أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحۡشُرُهُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور بیشک آپ کے بعد آپ کا رب ہی ان کو جمع کرے گا بیشک وہ بہت حکمت والا علم والا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم ان لوگوں کو جانتے ہیں جو تم میں سے مقدم ہیں اور ہم ان کو (بھ) جانتے ہیں جو تم میں سے موخر ہیں۔ اور بیشک آپ کا رب ہی ان سب کو جمع کرے گا نے شک وہ بہت حکمت والا نہایت علم والا ہے۔ (الحجر :25)

مستقدمین اور مستاخرین کی تفسیر متعدد اقوال۔ )

مستقد میں اور مستاخرین کی تفسیر کے آٹھ حسب ذیل اقوال ہیں

(1) قتادہ اور عکرمہ نے کہا مستقدمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو آج تک پیدا ہوچکے ہیں اور مستا خرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے۔

(2) حضرت ابن عباس (رض) اور ضحاک نے کہا مستقدمین سے مراد مردہ لوگ ہیں اور مستاخرین سے مراد زندہ لوگ ہیں۔

(3) مجاہد نے کہا مستقدمین سے مراد جنگ اور جہاد میں اگلی صفوں کے لوگ ہیں اور مستاخرین سے مراد پچھلی صفوں کے لوگ ہیں۔

(4) حسن اور قتادہ نے کہا مستقدمین سے مراد نیک اور اطاعت گزار لوگ ہیں اور مستاخرین سے مراد بدکار اور نافرمان لوگ ہیں۔

(5) سعید بن مسیب نے کہا مستقدمین سے مراد جنگ اور جہاد میں اگلی صفوں کے لوگ ہیں اور مستاخرین سے مراد پچھلی صفوں کے لوگ ہیں۔

(6) قرضی نے کہا مستقدمین سے مراد جہاد میں قتل کرنے والے ہیں اور مستاخرین سے مراد جہاد میں قتل نہ کرنے والے ہیں۔

(7) شعبی نے کہا مستقد میں سے مراد اول خلق ہیں اور مستاخرین سے مراد نماز کی پچھلی صفوں کے لوگ ہیں۔

(8)مستقدمین سے مراد نماز میں پہلی صفوں میں لوگ ہیں اور مستاخرین سے مراد نماز کی پچھلی صفون کے لوگ ہیں 

مستقدمین اور مستاخرین سے حقیقت میں کیا مراد ہے۔ اس کا اللہ تعالیٰ کو ہی علم ہے کیونکہ وہی ہر موجود اور معدوم کو جاننے والا ہے اور اس علم ہے کہ کون مقدم ہے اور کون موخر ہے لیکن آخری قول اس آیت کے نزول کا سبب ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں ایک عورت نماز پڑھتی تھی اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ حسین تھی۔ سو بعض لوگ نماز کی پہلی صف میں کھڑے ہوتے تھے تاکہ اس عورت پر نظر نہ پڑے اور بعض لوگ سب سے پچھلی صف میں کھڑے ہوتے تھے اور جب وہ رکوع میں جاتے تھے تو اس عورت کو دیکھتے تھے تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : بیشک ہم ان لوگوں کو جانتے ہیں جو تم میں سے پہلی صفوں میں ہوتے ہیں اور ہم ان کو بھی جانتے ہیں جو تم میں سے پچھلی صفو میں ہوتے ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3122 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1046 مسند احمد ج 1 ص 305 السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :853 صحیح ابن خذیمہ رقم الحدیث : 1696، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :401، المعجم الکبیر رقم الحدیث : 14799، المستدرک ج 2 ص 353، سنن للبہیقیج 3 ص 98)

