حدیث نمبر212

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک خبیث جن آج رات کھل گیا ۱؎ تاکہ میری نماز توڑ دے اﷲ نے مجھے اس پر طاقت دی میں نے اسے پکڑ لیا ۲؎ میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ تم سب اسے دیکھو۳؎ لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آگئی کہ مولا مجھے وہ ملک دے جو کسی کے لائق نہ ہو میرے بعد تو میں نے اسے ناکام چھوڑ دیا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ حضرت سلیمان علیہ السلام کی قید سے کہ آپ شیاطین کی ایک جماعت کو قید کر گئے تھے ان میں سے ایک چھوٹ کر میرے پاس آگیا اور میرے قلب میں وسوسے ڈالنے کی کوشش کرنے لگا۔معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کی نگاہ جنات اور شیاطین کو دیکھتی ہے اور جہاں وہ بند ہیں وہ جگہ بھی حضور علیہ السلام کی نگاہ کے سامنے ہے اور حضور انکے ہر حال سے خبردار ہیں،قرآن کریم کا یہ فرمانا:”مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ” ہم لوگوں کے لیے ہیں حضور علیہ السلام اس سے علیحدہ ہیں جب حضور علیہ السلام کی نگاہ سے فرشتے نہیں چھپتے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج میں خود رب تعالٰی کو دیکھ لیا تو جنات و شیاطین کیسے چھپ سکتے ہیں۔خیال رہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کی ایک خبیث ترین جماعت کو قید کردیا تھا جو اب تک قید میں ہے کیونکہ جنات کی عمریں بڑی ہوتی ہیں ان کا یہاں ذکر ہے ورنہ اور جماعتیں شیاطین کی کھلی پھرتی ہیں۔

۲؎ حق یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے حضور علیہ السلام کو دائمی طاقت بخشی،جس سے آپ شیاطین کو پکڑ سکتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ نے شیطان کو صدقہ کا مال چوری کرتے ہوئے پکڑ لیا تو وہ آپ سے نہ چھوٹ سکا،حضرت معاویہ نے ایک شیطان کو پکڑ لیا تو وہ آپ سے نہ چھوٹ سکا جب ذرات کی طاقتوں کا یہ حال ہے تو آفتاب نبوت کی قدرت کا کیا پوچھنا۔اب بھی بعض عامل حضرات جنات کو قید کردیتے ہیں، جلادیتے ہیں۔

۳؎ یعنی میں اسے باندھ دیتا تو وہ کھل نہ سکتا نہ چھوٹ کر بھاگ سکتا اور پھر وہ سب پر ظاہر ہوجاتا تم سب اسے دیکھتے،ہمارے باندھنے کی برکت سے یہ غیب شہادت بن جاتا۔

۴؎ یعنی چونکہ جنات پر قبضہ حضرت سلیمان کا خصوصی معجزہ بن چکا ہے اگر اس قبضہ کو ہم ظاہر فرمادیتے تو یہ ان کی خصوصیت نہ رہتا اس لیے اسے چھوڑ دیا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ شیطان کا جسم نجس نہیں اور اس کے چھونے سے نماز نہیں جاتی،نمازی کا ہاتھ نجس نہیں ہوتا۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا خشوع و خضوع اور طرف متوجہ ہونے سے نہیں جاتا دیکھو حضور علیہ السلام نے شیطان کو پکڑ بھی لیا باندھنے کا ارادہ بھی کیا پھر چھوڑ بھی دیا مگر نماز کے خشوع میں کوئی فرق نہ آیا۔تیسرے یہ کہ حضور علیہ السلام کو اﷲ تعالٰی نے گزشتہ نبیوں کے کمالات بخشے مگر ان میں سے بعض کا اظہار نہ فرمایا تاکہ ان بزرگوں کی خصوصیات میں فرق نہ آئے۔چوتھے یہ کہ نبی کی طاقت جنات و فرشتوں سے زیادہ ہے کہ شیطان آپکی پکڑ سے چھوٹ نہ سکا،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کو تھپڑ مارا تو ان کی آنکھ جاتی رہی۔اس جگہ اشعۃ اللمعات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سلطنت،قدرت،تصرف،ملک الموت جن وانس اور تمام عالم پر ہے،ہر شے آپ کے قبضہ میں ہے۔