أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ‏ ۞

ترجمہ:

ہم نے جس بستی کو بھی تباہ کیا اس کا نوشتہ تقدیر میں وقت میں وقت معین تھا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ہم نے جس بستی کو بھی تباہ کیا اس کا نوشتہ تقدیر میں وقت معین تھا۔ کوئی گروہ اپنے مقرر وقت سے نہ آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ ) الحجر :5 ۔ 4)

کفار مکہ کو زجرو توبیح۔

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرنے پر کفار کو اس ارشاد سے تہدید کی تھی کہ آپ ان کو کھانے میں اور دنیاوی فائدہ اٹھانے میں چھوڑ دیں اور ان کو ان کی میدوں میں مشغول رہنے دیں یہ عنقریب جاب لیں گے۔ اس کے بعد فرمایا ہم نے جس بستی کو بھی تباہ کیا اس کا توشتہ تقدیر میں وقت معین تھا البتہ ان پر عذاب آنے اور ان کی ہلاکت کے اوقات مختلف ہوتے رہے ہیں پس جو کفار پہلے زمانے میں تھے ان کے عذاب اور ان کی ہلاکت کا وقت پہلے مقرر تھا اور جو کفار ان کے بعد کے زمانے میں تھے ان کے عذاب اور ان ہلاکت کا وقت بعد میں مقرر تھا اس لیے اس کے بعد فرمایا : کوئی گروہ اپنے مقرر وقت سے نہ آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے اس آیت میں جو بستی کی تباہی اور ہلاکت کا ذکر ہے اس سے مراد وہ عذاب ہے جس نے بستیوں کو مکمل تباہ کردیا تھا جیسے حضرت نوح اور حضرت ھودعلیہما السلام کی قوموں پر عذاب آیا تھا اور بعض مفسرین نے کہا اس اس آیت میں ہلاکت سے مراد موت ہے اور قرب یہی ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے کیونکہ یہاں پر کفار کو زجر توبیخ اور تہدید کرنا مقصود ہے اور زجر وتوبیخ کے مناسب عذاب کا ذکر ہے نہ موت کا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے تو پہلے اس پر اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ حجت قائم کی اور حجت پوری ہونے کے بعد بھی جب ان لوگوں نے ہدایت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ کے نز دیک ان کی ہلاکت کو جو وقت مقرر تھا اس وقت کے آنے پر ان کو ہلاک کردیا۔ ان کو ان مقرر وقت سے پہلے ہلاک کیا اور نہ ان کی ہلاکت کو موخر کیا۔ اس میں اہل مکہ کو تہدید کی ہے کہ وہ شرک کو ترک کردیں ورنہ ان کی ہلاکت اور تباہی یقینی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 4