امام ابن جریر نے یہ کہا ہے کہ میرے نزدیک ان اقوال میں الی قول یہ ہے کہ مستقدمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو پہلے مرچکے ہیں اور مستاخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اب زندہ ہیں اور جو ہمارے بعد پیدا ہوں گے کیونکہ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور بیشک ہم ہی زندہ کر کرتے ہیں اور ہم ہی روح قبض کرتے ہیں اور ہم ہی سب کے بعد باقی ہیں اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور بیشک آپ کا رب ہی ان سب کو جمع کرے گا بیشک وہ بہت حکمت والا نہایت علم والا ہے جب یہ آیت ان دو آیتوں کے دمیان ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے اور ان کو مارنے کی خبر دی ہے اور اس سے پہلے کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اس کے خلاف پر دلالت کرے تو پھر یہ نہیں ہوسکتا کہ درمیان کی یہ آیت نماز کی صفوں میں مقدم اور موخر ہونے والے لوگوں کے متعلق ہو پھر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کے متعلق فرمایا کہ وہ ان میں سے مقدم اور موخر کو جانتا ہے جو مرچکے ہیں اور جو بعد میں پیدا ہوں گے اور وہ ان کے نیک اور بد اعمال کو جانتا ہے اور وہ ان سب کو حشر کے دن مقدم اور موخر ہونے والے لوگوں کے متعلق ہو پھر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کے متعلق فرمایا کہ وہ ان میں سے مقدم اور موخرکو جانتا ہے جو مرچکے ہیں اور جو پیدا ہوں گے اور وہ ان کے نیک اور بد اعمال کو جانتا ہے اور ان سب کو حشر کے دن جمع کرے گا اور ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ نیک اعمال پر اچھی جزا دے گا اور برے اعمال پر سزا دے گا اور نیک عمل کرنے والوں میں وہ مسلمان داخل ہیں جو اگلی صفوں میں اس لیے نماز پڑھتے ہیں کہ عورتوں پر ان کی نظر نہ پڑے اور برے اعمال والوں میں ہو لوگ داخل ہیں جو بری نیت سے پچھلی صفوں میں نماز پڑھتے ہیں۔ (جامع البیان جز 14 ص 35 مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

صف اول میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔

اس آیت کے شان نزول میں ہم نے سنن الترمذی اور دیگر کتب حدیث سے جو روایت ذکر کی ہے اس میں صف اول میں نماز پڑھنے کی بھی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ اور درج ذیل احادیث میں اس کی صراحت بھی کی گئی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذن دینے میں اور صف اول میں نماز پڑھنے میں کتنا اجر وثواب ہوتا ہے پھر ان کو قر عہ اندازی کے سوا اس میں موقع نہ ملے تو وہ ضرور اس کے لیے قرعہ اندازی کریں گے اور اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ظہر کی نماز پڑھنے کتنا اجروثواب تو وہ ہر صورت میں اس کی طرف سبقت کریں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 653، سنن الترمذی رقم الحدیث : 225، موطا امام مالک رقم الحدیث :181، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث 2007، مسند احمدج 2 ص 236، مسند ابو عوانہ ج 1 ص 332، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :1659، سنن کبری للبیہقیج 1 ص 428، شرح السنہ رقم الحدیث :384)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مردوں کی بہترین صف پہلی اور بد ترین صف آخری ہے اور عورتوں کی بہترین صف آخری اور بد ترین صف پہلے ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث 224، مصنف ابن ابی شیبہ ج 2 ص 385، مسند احمد ج 2 ص 236، سنن ابوداؤد رقم الحدیث : 678: سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1000 صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث :1561، السنن الکبری للبیہقی ج 3 ص 97)

اس حدیث میں بہترین صف سے مراد ہے جس کا سب سے زیادہ ثواب ہو اور بد ترین صف سے مراد ہے جس کا سب سے کم ثواب ہو۔

حضرت ابو مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہمارے کندھوں کو چھوکر فرماتے تھے سیدھے کھڑے ہو اور ٹیڑھے نہ ہو ورنہ تمہا رے دل بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے اور چاہیے کہ تم میں سے عقل اور بلوغ والے میرے قریب کھڑے ہوں پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہوں اور پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہوں (صحیح مسلم رقم الحدیث :432، سنن ابوداؤد رقم الحدیث :674، سنن النسائی رقم الحدیث 807، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث) 976

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 25