جوڑا تھا نہ گھوڑا تھا یہ کائنات کی  سب سے خوبصورت شادی تھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پیسوں سے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے  مختصرسا جہیز بھی دیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ  نے بھی ولیمہ کیا۔
 شادی کے بعد آپ حضرت علی کے ساتھ بہت صبر و شکر کے ساتھ رہیں گھر کا کام بھی خود فرماتیں اللہ نے آپ کو تین بیٹے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ ،حضرت  امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اورحضرت محسن رضی اللہ تعالی عنہ  جنکا بچپن ہی میں وصال ہو گیا تھا اور دو بیٹیاں حضرت زینب  رضی اللہ تعالی عنہا حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا ۔
آپ کے فضائل قرآن و احادیث وارد ہیں جن میں چند ملاحظہ فرمائیں :
 ١ -نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’میری بیٹی فاطِمہ انسانی شکل میں  حوروں  کی طرح حیض ونِفاس سے پاک ہے۔‘‘(کَنْزُ الْعُمَّال، کتاب الفضائل ، فضل اھل البیت جلد ١۲ ) اسی لئے اللہ تعالی  نے قرآن شریف میں فرمایا” انَّما يُريدُ اللَّهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّجسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَكُم تَطهيرًا(سورہ احزاب ٣٣) ترجمہ : اے رسول کے گھروالو! اللہ صرف یہ ارداہ فرماتاہے کہ تم سے ہر قسم کی نجاست دور رکھے اور تم کو خوب ستھرا اور پاکیزہ رکھے۔
 ۲-حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رویت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت کے عالم میں فرمایا اے فاطمہ! کیا تم  نہیں چاہتی ہو کہ تم  تمام جہان کی عورتیں اور  میری اس امت کی عورتوں اور مومینین کی تمام عورتوں کی سردار ہو(مستدرک حاکم)
 ٣-حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے  فرمایا کیا تمہیں اس بات پر خوشی نہیں ہے کہ اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہو(مجمع الزوائد)
 ٤-حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فاطمہ تجھ پر میرے ماں باپ قربان ہوں(مستدرک حاکم)
 ٥-حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ایک ندا دینے والا آواز دےگا اپنی نگاہیں جھکالو تاکہ فاطمہ بنت محمد گزرجائیں(تاریخ بغداد)
    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بہت فضیلتیں ہیں اگر آج بھی خواتیں آپ کی زندگی پر عمل کریں تو اللہ انہیں بھی دونوں جہان میں عزت عطا فرمائےگا 
١١ھ ہجری میں  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ مہینے بعد ۲۸ یا ۲۹ سال کی عمر میں ٣ رمضان المبارک کو آپ کا وصال ہوا آپ کو غسل حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا نے دیا اور 
آپ کی نماز جنازہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے پڑھائی۔ طبقات ابن سعد
   سیدہ  زاہرہ  طیبہ  طاہرہ
  جان احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام