أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِىَ وَاَنۡۢبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے زمین کو پھیلادیا اور اس میں مضبوط پہاڑ نصب کردیئے اور اس میں ہر مناسب چیز اگائی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ نصب کردئیے اور اس میں ہر مناسب چیز اگائی اور ہم نے اس میں تمہارے لیے سامان معیشت پیدا کیا اور ان کے لیے (بھی) جن کو تم روزی نہیں دیتے (الحجر :19 ۔ 20)

زمین سے الوہیت اور وحدانیت پر استدلال

اس پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے اپنی الو ہیت پر استدالال فرمایا اور ان آیتوں میں امین سے اپنی الوہیت اور وحدانیت پر استدلال فرمایا ہے وجہ استدلال یہ ہے کہ زمین ایک کروی جسم ہے اور اس کے اوپر کرہ ہو ئیہ اس کو محیط ہے اور بھر سات آسمان ایک دوسرے کو محیط ہیں اور وہ کرہ زمین اور کرہ ہو ائیہ کو بھی محیط ہیں اور زمین کو آسمانوں کے ساتھ ایک مخصوص وضع اور نسبت ہے اب سوال یہ ہے کہ زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا اور اس مخصوص واضع اور نسبت کا مرجح کو ہے ؟ ضروری ہے کہ اس زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا اور اس کی نسبت اور وضع کا مرجع واجب اور قدیم اور واحد ہو جیسا کہ ہم اس سے پہلے کئی بار دلائل سے بیان کرچکے ہیں۔

زمین کو پھیلانا اس کے گول ہونے کے منافی نہیں ہے

اس آیت میں فرمایا ہے اور ہم نے زمین کو پھیلادیا اس طرح کا مضمون اور بھی کئی آیتوں میں ہے

وَالأرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا ( انزعت : ٣٠) اور زمین کو آسمان کے بعد پھیلا یا۔

وَالأرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ الذریت : ٤٨) اور زمین کو ہم نے (فرش بناکر) بچھا دیا سو ہم کیا خوب بچھا نے والے ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین سیدھی اور سپاٹ ہے اور وہ ایک کروی جسم نہیں ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ جب کوئی بہت بڑا گول جسم ہو تو سیدھا او سپاٹ ہونا اس کے گول ہونے کے منافی نہیں ہوتا اور جب کسی بڑے گول جسم کے چھوٹے حصے کو دیکھا جائے گا تو وہ سید ھا اور سپاٹ ہی معلوم ہوگا زمین کے گول ہونے پر واضح دلیل یہ ہے کہ جس وقت بر صغیر پاک وہند میں رات ہوتی ہے امریکہ اور جزائر غرب الہند میں دن ہوتا ہے۔ اس طرح یورپ۔ آسٹریلیا اور افریقہ میں سورج کے طلوع اور غروب کا اور دن اور رات میں کئی کئی گھنٹو کا فرق ہوتا ہے۔ اگر تمام زمین سیدھی اور سپاٹ ہوتی تو تمام دنیا میں ایک ہی وقت میں سورج طلوع اور غروب ہوتا۔

رواسی کی تفسیر۔

رواسی : یہ لفظ رسو سے بنا ہے اس کا معنی ہے ایک جگہ قائم اور ثابت رہنا۔ راسیات اور اسی ان چیزوں کو کہتے ہیں جو ایک جگہ قائم اور ثابت رہتی ہیں رواسی کا استعمال پہاڑوں کے لیے ہوتا ہے جو ایک ثابت اور قائم رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلایا اور اس پر مضبوط پہاڑ نصب کر دئیے تاکہ زمین اپنے محوپر قائم رہے اور گردش کرنے میں اپنے محور سے متجاوز نہ ہو جیسا کہ اس آیت میں فرمایا :

وَأَلْقَى فِي الأرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ ( النحل : ١٥) اور زمین میں پہاڑوں کو نصب کردیا تاکہ وہ تمہیں لے کر کسی ایک طرف جھک نہ سکے۔

موزون کی تفسیر۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اس میں ہر موزوں چیز اگائی یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو لوگوں کی ضروریات کے اندازہ سے پیدا فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ لوگوں کو کس چیز کی ضرورت ہوگی اور وہ چیز سے نفع حاصل کرسکتے ہیں اسی لیے اس کے بعد فرمایا : اور اس میں ہم نے تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کیا کیونکہ نبا تات سے جو رزق حاصل ہوتا ہے وہ انسانوں کی زند گی قائم رہنے کا سبب ہے اور جن کو انسان رزق مہیا نہیں کرتا یعنی حیوا نوں کی زند گی قائم رہنے کا سبب بھی یہی زمین سے پیدا ہونے والی نباتات ہیں۔

موزون کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ جن چیزوں کا وزن کیا جاسکے یعنی سونا، چاندی، تانبا، پیتل وغیرہ معدنیات جن چیزوں کا وزن کیا جاتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر  آیت نمبر 19