أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِىۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے آپ سے پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے امتوں میں بھی رسول بھیجے تھے۔ اور ان کے پاس جب بھی کوئی رسول آتا تھا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ہم اسی طرح اس کو مجرموں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ اس پر ایمیان نہیں لائیں گے اور بیشک پہلے لوگوں کی بھی یہی رود گزر چکی ہے۔ (الحجر :13 ۔ 10)

مشکل الفاظ کے معانی۔

شیع : یہ شیعہ کی جمع ہے اس کا معنی ہے امتوں میں سے ایک امت حضرت ابن عباس (رض) ، قتادہ اور حسن نے کہا ہے فرقوں میں سے ایک فرقہ اور فرقہ لوگوں کے اس گروہ کو کہتے ہیں جو کسی ایک مذہب عقیدہ یا نظریہ پر متفق ہوں یہ اصل میں شیاع سے ماخوز ہے شیاع ان چھوٹی لکڑیوں کو کہتے ہیں جب کی مدد سے بڑی لکڑی جلائی جاتی ہیں عرف میں فرقہ کا معنی ہے سواداعظم اور اکثریت سے کسی اختلاف کی بناء پر کچھ لوگ ان سے نکل کر اپنیا الگ ایک گروہ بنالیں جیسے سب سے پہلے مسلمانوں کی اکتثریت سے الگ ہو کر خوارج نے اپنی عقیدہ بنالیا وہ حضرت علی (رض) دونوں پر لعنت کرتے تھے پھر حضرت حسین (رض) کی شہادت کے بعد کوفہ کے شیعان علی نے اپنا الگ عقیدہ بنالیا پھر اسی طرح مختلف نظریات اپناکر سواداعظم سے کٹ کٹ کر فرقے بنتے گئے۔

نسلکہ اس لفظ کا مادہ سلک ہے۔ سلک کا معنی ہے ایک چیز کو دوسری چیز میں داخل کرنا مثلا دھاگے کو سوئی کے سوراخ میں داخل کرنا اور نیزے کو دشمن کے جسم میں داخل کرنا قرآن مجید میں ہے :

مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ ( المدثر : ٤٢) تم کو کس چیز نے دوزخ میں داخل کردیا۔

اس آیت کا معنی ہے ہم اس قرآن کو مجرموں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں یعنی ان کو قرآن سنواتے ہیں اور ان کے دل و دماغ کو قرآن مجید کے معانی کی طرف متوجہ کردیتے ہیں لیکن وہ اپنی جہالت اور کفر پر اصرار کرکے ضد عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس پر ایمان نہیں لاتے۔

سنت : سنت کا معنی طریقہ ہے اور سنت النبی کا معنی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ طریقہ جس کو آپ قصدا اختیار فرماتے اور سنت اللہ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی حکممت کے طریقہ پر کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلا (الفتح : ٢٣) یہ اللہ کا دستور ہے جو پہلے سے چلاآرہا ہے اور آپ اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔

اس سے مقصود یہ ہے کہ مختلف انبیاء کی شریعتیں ہرچند کہ صورتامختلف ہوتی ہیں لیکن ان کی غرض اور ان کا مقصود مختلف نہیں ہوتا ہے اور وہ ہے نفس کو پاکیزہ کرنا اور اس کو اللہ تعالیٰ کی ثواب اور اس کے قرب اور جوار کے قابل بنانا (المفردات ج 1 ص 322، علامہ ابن الاثیر جزری متو فی 606 حجری لکھتے ہیں سنت کا اصل معنی ہے طریقہ اور سیرت اور اصلاح شرع میں اس کا معنی ہے جس چیز کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہو یا جس چیز سے آپ نے منع فرمایا ہو یا جس چیز کو آپ نے قولایا فعلا مستحب قرا دیا ہو اور ان چیزوں کا ذکر قرآن مجید میں نہ ہو اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ دلائل شرعیہ کتاب اور سنت ہیں اور اس قبل سے یہ حدیث ہے : انی لانسی اوانی لاسن : میں بھول جاتا ہوں یا بھلادیا جاتا ہوں تاکہ کسی فعلکو سنت قرار دیا جائے۔ مو طہ امام مالک رقم الحدیث :228) یعنی مجھ پر نسیان طاری کیا جاتا ہے تاکہ میں لوگوں کی صراط مستقیم کی طرف ہدایت دوں اور ان کو یہ بیان کروں کہ جب ان پر نسیان طاری ہو تو ان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس طرح ایک حدیث میں ہے نزل لمحصب ولم یسنہ آپ وادی محصب میں اترے لیکن آپ نے اس کو لوگوں کے لے سنت نہیں قرار دیا تاکہ لوگ اس پر عمل کریں۔ النہایہ ج 2 ص 368)

علامہ ابن اثیر کی اس عبارت سے سنت کی جامع مانع تعریف اس طرح حاصل ہوتی ہے جس چیز کا قرآن مجید میں ذکر نہ ہو اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنے قول یافعل سے مسلمانوں کے عمل کے لے معین فرمایا ہو اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دائما یا اکثر کیا ہو تو یہ سنت مؤکئدہ ہے اور اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کبھی کبھی کیا ہو تو یہ سنت غیرمئوکدہ ہے اس آیت میں فرمایا ہے کہ پہلوں کی سنت گزر چکی ہے یہاں سنت سے مراد کفار کی عادت اور ان کا طریقہ ہے۔

