وقت ہزار نعمت

تحریر: محمد نثار نظامی

مینجنگ ایڈیٹر:ہماری آواز

وقت بلا شبہ اللہ کی جانب سے ایک ایسا عطیہ ہے جو انسان کو بنا بھی سکتا ہے اور گنوا بھی سکتاہے اس لیے کامیاب انسان بننے کے لیے وقت کی دہلیز کو بڑی احتیاط کے ساتھ عبور کرنے کی ضرورت ہے، بسااوقات ”وقت“ انسان کو اتنی بھی مہلت نہیں دیتا ہے کہ وہ ایک سیکینڈ کے لئے پلک جھپکا سکے۔
یہ سچ ہے کہ اگر آپ وقت کو اہمیت نہیں دیں گے تو وقت آپ کو کبھی اہمیت نہیں دیگا جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں وقت انکی قدر کرتا ہے، ورنہ وقت کو ٹھوکر مارنے والے لوگ ہمیشہ دوسروں کی ٹھوکروں کا نشانہ بنتے ہیں۔
وقتِ کی اہمیت: یوں تو لکھنے اور پڑھنے میں ”وقت“ محض تین حرفوں کا مجموعہ ہے لیکن یہ ہے بڑے کام کی چیز۔ یہ ایک ایسا مسافر ہے جو دنیا کے تمام لوگوں سے بے نیاز اور بے پرواہ ہوکر ہمہ وقت اپنی منزل مقصود کی طرف گامزن رہتا ہے، یہ نہ تو بادشاہ وقت کے محل میں کچھ دیر ٹھہرتا ہے اور نہ کسی فقیر کی آہ و فغاں پر کان دھرتا ہے اللہ جل مجدہ نے وقت کو اتنی طاقت دے رکھی ہے کہ بڑی بڑی طاقتور چیزیں اس کے ساتھ ساتھ چلنے پر فخر محسوس کرتی ہیں۔
تاریخ اس بات پرشاہد ہے کہ قوموں کے عروج وزوال میں وقت کا بہت اہم رول رہا ہے جو قومیں وقت کیساتھ دوستی رچاتی ہیں اور اپنی زندگی کے شام وسحرکو وقت کا پابند کرلیتی ہیں وہ ستاروں پر کمندیں ڈال سکتی ہیں، صحراؤں کو گلشن میں تبدیل کرسکتے ہیں، فضاؤں پر قبضہ جما سکتی ہیں، پہاڑوں کے جگر پاش پاش کرسکتی ہیں اور دہر کی زمام قیادت سنبھال سکتی ہیں۔ 
لیکن جو قومیں “وقت” کو ایک بیکار چیز سمجھ کر یوں ہی گنواتی رہتی ہیں تو وقت انہیں ذلت و نکبت کے قعرعمیق میں ایسا ڈھکیل دیتا ہے کہ تتبع و تلاش کے با وجود دور دور تک انکا نام و نشاں نہیں ملتا ہے، پھر وہ غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں اور وقت کا ضیاع ان کے ہاتھوں میں کشکول گدائی تھمادیتا ہے 
اس لئے یاد رکھیں کہ وقت کی پابندی اور وقت کا صحیح استعمال دنیا میں ہر کامیابی کا پہلا زینہ ہے جن لوگوں نے وقت کی قدر کی ہے ہمیشہ کامیاب رہے ہیں، کہا جاتا ہے کہ تقدیر ان لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے 
جو ہمیشہ وقت کی قدر کرتے ہیں۔ لہذا وقت کی قدر کریں کہ گزشتہ وقت لوٹ کر واپس نہیں آتا وقت ایک بہتا ہوا دریا ہے، جس طرح دریا کی گزری ہوئی لہریں واپس نہیں ہوسکتی ہیں اسی طرح گیا ہوا وقت بھی دوبارہ کبھی ہاتھ نہیں آسکتا یا یہ کہیں کہ وقت چلچلاتی دھوپ میں رکھی ہوئی کسی برف کی سل کی مانند ہے جو ہر آن پگھلتی ہی چلی جا رہی ہے اور ایک سفر مسلسل کی طرح رواں دواں ہے کہ کہیں کوئی ٹھہراؤ یا پڑاؤ نظر نہیں آتا۔ 
خوش قسمتی اسی شخص کا دروازہ کھٹکھٹا تی ہے جسکو وقت کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے اور جو وقت کے تئیں چاک و چوبند رہتا ہے اس لیے جب تک وقت کی قدرو قیمت کا صحیح احساس ہم میں پیدا نہ ہوگا اس وقت تک نہ ہم خود اچھے انسان بن سکتے ہیں اور نہ ہی قوم و ملت کے لئے کوئی اہم کردار اور گراں قدر عطیہ پیش کرسکتے ہیں۔
جس دوراورماحول سے ہم گزر رہے ہیں  وہ بڑا ہی نازک ہے بہت سے چیلینجز امت مسلمہ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں مگر فکر فردا سے بے خبر  ہم ان پر کان دھر نے کے لئے تیار نہیں، وقت بھی انھیں نظر انداز کر دئیے جانے والے چیلینجوں میں سے ایک ہے اسلامی دنیا پر عقابی نگاہ رکھنے والے پرعیاں ہوگا کہ ہمارے اس دور میں وقت سے زیادہ حقیر، بے وقعت،ارزاں، اور کم تر شاید ہی کوئی چیز ہو۔
مختلف ذرائع سے وقت کا استحصال جس طرح اس وقت ہورہاہے شاید ہی تاریخ اسلام کے کسی عہد میں ہوا ہو، موبائل، گیمز، انٹرنیٹ، اور جدید ٹکنالوجی نے ٹائم پاس اور وقت گزاری کے گونا گوں طریقے متعارف کرائے ہیں۔
یاد رہے کہ وقت انسان کی حیات کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اللہ جل وعلا کی ایک عظیم نعمت بھی، اور پھر یہ نعمت ایسی عام ہے کہ شاہ و گدا، عالم و جاہل، کمزور و شہ زور اور صغیر و کبیر سب کو یکساں عطا ہوئی، وقت کے صحیح استعمال سے ایک وحشی مہذب بن جاتا ہے مگر رونا تو اسی کا ہے کہ اس کی قدر نا شناسی اور ناشکری بد قسمتی سے آج امت مسلمہ میں “کورونا وائرس” کی طرح عام ہے جس کی طرف امت کو متوجہ کرنا خصوصاً موجودہ دور میں نا گزیر اور نہایت ضروری ہے۔ 
وقت کی قدرو قیمت اسلاف کی نظر میں
زمانہ کی تیز رفتاری کا اکثر تذکرہ ہوتا رہتا ہے کہ زمانہ کتنا جلدی چلاگیا اور وقت کتنا مختصر ہوگیا یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زمانہ دو دھاری تلوار کی مانند ہے وہ غفلت و اعراض کی رداء لپیٹ کر سونے والوں کے جاگنے کا انتظار نہیں کرتا بلکہ انہیں کاٹتا ہوا آگے گزر جاتا ہے لہذا انسان جب بھی سانس لیتا ہے تو سمجھو کہ وہ اپنے عمر کی متاع عزیز خرچ کرتا ہے اسکی زندگی میں جو سورج ڈوب گیا اب پلٹ کر واپس نہیں آنے والا 
حضرت داؤدطائی علیہ الرحمہ (م 144ھ) کے حوالے سے آتا ہے کہ آپ روٹی کے ٹکڑوں کو پیس کر پی جاتے اور فرماتے کہ جتنے وقت میں انسان روٹی چباکر کھائے گا اتنی دیر میں پچاس آیتیں پڑھ لے گا۔
حضرت امام محمد شیبانی علیہ الرحمہ (م189ھ) کے نام سے فقہ کا ادنی طالب علم بھی واقف ہے،اصلا انہیں کے جد وجہد کے نتیجے میں فقہ حنفی مدون ہوئی ہے علم ان کا اوڑھنا بچھونا تھا، مطالعہ انکی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی، شوق علم میں رات رات بھر سوتے نہ تھے،طشت میں پانی رکھا ہوتا نیند آتی تو پانی سے زائل کر لیتے، ایک موضوع سے اکتا جاتے تو دوسرے موضوع کا تار چھیڑ دیتے تھے اور اس طرح شب کا کارواں دبے پاؤں گزر جاتا 
لوگوں نے اس شب بیداری کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: میں کیسے سورہوں جبکہ عام مسلمان ہم پر اعتماد کرکے سورہے ہیں کہ ہم انکی رہنمائی کریں گے، اور علم کے انہماک میں اپنے لباس تک کا ہوش نہ رہتا، گھر والے میلے کپڑے اترواتے تو اتار دیتے ورنہ ان کو اسکی فرصت ہی نہیں ہوتی تھی علم و مطالعہ کی یکسوئی میں امکان بھر کوشش کر تے کہ کوئی خلل انداز نہ ہو، انکے گھر ایک مرغا تھا جس کی بانگ کسی وقت کی پابند نہ تھی کسی بھی وقت چلانے لگتا، امام محمد رضی اللہ عنہ نے اسے ایک دن پکڑ کر یہ کہتے ہوئے ذبح کردیا کہ یہ خواہ مخواہ میرے علم و مطالعہ میں مخل بنا ہوا ہے وہ فرمایا کرتے تھے: لذات الافکار خیرمن لذات الابکار، فکرو نظر کی لذتوں کے سامنے دوشیزاؤں کی لذتیں کچھ بھی نہیں۔
حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ (م 204) فرماتے ہیں کہ ایک مدت تک میں نے صوفیہ کرام کی صحبت اختیار کی تو انکے دو جملوں سے مجھے بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوا ایک یہ ہے: الوقت سیف ان لم تقطعہ قطعک (یعنی وقت تلوار ہے اگر تم نے اسے نہ کاٹا تو وہ تمہیں کاٹ ڈالے گا)اور دوسر:نفسک ان لم تشغلھا بالحق و الا شغلتک با لباطل (یعنی تم نے اگر اپنے نفس کو حق و صداقت کے کاموں میں مشغول نہ کیا تو وہ تمہیں باطل و بے سود کاموں میں جٹا دے گا) 
 رمضان المبارک میں ساٹھ بار قرآن شریف ختم کرنے کا معمول تھا، لایعنی اور بے فائدہ کاموں میں وقت کے ضیاع سے بچنے کی بڑی تاکید کرتے اور فرماتے: غیر مفید کاموں سے بچنے میں دل پر نور چھایا رہتا ہے، خلوت اور لوگوں سے الگ رہنے کی ترغیب دیتے کہ وقت ضائع نہ ہو 
کم کھانے کی تاکید کرتے کہ زیادہ کھانے سے نیند کا غلبہ ہونے لگتا ہے، سفہاء اور احمقوں کی صحبت سے بڑی سختی سے منع کرتے تھے۔
حضرت امام بخاری وامام مسلم علیہما الرحمۃ کے شیخ حضرت عبید بن یعیش کے بارے میں بھی آتا ہے کہ وہ حدیث نبوی لکھنے میں اتنے مصروف اور منہمک رہتے کہ انہیں کھانے پینے کا کچھ خیال ہی نہ رہتا تھا۔ عماد بن رجا بیان کرتے ہیں کہ میں نے شیخ عبید کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے تیس سال تک رات کو اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھایا میری بہن میرے منھ میں لقمہ ڈالتیں اور میں حدیثیں لکھتا رہتا۔ 
ماضی قریب کی ایک عظیم اور انقلاب آفریں شخصیت جنکانام
جلالۃ العلم استاذ العلماء حافظ ملت مولانا شاہ حافظ عبدالعزیز محدث مرادآبادی (بانی الجامعۃ الاشرفیہ)ہے۔ 
جن کی زندگی کی ایک ایک ساعت خدمت دین اور خدمت خلق کے لئے وقف تھی تحفظ اوقات میں آپ نہایت درجہ مستعد تھے 
بہت سے لوگ بیکار وقت ضائع کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ زندگی کا کتنا قیمتی سرمایہ برباد کر رہے ہیں حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ ایسے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرما تے ہیں:زندگی نام ہے کام کا بے کاری موت ہے۔ حضور حافظ ملت خود تجربہ کرکے وقت ضائع کرنے کے خلاف تھے وہ چاہتے تھے کہ جس معاملہ میں تجربہ ہوچکا ہو اس میں تجربہ کاروں کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے اور اپنا وقت بچاکر دوسرے مفید کاموں میں لگایا جائے  اس سلسلے میں آپ کا ارشاد ہے:عقل مند وہ ہے جو دوسروں کے تجربے سے فائدہ اٹھائے خود تجربہ کرنا وقت ضائع کرنا ہے۔ وقت کی اہمیت اور تضییع اوقات کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: تضییع اوقات سب سے بڑی محرومی ہے۔
وقت بہت قیمتی چیز ہے اور وقت کو ضائع کرنا بہت بڑی محرومی ہے۔
آرام طلبی زندگی کی بربادی ہے۔
آدمی کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے جو بیکار ہے وہ مردوں سے بدتر ہے۔
زمیں کے اوپر کام زمین کے نیچے آرام۔