کافروں کے دلوں میں نیبوں کا ستہزاء پیدا کرنے پر بحث ونظر۔

ن آیتوں میں فرمایا ہے : ہم اسی طرح اس کو مجرموں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ او وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں انسل کہ اور لا یئومون بہ کی ضمیروں میں تین احتمال ہیں (1) یہ دونوں ضمیریں استہزا کی طرف لوٹتی ہیں (2) نسلکہ کی ضمیر استہزاء کی طرف اور لایئومنون بہ کی ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ دونوں ضیمروں قرآن کی طرف لوٹتی ہیں۔

پہلی صورت میں معنی اس طرح ہوگا نبیوں کے ساتھ استہزا کرنے کو ان کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں اور وہ اس استہزاء پر ایمان نہیں لائیں گے۔ لیکن یہ معنی تنا قض کو مستلزم ہے کیونکہ جب استہزاء ان کے دل میں ہوگا تو ان کا اس ستہزاء پر یمان ہوگا ورنہ لازم آئے گا کہ ان کے دل میں استہزاء پر ایمان ہو اور ایمان نہ ہو۔

دوسری صورت میں معنی ہوگا کہ ہم ان کہ کے دلوں میں نیوں کے ساتھ استہزاء کو داخل کرتے ہیں اور وہ قرآن پر ایمان نہیں لاتے اس معنی پر یہ اعتراض ہو ہے کہ نبیوں کے ساتھ استہزاء کرنا کفر ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دلوں میں کفرکو داخل کردیا ہے اس لیے وہ قرآم پر ایمان نہیں لائے اور اس صورت میں قیامت کے دن کفار یہ کہہ سکیں گے ہم اس لیے ایمان نہیں لائے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں کفر داخل کردیا تھا یادرکھئیے کہ ایمان اور کفر دونوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے لیکن بندہ ایمان لانے کا ارادہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ایمان پیدا کردیتا ہے اور کفر کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں کفر پیدا کردیتا ہے اور اگر بندہ کے ارادہ کو ایمان اور کفر کی تخلیق کا دبب نہ مانا جائے تو انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجنا اور کتابوں کا نازل کرنا اور جز اور سزا کا نظام قائم کرنا سب عبث اور بےمعنی اور حکمت کے خلاف ہوگا۔

اور تیسری صورت یہ ہے کہ یہ دونوں ضمیروں کی طرف لوٹتی ہیں إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ سے سمجھ آرہا ہے اور اب معنی اس طرح ہوگا ہم ان کے دلوں میں قرآن کو داخل کرتے ہیں یعنی ہم نے ان کو قرآن سنوایا اور ہم نے قرآن کے معانی اور اس کی ہدایت کو سمجھنے کے لیے ان کے دل و دماغ میں فہم اور ادراک عطا فرمایا لیکن یہ اپنی ضدکج بحثی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے قرآن مجید کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے اور ایمان نہیں لاتے اس معنی پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

علامہ ابو الحیان اند لسی نے لکھا ہے کہ غزنوی نے حسن بصری سے یہی روایت کیا ہے کہ ہم مشرکین پر حجت قائم کرنے کے لیے ان کے دلوں میں قرآن داخل کرتے ہیں یعنی ہم نے ان کے دل و دماغ میں قرآن کو سمجھنے کا ادراک پیدا کردیا ہے (البحرالمحیطج 6 ص 469، ) لیکن میں نے دیکھا کہ علامہ سمعانی علامہ زححشر اور سید مودودی کے علاوہ تمام مفسرین اور متر جمین نے دوسری صورت کو اختیار کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کافروں کو دلوں میں نبیوں کے ساتھ استہزاء کو داخل کردیتا ہے اور وہ قرآن پر ایمان نہیں لاتے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں کفر پیدا کردیتا ہے اب رہا یہ اعتراض کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہی ان کے دلوں میں کفر پیدا کردیا تو پھر ایمان نہ لانے میں کیا قصور ہے ؟ اس کا جوان یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے کفر کا ارادہ کیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کفرکو پیدا کردیا جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے وضاحت سے بیان کردیا ہے

کفار کے انکار اور استہزاء کی وجوہات۔

ان آیتوں میں یہ بتایا کہ کافر ہمیشہ سے نبیوں کا مذاق اڑاتے رہے ہیں اور ان پر ایمان لانے سے انکار کرتے رہے ہیں ان کے استہزا اور انکار کی حسب ذیل وجوہ ہیں

(1) وہ اپنی شہوت بر آری اور لزت اندوزی کے خوگر ہوچکے ہیں اور شریعت کا قلادہ اپنے گلے میں ڈال کر اپنی من پسند چیزوں سے دست برادر ہونا ان کے لیے مشکل تھا اور عبادت کی مشقتوں کو برداشت کرنا ان پر بھاری تھا۔

(2) وہ شروع سے جس مذہب سے وابستہ تھے وہ ان کے دلوں میں گھر کرچکا تھا اور اس کو چھوڑ نا ان کے لیے بہت مشکل تھا،

(3) رسول کی اطاعت کرنا ضروری ہوتی ہے اور وہ آزاد منش لوگ تھے ان کے لیے کسی کے غلامی اختیار کرنا بہت دشوار تھا۔

(4) اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول بھیجے ان میں سے زیادہ تر ایسے تھے جن کا پاس مال و دولت کی فراوانی نہ تھی اور نہ ان کے اعوان اور مددگار تھے اور منکرین بہت مالدار اور رئیس تھے۔ ان کے ماتحت بہت لوگ تھے اس لیے ان کو ان رسولوں کی اتباع کرنے میں عار محسوس ہوتا تھا۔

(5) وہ اپنے آباء اجداد کی تقلید سے بت پرستی میں راسخ ہوچکے تھے اور ان کے خلاف کوئی بات سننے پر تیار نہیں تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 10